اک تصویر کے سامنے آنے پر

Muhammad-saeed-azhar

اک تصویر کے سامنے آنے پر‘‘ کے عنوان سے گزرے کالم ’’چیلنج‘‘ میں جاری گفتگو کی تکمیل کرتے ہیں..... عرض کیا تھا، بی بی شہید کے صاحبزادے بلاول بھٹو نے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بھی ہیں، جے آئی ٹی کے سامنے حسین نواز کی پیشیوں اورجوڈیشل اکیڈمی کے درو دیوار سے باہر آنے والی تصویر جیسے واقعات پر کہا ’’تھوڑی سی تکلیف سے نواز فیملی کی چیخیں نکل گئی ہیں، ‘‘بلاول کو کچھ یاد کرانا ناگزیر ہو گیاہے۔ بی بی شہید جو آپ کی قابل فخر والدہ محترمہ بھی ہوتی ہیں، چندسال قبل ’’میثاق جمہوریت‘‘ کا سندیسہ لےکر میاں نوازشریف کے پاس گئی تھیں، تب انہیں آپ سے زیادہ اپنے مصائب یاد تھے مگر وہ گئیں کیوں؟ پاکستان کے لئے، پاکستانی عوام کے لئے، نوازشریف سے کہا ’’آئو! میں بھولتی ہوں، میں براشت کرتی ہوں، میں اپنے زخم سینے لگی ہوں، ساتھ چلو وطن کی دھرتی ہمیں بلا رہی ہے‘‘ تو میاں! عظمت درگزر میں ہے اور آپ کی والدہ کو تو عالمی برادری نے برداشت کا عالمی ایوارڈ پیش کیا۔ اس ایوارڈ کی عزت ان کی ذات سے ہوئی۔ آپ اس کے فرزند ہو جس نے ضیاء کی موت پر کہا تھا ’’میں اس کا معاملہ اللہ کے سپرد کرتی ہوں‘‘ آپ کو ملک کے آئین اور آئینی سفر سے کھلواڑ کا اندازہ ہو تو اس وقت آپ کی سیاست و وراثت اسی سپریم کورٹ کو مخاطب کرکے کہتی ’’مجھےآپ پر مکمل اعتماد ہے می لارڈ!‘‘اور پھراسی فیصلے پر تختہ دارکو سرفراز کردیتی۔بلاول پاکستان پیپلزپارٹی، اس کی نظریاتی فکر اور سیاسی وراثت کو کبھی فراموش نہ کریں۔ یہ نظریاتی فکر اورسیاسی وراثت پاکستان پیپلزپارٹی کاوہ عوامی اثاثہ ہے جس کے دوش پر پاکستان کے شہری نےہی نہیں جنوبی ایشیا کے عام آدمی نےبھی سر اٹھا کر چلنے اور سینہ تان کر جینے کے آدرش کو اپنا وچن دے رکھا ہے۔ ایسے عظیم تاریخی مرتبے کےساتھ آپ ان سیاہ راتوں کو زندگی کاحصہ نہیں بناتے جنہوں نے ان لوگوں کی زندگیوں کے چراغ گل کرکے اپنی رجعت پسندیوںاور انسانی جبریت کی دیواریں تعمیر کی ہوں، جنہوں نےانسانوں کی حفاظت میں سربلند رہ کے ایسے گروہوں سے ہمیشہ یہ سوال کرنے کی جرأت کی ’’لوگ اپنی مائوں کے پیٹوں سے آزاد پیدا ہوتے تھے تم نے انہیں غلام کب سے سمجھ لیا‘‘جو ایسی نظریاتی فکر اور سیاسی وراثت کے امین ہوں،ان کی جدوجہد کے دروازے سمندروں کی وسعت کے مانند ہوتے ہیں۔ اجتماعی عظمتوں کے حصول میں ان وسعتوں میںظالموں کی چیرہ دستیاں بالآخر غرق ہو جاتی ہیں!
یہ وہ مرحلہ ہے جہاں بلاول کے سامنے اس کے نظریاتی اورسیاسی ورثےکی فیصلہ کن جھلکیاں پیش کرنا پاکستان کی عوامی عدالت میں سرخرو ہونے کے مترادف ہے۔ بھٹو کی آئینی حکومت کے غاصب جنرل ضیاء کے ہاتھوں موت کی کوٹھڑی میں مقیّد ذوالفقارعلی بھٹو نے کہا تھا:’’تیسری دنیا کے اتحاد و ترقی کو سب سے بڑا خطرہ فوج کا جبری طور پر حکومتوں پر قابض ہونا ہے۔ نوآبادیاتی زمانے کامکمل طور پر خاتمہ ہو چکا ہے۔ صرف چندمقامات ایسے رہ گئے ہیں جہاں ابھی نوآبادیاتی نظام کو دفن کرنا باقی رہ گیاہے۔دوسری جگہوں پر بھی تدفین کا وقت بہت قریب آچکا ہے۔ تیسری دنیا کوغیرملکی تسلط کے خلاف جدوجہد کرناہوگی اوراس تسلط کے خلاف بہترین دفاع یہ ہے کہ فوج کو منتخب حکومتوں کا تختہ الٹنے سے روکاجائے..... فوج کا منتخب حکومت کا تختہ الٹنا قومی اتحاد کا بدترین دشمن ہے۔ فوجی بغاوتوںکے ذریعے لوگوں کو منقسم اور ان کی بنیادوں کو ختم کیاجاتا ہے۔ اگر کسی کو اس موضوع پر کسی قسم کا شک ہے تو اس کو چاہئے کہ وہ پاکستان میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات کو بغور دیکھے جو تیسری دنیا کے لوگوں کو دکھاتےہیں کہ وہ اگرغیرملکی برتری یا تسلط کے خلاف مزاحمت کرناچاہتے ہیں تو سب سے پہلے انہیں اندرونی دشمن کے خلاف دفاع کرنا ہوگا۔فوجی اقتدار ہی وہی پل ہے جس پر چل کر غیرملکی برتری ہماری زمینوں پر آتی ہے!‘‘
پاکستان پیپلزپارٹی کی منفرد مصائب کی منفرد تاریخ ہے۔ یہ تاریخ غیرآئینی فوجی حکمرانوں کی بے رحمیوں، عدلیہ کی جارحیتوں، مذہبی طبقات کی خرد دشمنیوں اور دائیں بازو کے دانشوروں کی نظریاتی کجیوں سے مرتب کی گئی۔ ایک موقع پر ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان پیپلزپارٹی کےمنفرد مصائب کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا ’’واحد سیاسی پارٹی جوقانون کی زد میں آئی وہ پاکستان پیپلزپارٹی ہے۔ واحد سیاسی قیادت جو قانون کے شکنجے سے نہیں بچ سکی، وہ پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت ہے، ان کے علاوہ ہر شخص قانون کی گرفت سے آزاد گھوم پھررہا ہے۔ اگرچہ برطانوی قانون کو ختم ہوئے تیس برس ہوچکے لیکن مردہ قانون کو ازسر نو متحرک کرکے لندن میں موجود پاکستان پیپلزپارٹی کی ایک قیادت کو پکڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ نااہل قرار دینے کے لئے قائم کئے گئے ٹربیونلز پاکستان پیپلزپارٹی اور اس کی قیادت کے خلاف کام کر رہے ہیں اوراحتساب کی نام نہاد تلوار صرف پیپلزپارٹی کے سروں پر لٹک رہی ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے بنک لوٹنے والے لٹنے والے لوگوں کےاکائونٹ کی تصدیق کریں جبکہ انہیں چھوڑ دیں جنہوں نےبنک لوٹنے والے ڈاکوئوں کی مدد کی ہو۔ مطلق العنان مارشل لا کا قانون صرف پیپلزپارٹی اور اس کی قیادت تک محدود کردیا گیاہے۔ قانون کی سزائیں پیپلزپارٹی اور اس کی قیادت کے خلاف مضبوط اور پابندکردی گئیں۔ صرف پیپلزپارٹی اور اس کی قیادت ہی کو قانون کی گوناںگوئی سے مبرّا نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں مارشل لا کی لاقانونیت کی تعریف ملتی ہے۔ میں کسی بھی قانون سے مبرّا نہیں ہوسکتا کیونکہ دھرتی کا قانون کسی برتر اور طاقتور اور عام آدمی میں کوئی فرق نہیں کرتا۔ میری حیثیت عوام کے سامنے ایک بھکاری کی سی ہے۔‘‘
ذوالفقار علی بھٹو کی نظریاتی جدوجہد کی راہ میں موت کی کوٹھڑی تک کے فاصلے کے ان د ورانیوں کی یہ بعض جھلکیاں بلاول کو ایک فکری اور نظریاتی راستے کی نشاندہی کے پیش نظرپیش کی گئی ہیں۔ن لیگ کے خلاف سیاسی جدوجہد تو ایک طرف رہی پاکستان پیپلزپارٹی کا تو مقصد ہی پاکستان کوایک لبرل ملک بنانا ہے جس میں لوگ غیرآئینی حکمرانیوں اور مذہبی فرقہ واریت اور جبریت سے کلّی طور پرآزاد رہ کر اپنی ذاتی اور اجتماعی زندگیاں گزار سکیں۔ یہ وہ عظیم نظریاتی وراثت ہے جس کو سنبھالنے اور پڑھنے کے دوران میں بلاول سیاسی بصیرت کی بلندی سے ایک قدم نیچے نہ اتریں!
سوال موجودہ منتخب وزیراعظم اور ان کے بچو ں کی ’’چیخوں‘‘ کا نہیں، بلاول سیاسی کفن فروشوں کی اس اپروچ سے دور رہیں۔ سوال اُس احتیاط کا ہے جس کی رُو سے ہمیں اپنی سیاسی جدوجہد میں انتقام کی کسی حس کو مطمئن کرنے سے اوپر ہوکے چلنا ہے۔ جو لوگ ان دنوں تفتیش کے نام پر ’’چھترول‘‘ کی مثالیں دے رہے ہیں، ان کی ذہنی پستی کے ہمیں قریب نہیں پھٹکنا ہوگا۔ ذوالفقار علی بھٹوکی فکر میں غریب آدمی کا قہقہہ ہماری منزل ہے اور جمہوری پروسیس کا جاری رہنا اس قہقہے کو قریب تر لاسکتا ہے۔ اسے ممکن بنا سکتا ہے، بلاول کو نوازشریف پر تنقید کرتے ہوئے ’’سیاسی مخالفت‘‘اور ’’جمہوری پروسیس کے تسلسل‘‘کو دو متوازی خطوط کےطور پر لے کر چلنا ہوگا۔وہ اس ’’مائنس ون‘‘ جیسے فارمولوں کو آج بھی نہ بھولیں۔
اصل جھگڑا ہی یہ ہے پاکستان کی دھرتی پہ اس کے باشندوں کی طے کردہ حکمرانی کا حق کس نے دینا ہے؟ پاکستان کی سرزمین پر جنہیں یہ حق ہے ان کا پانی کاٹنے یا بند کرنے کاباب کیوں بندنہیں ہوتا؟ بلاول کو پاناما پر بات کرنے سے کسی نے نہیں روکا، بلاول کو پنجاب دوبارہ واپس لینے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ سیاسی تاریخ کی صداقت کے دائرے میں رہ کر ان ٹارگٹس تک پہنچا جائے، کوئی ایسا بیان یا تحریک جس سے منتخب حکومت اور جمہوری پروسیس متاثرہو، وہ بلاول کی سیاسی وراثت کا ہرگز تقاضا نہیں!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *