جنات کے ہاں بچے کی پیدائش کا سچا واقعہ

مثال شجاعت

Misal Shujjat

قرآن مجید میں جنوں کی موجودگی کا ذکر ہے لیکن دنیا بھر میں جنات سے متعلق جو بھی خبر گردش کرتی ہے وہ ہمیشہ خوفناک اور ڈراونی ہوتی ہے۔ 19 ویں صدی کے دہلی شہر میں لوگ بچوں کو جنوں کی کہانیاں سنا تے ہوئے جنوں کو ایک خوفناک تخلیق قرار دیتے تھے۔ کچھ لوگ بچوں کو ایسی کہانیاں سناتے تھے جن سے یہ ظاہر ہوتا کہ جن بھی اللہ کی مخلوق ہیں اور یہ اچھے بھی ہو سکتے ہیں اور برے بھی۔ ہر انسان کی طرح جن بھی اچھے اور برے اعمال پر اللہ کے سامنے جوابدہ ہیں۔ کافی عرصہ قبل جب دہلی ایک خاموش شہر تھا اور یہاں گھوڑوں بھی بھگیاں سڑکوں پر بھاگتی نظر آتی تھیں اور کاریں بہت کم نظر آتی تھیں تب دہلی میں ایک عمر رسیدہ خاتون رہتی تھیں جن کا نام بانو بیگم تھا۔ آس پاس کے لوگ انہیں بائی کہہ کر پکارتے تھے۔ وہ علاقے کی سب سے مشہور دائی تھیں۔ انہوں نے بہت سی خواتین کو زچگی کی مشکلات سے نجات دلائی اور بچہ پیدا کرنے میں ان کی مدد کی ۔ علاقے کی ہر عورت کو بائی پر پورا بھروسہ تھا۔ لیکن بائی پر بھروسہ کرنا ایک خطرناک عمل اس لیے تھا کہ بائی دونوں آنکھوں سے اندھی تھی۔ اپنی 38ویں برتھ ڈے کے بعد اچانک بائی کو معلوم ہوا کہ ان کی نظر اب کام کرنا چھوڑ چکی ہے۔ اس دن ان کی بہن کی ڈلیوری کا دن تھا اور بائی کو بصارت کھو دینے پر بہت تکلیف پہنچی تھی۔ بائی کو اپنی بہن کے کمرے میں لے جایا گیا تا کہ اس کی بہن کو پریشانی نہ ہو۔ بائی نے اپنی بہن کے بچہ کی پیدائش میں ہر ممکن مدد کی اور پیدائش کا عمل بغیر کسی مسئلہ کے تمام ہوا۔

جب بائی کی نظر چلے جانے کی خبر پھیلی تو لوگ اس پر اپنے اعتماد میں تھوڑا کمزور پڑنے لگے۔ لیکن جب کسی کو مدد کی ضرورت پڑتی بائی اس کی مدد ضرور کرتی تھی۔کئی سال گزر گئے اور بائی کی عمر بھی ڈھلتی گئی۔ اب نظر کی کمزوری سے بائی کی مشکلات بڑھنے لگی تھیں۔ جب بائی کی عمر 66 سال ہوئی تو ایک رات دروازے پر دستک سنائی دی۔ ہر کوئی سو رہا تھا اور صرف بائی کی اسسٹنٹ بیدار تھی۔ اس نے اٹھ کر دروازہ کھولا اور سامنے ایک بڑے قد کے مرد کو کھڑے پایا۔ اس نے اپنا جسم اور چہرا ایک چاد ر میں چھپا رکھا تھا۔

اس نے سنجیدہ آواز میں کہا کہ مجھے بائی سے ملنا ہے۔ ایک ایمرجنسی ہے ۔ ہمیں بائی کی مدد کی ضرورت ہے۔ اسسٹنٹ اس شخص سے گھبرا کر جلدی سے بائی کو جگانے کےلیے گیا۔ بائی کبھی کسی کی مدد سے انکار نہیں کرتی تھی۔ اس نے اپنا دوپٹہ لیا ، چادر میں اپنے آپ کو لپیٹا اور بھگی پر بیٹھ گئی اور ساتھ اپنے اسسٹنٹ کو بھی لے لیا۔ لیکن وہ شخص چاہتا تھا کہ صرف بائی ان کے ساتھ جائیں اور اسسٹنٹ کو ساتھ نہ لے جایا جائے۔ بائی نے درخواست مان لی اور اسسٹنٹ کو گھر رکنے کا کہا۔ پورے راستے اس شخص نے بات تک نہیں کی۔ بھگی شہر کے اندر تک گلیوں میں پہنچ گئی۔ صرف تیل کی لالٹین سے تھوڑی سے روشنی آ رہی تھی۔ اس کے علاوہ ہر طرف دھند اور دھول تھی۔

آخر کار وہ ایک پرانی حویلی پہنچے۔ یہ ایسی حویلی تھی جو کبھی کبھار بہت خوبصورت ہو اکرتی تھی لیکن اب یہاں پر عجیب غریب پودے اگ چکے تھے اور دیواروں میں بھی دراڑیں پڑ چکی تھیں۔ آس پاس کوئی دوسرا گھر نہیں تھا اور نہ کہیں سے کوئی آواز سنی جا سکتی تھی۔ البتہ ہوا اور گھوڑوں کے ہنہنانے کی آوازیں سنی جا سکتی تھیں۔ اس شخص نے بائی کو کہا کہ آپ میرے ساتھ چلیں۔ اور پھر وہ حویلی کے اندر چلا گیا۔ وہ بائی کو اپنے ساتھ برامدے سے ایک بڑے روم میں لے گیا۔ اس کمرے میں تقریبا 20 لوگ موجود تھے ۔ ان میں عورتیں اور بچے موجود تھے لیکن کوئی نظر نہیں آرہا تھا۔ یہ بائی کے لیے کوئی نئی چیز نہیں تھی کیونکہ وہ اندھی تھیں لیکن اس کمرے میں کچھ ایسا تھا جو اسے عجیب لگ رہا تھا۔ اس کی سانس پھول رہی تھی۔

Image result for jinnat

مرد نے اسے بیڈ کی طرف بلایا اور کہا: میری بیوی تکلیف میں ہے۔ کوئی سمجھ نہیں پا رہا کہ اس کی کیسے مدد کی جائے اور مسئلہ کیا ہے۔ پلیز ہماری مدد کرو۔تب بائی کو احساس ہوا کہ وہ لوگ انسان نہیں جن تھے۔ بائی اس خاتون کو دیکھ نہیں پا رہی تھی لیکن اس کی تکلیف کو محسوس کر سکتی تھی، اپنے ہاتھوں کے نیچے اس کے جسم کو محسوس کر سکتی تھی ۔ اس غریب مخلوق پر ترس کھاتے ہوئے بائی نے خوف کو ایک طرف رکھ کر بچہ کی پیدائش کا عمل شروع کیا۔ جب اس نے کام شروع کیا تو انسان اور جن کا فرق ختم ہو گیا۔ اب اس کی توجہ کام پر تھی اور کئی گھنٹے کی محنت کے بعد ایک چیخ اٹھی اور بچہ دنیا میں آ گیا۔ جن نے بائی کا شکریہ ادا کیا لیکن بائی اس کمرے میں گھٹن محسوس کرتے ہوئے بے ہوش ہونے لگی۔ اس نے مرد کو درخواست کی کہ اسے واپس اپنے گھر پہنچا دیا جائے کیونکہ کام تو مکمل ہو چکا ہے۔ جن نے کہا کہ ہم آ پ کو خالی ہاتھ نہیں جانے دیں گے۔ آپ ہماری طرف سے ایک تحفہ قبول کریں۔

بائی نے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ صرف واپس اپنے گھر جانا چاہتی ہیں۔ میں کہہ رہا ہوں نہ کہ دوپٹہ پکڑ لو؟ بائی نے ایسا ہی کیا۔ اپنی جھولی پھیلائی اور اس شخص کے تحفے کو قبول کر لیا۔ ان کا دوپٹہ بہت بھاری ہو گیا۔ شاید اس شخص نے بہت بھاری کوئلے ڈال دیے تھے۔ اس نے اس شخص کا شکریہ ادا کیا اور اپنے گھر لےجائے جانے کی ایک بار پھر سے خواہش ظاہر کی۔ جب جو بھگی میں بیٹھے تو سورج نکل رہا تھا۔ پیدائش کا عمل پوری رات کے بعد مکمل ہوا تھا۔ اسے کوئلے بہت بھاری لگ رہے تھے اور وہ یہ کوئلے اٹھا کر گھر نہین جانا چاہتی تھی۔ راستے میں ایک ایک کر کے وہ کوئلے زمین پر پھینکتی رہی۔ جو بچ گئے وہ اسے نے دوپٹے میں باندھ لیے اور گھر پہنچ کر بیڈ کے پاس ایک الماری میں رکھ دیے۔

صبح جب اس کا خاوند اور اسسٹنٹ اسے جگاتے تو وہ اس سے اس شخص کے بارے میں پوچھتے۔ کہانی سن کر بائی کے خاوند نے پوچھا کہ کیوں نہ وہ اس ساری تکالیف کی قیمت ادا کریں جو انہوں نے اسے دی ہیں۔انہوں نے ایسا ہی کیا۔ انہوں نے اسے بڑے بڑے کوئلے دیے۔ یہ اتنے بھاری تھے کہ مجھے لگا میرے بازو ان کے وزن سے ٹوٹ جائیں گے۔ میں نے زیادہ تر کوئلے پھینک دیے۔ جو بچ گئے ان سے ہم سردیوں میں چولہا جلا لیتے ہیں۔ یہ میرے بیڈ کے پاس ایک الماری میں پڑے ہیں۔

اسسٹنٹ بائی کے بیڈ روم سے اس کا دوپٹہ کوئلوں سے نکال کر لایا۔ لیکن جب وہ واپس آئی تو اس کا چہرہ خوشی سے گلابی نظر آ رہا تھا اور وہ چیخ رہی تھی: بھائی، یہ انگارے نہیں ہیں۔ یہ تو کھرے سونے کے ٹکڑے ہیں۔


source: http://blogs.tribune.com.pk/story/50581/the-midwife-of-delhi/

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *