غامدی صاحب کی ایجاد سے پہلے

صدف زبیری

sadaf zubairi

غالباً آٹھ سال کی عمر تھی گرمیوں کے روزے تھے میں نے اور بھائی نے ضد باندھ رکھی تھی روزے رکھنے ہیں مگر اجازت نہیں مل رہی تھی سو ایک رات چپکے سے دوپٹے سے امی کے پاوں کے ساتھ اپنے پاوں باندھ کر سو گئے۔ سحری میں جیسے ہی امی اٹھیں ساتھ ہماری آنکھ بھی کھل گئی اور منع کرنے کے باوجود ضد کر کے روزہ رکھ لیا صبح دس بجے ابو نے اٹھایا اور کہا
روزہ رکھنے کا امتحان ہو گا آج تم دونوں کا ۔۔۔جس نے پاس کر لیا اسے روزے رکھنے کی اجازت ہو گی ورنہ اگلے سال سے ۔۔۔
ہم شوق کے مارے تیار ہو گئے ابو نے ہمیں لیا اور گھر کے نزدیک مارکیٹ جو تقریباً تین کلو میٹر دورہو گی پیدل روانہ ہوئے ۔۔اب سر پر سورج برس رہا ہے پہلا روزہ ہےہونٹ خشک ہوئے جاتے ہیں ابو بار بار پوچھ رہے ہیں
روزہ چلنے دیں یا پانی پی لیں ؟ اور ہمارا جواب وہی ایک انکار ۔۔۔
مارکیٹ پہنچ کر کچھ دیر سائے میں آرام کیا پھر وہی گرمی وہی سورج ۔۔۔وہی روزہ اور پیدل چلتے ہم ۔۔۔
تھکے ہارےگرتے پڑتے ایک بجے گھر پہنچے پاوں ٹوٹے جا رہے تھے لیکن روزہ سلامت رہا ۔۔ہم نےامتحان پاس کر لیا اور روزے رکھنے کی اجازت مل گئی اس کے بعد ہر طرح کے موسم اور صورتحال میں روزے آئے جب بھی بات برداشت سے باہر ہوئی پہلے روزےکے تپتے سورج تلے سفر کی کسوٹی کو اٹھایا اور تکلیف کو اس پر پرکھ لیا کہ اگر زیادہ ہوئی تو روزہ چھوڑ دیں گے شومئ قسمت ہمیشہ کم ہی نکلی اور روزہ بچتا رہا ۔۔۔
آج سوچتی ہوں ابو نے اس دن وہ ظالمانہ فیصلہ کیوں اور کیسے کرلیا تو صرف ایک ہی جواب ذہن میں آتا ہے ۔۔
تب تک غامدی صاحب ایجاد نہیں ہوئے تھے ۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *