قیادت کا کردار

Muhammad Umair

ؒ تاریخ عالم کا مطالعہ بتاتا ہے کہ تاریخ کا دھارا قوموں نے نہیں ،قوموں کے سربراہوں نے بدلا ہے۔سکندر اعظم کے بارے میں پڑھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس نے عرب کے علاقے کو صرف اس وجہ سے فتح نہیں کیا تھا کہ جب چاہوں کاکرلوں گا۔اسی قوم کی سربراہی جب رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کی،جب ان کے صحابہ اس قوم کے حکمران بنے تو یہی عرب پوری دنیا پر چھاگئے۔ساری دنیا سرنگوں ہوئی ۔صرف حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں عراق، مصر، لیبیا، سرزمین شام، ایران، خراسان، مشرقی اناطولیہ، جنوبی آرمینیا اور سجستان فتح ہو کر مملکت اسلامی میں شامل ہوئے اورسلامی ریاست کا رقبہ (22,51,030) مربع میل پر پھیل گیا۔
چنگیر خان سے قبل منگولیا پر مختلف قبائل حکومت کرتے تھے،یہ قبائل آپس میں لڑتے جھگڑتے اور ایک دوسرے کا قتل کرتے تھے۔چنگیز خان کے والد کو بھی اسی قبائلی جنگ میں قتل کیا گیا۔جس کے بعد چنگیز خان نے تمام قبائل کو اکھٹا کیا۔پھر یہی قبائل جو ایک دوسرے سے لڑتے تھے پوری دنیا پر قابض ہوئے،انہوں نے سالوں سے حکمران رہنے والے مسلمان حکمرانوں کو شکست دی۔چین کو دو بار فتح کیا۔چنگیر خان نہ ہوتا تو نہ منگولیا سلطنت ہی نہ ہوتی،یہ قبائلی ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے ہی مرتے رہتے۔
پہلے مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر کا باپ ایک چھوٹی سی ریاست کا فرمانرواں تھا،مگر اس کے بیٹے نے اپنے عزم وہمت سے مغلیہ سلطنت کی بنیاد رکھی جو 3سوسال سے زائد عرصہ تک قائم رہی۔مغلیہ خاندان صرف تعمیرات کے حوالے سے جاناجاتا ہے مگر اس سلطنت کی بہترین معشیت کا اندازہ اس بات سے لگالیں کہ 1801 میں ایک روپیہ 25 برطانوی پاونڈ کے برابر تھا برصغیر کی معشیت دنیا بھر کی معشیت کا 25 فیصد تھی۔انگریز اس سلطنت کو سونے کی چڑیا کہتا تھا۔
قائداعظم اپنی جیب میں کھوٹے سکوں کے ہوتے ہوئے پاکستان بنا گئے۔یہ قائداعظم کی قیادت ہی تھی کہ سب رہنماوں کو یکجا رکھا اور اقلیت میں ہونے کے باوجود انگریز سے الگ ریاست حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اگر قائداعظم نہ ہوتے تو پاکستان نہ بنتے،ان کی جیب کے کھوٹے سکے تو بنی بنائی ریاست کو نہ چلا سکے اور 24سال بعد ہماری کوتاہیوں سے ہی ملک کا ایک حصہ الگ ہوگیا۔
اس طرح کی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ قومیں اپنے لیڈر کے ساتھ ملکر شیروں کی طرح لڑیں اور جب لیڈر نہیں رہے تو وہی قومیں غلام ہوئیں،تاریخ کا حصہ بن گئیں۔مسلمانوں نے کوئی بھی جنگ اکثریت کی وجہ سے نہیں جیتی یہ ان کی قیادت ہی تھی کہ اقلیت میں ہونے کے باوجود اکثریت پر حاوی ہوئے۔گزشتہ چند روز سے تحریک انصاف میں مختلف شخصیات کی شمولیت کے بعد یہ واویلا سر اٹھارہا ہے کہ ان کرپشن زدہ لوگوں کو لیکر تحریک انصاف کیسے انقلاب لائے گی؟کرپٹ افراد کو ساتھ ملاکر عمران خان کیسے کرپشن کے خلاف بات کریں گے؟جس کے منہ میں جو آرہا کہی جارہا۔تو عرض یہ ہے کہ خیبرپختوانخواہ کے موجود وزیر اعلی پرویز خٹک پیپلز پارٹی سے آئے تھے،ان کو وزیراعلی بناتے وقت بھی اعتراضات تھے پارٹی کے لوگوں کا خیال تھا کہ اسد قیصر کو وزیراعلی ہونا چاہیے مگر وزارت اعلی کا ہما پرویز خٹک کے سر بیٹھا،عاطف خان اور شہرام ترکئی جیسا نیا خون بھی شامل ہوا ،ان کو بھی وزارتیں ملیں،پنجاب پولیس میں رہنے والے ناصر خان درانی کو آئی جی بنایا گیا،عمران کی قیادت نے اس نئے خون،آزمائے گئے کارتوسوں سے کام لیا،اور پانچ سال میں اسی وزیراعلی کی کارکردگی سب کے سامنے ہے اور کرپشن کا ایک سکینڈل مخالفوں کے پاس نام لینے کو نہیں،اسی چلے ہوئے کارتوس ناصر درانی نے چند سالوں میں کے پی کے کی پولیس کو ملک کی بہترین فورس بنادیا جس کا اقرار خود مخالفین کرتے ہیں۔
اعتزازاحسن،قمر زمان کائرہ،جاوید ہاشمی،ندیم افضل چن پاکستانی سیاست کے چند معتبر نام ہیں،ان کو قیادت نہیں ملی سکی تو انہوں نے اپنی سالہا سال کی سیاست سے کیا کرلیا ہے،ان بہترین دماغوں کوپارٹی کی کرپشن کے دفاع پر لگادیا گیا۔30سے چالیس سالہ سیاسی دور میں انکے ہاتھ کوئی اچیومنٹ نہیں اور 5سالوں میں پرویز خٹک فخر سے کہہ سکتے کہ انہوں نے پولیس ٹھیک کی،عوام کا سرکاری سکولوں پر اعتماد بحال کیا،ڈیڑھ لاکھ بچہ پرائیوٹ سکول چھوڑ کر سرکاری سکولوں میں آیا جبکہ پنجاب حکومت اس عرصہ میں 5ہزار سکول پرائیوٹائز کرچکی ہے اور مزید 10ہزار سکول پرائیوٹائز کرنے کی تیاری جاری ہے۔پرویز خٹک کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے جنگ زدہ صوبے میں امن وامان بحال کیا،ہسپتالتوں کی حالت زار بہتر کی،سب کچھ ٹھیک نہیں ہوا مگر عمران خان کی قیادت میں صوبہ درست سمت میں چل پڑا ہے۔کسی دانا نے کہا تھا کہ ہر مجرم کا مستقبل اور ہر ولی کا ماضی ہوتا ہے۔ماضی سے غرض نہیں ،ہم کو اپنے حال اور مستقبل کی فکر ہے۔اگر پرویز خٹک،عاطف خان،شہرام ترکئی اور ناصر درانی سے کام لیا جاسکتا تو جو بھی تحریک انصاف کی ٹیم میں آئے گا اسے کام کرنا پڑے گا۔آزمائش شرط ہے اور عمران خان صوبائی حکومت کی آزمائش میں پورا اترا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *