نواز شریف حاضر ہوں !!!

naeem-baloch1

یہ کوئی انہونی نہیں ۔جس ملک کا پہلا وزیراعظم ایک مجہول قسم کے سپاہی کی گولی کا نشانہ بنا ہو، جس ایک دوسرا عوامی وزیراعظم (حسین شہید سہروردی)بیرون ملک ہلاک کر دیا جائے اور کسی کو خبر بھی نہ ہو ، جس کے دوسرے منتخب وزیراعظم (ذوالفقار علی بھٹو) کو ایک طالع آزماآئین توڑ کر جیل بھیج دے اور ملک کے سارے اداروں کو قبضے میں لے کر اسے عدالت کے آگے ڈال دے اور پھر اپنی مرضی کے ججوں سے اسے پھانسی کی سزا دلوا دے ، جس کے منتخب وزرا ء اعظموں کی جاسوسی کرکے انھیں آپس میں لڑوا جائے اور ان کے خلاف مرضی کے اتحاد بنوائے جائیں ، انھیں ڈکٹیشن لینے پر مجبور کیا جائے ، وہ نہ مانیں تو انھیں ہمیشہ کے لیے سیاست سے بے دخل کرنے کے لیے آئین میں تبدیلی کر دی جائے ۔ ان کے خلاف مقدمات کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع کر دیا جائے ، ان کی پارٹیوں میں اپنے تنخواہ داروفادار شامل کے دیے جائیں ۔ وہ پھر بھی سخت جان نکلیں تو ایک کوانتہائی پراسرار حا لات میں دہشت گردی کی نذر کر دیاجائے اور دوسرے کا سیاسی مقابلہ کرنے کے لیے ’’انتہائی مہذب ‘‘ قسم کی اپوزیشن اس کے پیچھے لگا دی جائے ،اس کے باوجود وہ ہار نہ مانے تو اس کے وہ کمزور پہلو سامنے لائے جائیں جس سے وہ زچ ہو جائے ۔اور اس کاآغاز پانامہ سکینڈل کی دوسری اننگز سے کیا گیا ہے جسے جے آئی ٹی کا نام دیا گیا ہے اور جس کے بارے میں سب سے بہترین تبصرہ محترمہ عاصمہ جہانگیر نے کیا ہے کہ یہ بندروں کے ہاتھ میں استرا پکڑانے کے مترادف ہے ۔ اس لیے پانچ بار حسین نواز اور دو بار حسین نواز کی حاضری کے بعد بھی کچھ برآمد نہیں ہوا تو نواز شریف کو بلا لینے سے کوئی قیامت نہیں آئی گی ۔
امید واثق ہے کہ وزیراعظم ، کمانڈو جی( فاتح کارگل و لال مسجد سید عالی مقام پرویز مشرف ) سے زیادہ صحت مند ثابت ہوں گے اوران کی گاڑی کا رخ کسی اسپتال کی طرف مڑنے کے بجائے منزل مراد ہی طرف رہے گا ، ان کو نہ دل کا دورہ پڑے گا ، نہ کوئی ’’چک ‘‘ پڑے گی اور عدالت کے حکم پر عمل کرنے میں ان کی دم پر پاؤں بھی نہیں آئے گا ۔ البتہ انھیں نہال ہاشمی قسم کے پھونپیوں، طلال چودھریوں اور دانیال عزیز جیسے نادان خوشامدیوں سے پر ہیز کرنا پڑے گا ۔ اور ان کے منہ پر اسی طرح کی چھکی چڑھانی پڑے گی جس طرح بچھڑوں کے منہ پر چڑھائی جاتی ہے کہ مبادا وہ کوئی غلط چیز کھا لیں یا غلط موقع پر بول پڑیں۔ دنیا اچھی طرح جانتی ہے یہ سارا کیس اصل میں ان کو زچ کرنے کے لیے ہے۔ یہاں تو دس برس پرانی گاڑی کی ٹیکس رسیدیں نہیں ملتیں اوران سے پچاس برسوں پرانا حساب مانگا جا رہا ہے ۔
کون کہتا ہے سیاست میں اب کوئی نظریہ نہیں رہا ۔حضور یہ جمہوریت اور عدم جمہوریت کی جنگ ہے ۔ یہ ووٹ سے تبدیلی یا ’حکم‘ کے ذریعے سے بے دخلی کا معرکہ ہے۔ایک طرف عوامی شعور کے ذریعے سے بات منوانے کا نظریہ ہے تو دوسری طرف عوام کو جاہل قرار دے کر ان کے بنیادی حقوق سلب کرکے ان پر پر مسلط ہونے کا خبط ہے۔ ایک طرف جمہوریت پر ایمان رکھنے والے ہیں تو دوسری طرف ایمپائروں کی انگلیاں جیب میں رکھنے والے نادان۔
یقین جانیے جب وزیراعظم جے آئی ٹی میں پیش ہوں گے تو جمہوریت مضبوط اور آمریت کے بزدل ہونے پر مہر تصدیق ثبت ہو گی۔
اور جمہوریت پسندوں کے لیے ایک خوش خبری بھی ہے ۔ وہ یہ کہ جب طاہر القادری میدان میں آجائیں تو سمجھ جائیں کہ کالی بلی عمران اینڈ کمپنی کے آگے سے گزر گئی ہے !

نواز شریف حاضر ہوں !!!” پر ایک تبصرہ

  • جون 13, 2017 at 2:13 AM
    Permalink

    ایک اچھی ذاتی رائے۔۔۔۔ اور ذیادہ تر ذاتی رائے پر اعترض مناسب نہیں ہوتا۔۔۔۔

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *