پاکستانی سیاست کے نریندر مودی

mujeeb-ul-rehman
وزیر اعظم نواز شریف شنگھائی تعاون تنظیم کی مکمل رکنیت کا پروانہ لے کر قازقستان کے دارالحکومت آستانہ سے خوش و خرم لوٹے ہیں۔ یہاں انہوں نے روس کے صدر پیوٹن، افغانستان کے صدر اشرف غنی اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے تفصیلی تبادلہ ٔ خیال کیا۔ مسئلہ کشمیر کے حل کی ضرورت پر زور دیا، اور اپنے تمام ہمسایوں کو پیشکش کی کہ (کم از کم) پانچ سال کے لئے تو اچھی ہمسائیگی کا معاہدہ کر لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں آئندہ نسلوں کے لئے امن اور دوستی کا ورثہ چھوڑنا چاہیے، اور دہشت گردی سمیت تمام مسائل بات چیت کے ذریعے طے کرنے چاہئیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم کی بنیاد 15 جون2001ء کو شنگھائی میں رکھی گئی تھی۔ چین، روس، قازقستان، کرغستان، تاجکستان اور ازبکستان اس کے بنیادی ارکان تھے۔ جون 2002ء میں اس کے چارٹر پر باقاعد دستخط کئے گئے۔ افغانستان، ایران، بیلاروس اور منگولیا اس میں مبصر کے طور پر شریک ہوتے ہیں۔ اس کا صدر دفتر بیجنگ میں ہے، سیاسی، معاشی اور دفاعی تعاون بڑھانا اس کے مقاصد میں شامل ہے۔ یہ محض سیاسی اور معاشی امور پر تبادلۂ خیال کا فورم نہیں ہے، ایک دوسرے کی سلامتی (SECURITY) سے جڑے معاملات بھی اس کے دائرہ کار میں آتے ہیں، اور یوں اس کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔ معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ چین اور روس کی طرف سے اِس بات کی باقاعدہ کوشش ہو رہی تھی کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تلخی کم ہونے کی صورت پیدا ہو۔ دونوں ممالک کے رہنمائوں (وزیر اعظم نواز شریف اور نریندر مودی) نے مصافحہ تو کیا، ایک دوسرے کی خیریت بھی دریافت کی لیکن کسی باقاعدہ ملاقات کی خبر نہیں آئی۔ دونوں ممالک کو جغرافیے نے باندھ رکھا ہے اور وہ ایک دوسرے کے بارے میں غم و غصے کا جو بھی اظہار کریں، اور ایک دوسرے کو زچ کرنے کی جو بھی آرزو پالیں، انہیں ایک دوسرے کے ساتھ زندہ رہنے کا سبق یاد کرنا ہو گا۔ 
بھارت پاکستان سے کئی گنا بڑا ہے۔ اس کا رقبہ اور وسائل کہیں زیادہ ہیں۔ یہ حقیقت پاکستان کی نگاہ سے کبھی اوجھل نہیں رہی۔ قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے جب یہ کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کینیڈا اور امریکہ جیسے تعلقات ہوں گے، تو ان کے اس جملے میں اس حقیقت کا ادراک موجود تھا کہ بھارت پاکستان کے مقابلے میں بڑا اور طاقتور مُلک ہو گا۔ انہوں نے اسے امریکہ سے تشبیہ دی تھی، اور پاکستان کو کینیڈا کہہ کر پکارا تھا۔ اس کا مطلب یہی تھا کہ ''امریکہ‘‘ جیسے مُلک کے ساتھ جڑا ہوا ''کینیڈا‘‘ پوری آزادی کے ساتھ اپنے معاملات طے کرنے کا مجاز ہو گا، یہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے حریف نہیں ہوں گے، بلکہ اپنے اپنے مقام پر اپنے اپنے عوام کی فلاح کا سامان کر رہے ہوں گے۔ دونوں کے درمیان مثالی تعلقات ہوں گے اور آمد و رفت کے لیے ان کے شہریوں کو ویزا کی ان الجھنوں سے بھی نہیں گزرنا پڑے گا‘ جو دوسرے ممالک کو درپیش رہتی ہیں۔ بھارت اگر پہلے دن ہی سے پاکستان کا ہاتھ پکڑتا، اور اس کے لیے مسائل پیدا کرنے کے خبط میں مبتلا نہ ہوتا تو ہماری تاریخ مختلف ہو سکتی تھی۔ بھارت کے معاندانہ رویّے ہی نے پاکستان کو دور و نزدیک دوستوں کی تلاش پر مجبور کیا، اور اسے اپنے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے دوسرے ممالک کے ساتھ معاہدے کرنا پڑے۔ سیٹو اور سنٹو کے بارے میں آج جو بھی کہا جائے، پاکستان کی دفاعی اور معاشی صلاحیتوں کے فروغ میں انہوں نے بہت اہم کردار ادا کیا، اور یوں پاکستان پورے قد سے کھڑا ہونے کے قابل ہوا۔
آج دُنیا بدل چکی ہے۔ عالمی گرم و سرد جنگیں قصہ ٔ ماضی بن چکی ہیں۔ اختلافات کے باوجود مختلف ممالک کے درمیان تعاون بھی جاری رہتا ہے۔ چین کی اُبھرتی ہوئی طاقت کو امریکہ کی برتری کے لیے بڑا چیلنج سمجھا جاتا ہے، لیکن دونوں کے درمیان معاشی اور سماجی رشتے ٹوٹ نہیں پائے۔ روس کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے۔ بھارت کے ساتھ چین کے شدید سرحدی تنازعات موجود ہیں، ایک دوسرے کے علاقوں پر حق بھی جتایا جاتا ہے، لیکن تجارت بھی فروغ پا رہی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان معاملہ البتہ مختلف ہے، ایک دوسرے کا سماجی اور اقتصادی مقاطعہ کرنے پر بھی زور دیا جاتا رہتا ہے، اور ایک دوسرے کو دہشت گردی کا مرتکب بھی قرار دیا جاتا رہتا ہے۔ دونوں کے درمیان مسابقت کی دوڑ نے دونوں کو ایٹمی طاقت بنا دیا۔ فوجی اعتبار سے پاکستان اپنے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستانی فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی پوری دُنیا معترف ہے، لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ دفاعی مضبوطی مسائل کو پُرامن طور پر حل کرنے کے لئے ضروری ہوتی ہے۔ اگر طاقت کا توازن قائم نہ ہو تو پھر برابری کی سطح پر مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ برابری کی سطح پر مذاکرات ممکن نہ ہوں تو پھر مسائل کا منصفانہ حل دریافت نہیں کیا جا سکتا۔ فوجی طاقت جتنی بھی زیادہ ہو، معاملہ سازی میں اسی قدر آسانی ہو سکتی ہے۔ اگر اسے جنگ کے میدان میں جھونک دیا جائے گا تو پھر تباہی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ مسائل کا فوجی حل تلاش کرنے کے خواب دیکھنا اپنے آپ پر خود کش حملہ کرنے کے مترادف ہے۔ پاکستان اور بھارت اب شنگھائی تعاون تنظیم کے مستقل رکن بن کر ایک دوسرے کو مبارکباد دے چکے ہیں۔ اس تنظیم میں پاکستان کا دوست چین اور بھارت کا ماضی کا حلیف روس پوری شدت کے ساتھ موجود ہیں۔ توقع کی جانی چاہیے کہ ان کا اثر و رسوخ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے، اور مختلف مسائل کا قابلِ قبول حل تلاش کرنے میں مدد گار ثابت ہو گا۔
وزیر اعظم نواز شریف دو دن آستانہ کی فضائوں میں سُکھ کا سانس لینے کے بعد واپس اسلام آباد پہنچے تو یہاں ان کا استقبال پھر اندرونی مسائل نے کیا۔ پاناما کا ہنگامہ جاری ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور اس کے مخالفین ایک دوسرے کو للکار رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کو الزامات کی تحقیقات کے لیے قائم جے آئی ٹی سے شکایات ہیں، اس کی تشکیل سے لے کر اس کے رویّوں اور ماحول تک پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کئی باتوں میں بڑا وزن پایا جاتا ہے۔ اب تو نیشنل بینک کے صدق گفتار صدر سعید احمد نے بھی توہین آمیز سلوک کی شکایت رجسٹرار سپریم کورٹ کو باقاعدہ لکھ کر بھیج دی ہے۔ غیر جانبدار اخبار نویس عمر چیمہ نے جس طرح اپنے اخبار میں جے آئی ٹی اور جوڈیشل اکیڈمی پر ایجنسیوں کے تسلط کا نقشہ کھینچا ہے اس نے غیر جانبدار حلقوں کی تشویش اور اضطراب میں بے حد اضافہ کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے فاضل ججوں نے اگر اس سب کو نظر انداز کیا، تو اس کے اثرات کیا ہوں گے، اسے دیکھنے کے لئے کسی ژرف نگاہی کی ضرورت نہیں ہے۔ تحریک انصاف اور اس کے لیڈر عمران خان شعلہ بیانی میں مصروف ہیں، پیپلز پارٹی ان کے ساتھ کھڑا ہونے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن اس کے اپنے پرندے اس سے سنبھالے نہیں جا رہے، اس کے دگر گوں معاملات کو دیکھ کر وہ دانے دنکے کی تلاش میں تحریک انصاف کی چھتری میں پناہ لے رہے ہیں۔ تحریک انصاف مسلم لیگ (ن) کے حریف اول کے طور پر سامنے ہے، لیکن دونوں کو ایک دوسرے کی طاقت کا اندازہ رکھنا ہو گا۔ وزیر اعظم نواز شریف تمام تر حملوں کے باوجود اپنے اوسان اور اعصاب پر قابو رکھے ہوئے ہیں۔ شریف خاندان کے سارے دشمن یک جا ہو کر بھی انہیں حواس باختہ نہیں کر سکے۔ پاناما لیکس کے حوالے سے جو بات شروع ہوئی تھی سپریم کورٹ کے فاضل جج صاحبان کی مہربانی سے اس کا دائرہ کہیں بڑا ہو چکا ہے۔ بظاہر شریف خاندان سے ایک ایک پائی کا حساب طلب کیا جا رہا ہے، لیکن دوسرے حکمران خاندان دندناتے پھر رہے ہیں، اور تو اور پانامہ لیکس میں پاکستان کے جن چار سو کے لگ بھگ خانوادوں کا نام آیا تھا، ان میں سے کسی ایک کو بھی نہ عدالت نے پوچھا ہے، نہ سیاست نے۔ تمام تر توانائیاں شریف خاندان پر لگی ہیں، لیکن سو باتوں کی ایک بات یہی ہے کہ اصل معرکہ عوامی عدالت ہی میں لڑا جانا ہے۔ مسلم لیگ (ن) ہو، تحریک انصاف ہو یا پیپلز پارٹی، ایک دوسرے کو اکھاڑے سے باہر کرنے کے لیے انہیں انتخابی اکھاڑے ہی میں اترنا ہو گا۔ سیاست میں کسی کو نریندر مودی بننے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے کہ یہاں فیصلہ توپوں، دہشتوں اور سازشوں نے نہیں ووٹوں نے کرنا ہے۔ عوام جس کو چاہیں گے وہی سر کا تاج ہو گا۔ پیا جسے چاہیں، وہی سہاگن ہو :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *