پنجاب میں لیفٹیننٹ گورنرز اور گورنرز کی 165 سالہ تاریخ

Governor-House62 سالہ چوہدری محمد سرور5 اگست 2013 کو گورنر پنجاب مقرر ہوئے۔ اس طرح ان کے اس منصب کی آئینی میعاد میں مزید ایک سال 5 ماہ 24 دن کا عرصہ رہ سکتا تھا۔ جو تقریباً ڈیڑھ سال بنتا ہے۔ فیصل آباد کے قریب چیچہ وطنی میں پیدا ہونے والے چوہدری محمد سرور برطانیہ میں 1997 سے 2010 تک لیبر پارٹی میں شامل رہے اور وہ برطانوی پارلیمنٹ کےپہلے مسلمان رکن تھے۔گورنرپنجاب کی حیثیت سے اپنی تقرری کی توثیق ہونے کے بعد انہوں نے اگست 2013 میں اپنی برطانوی شہریت ترک کردی۔ چوہدری سرور نے 1982 میں اپنے بھائی کے ساتھ مل کر اسکاٹ لینڈ میں ’’یونائیٹڈ ہول سیل گروسرز‘‘ کے نام سے کیش اینڈ کیری بزنس قائم کیا لیکن پھر اپنے بھائی سے علیحدہ ہوکر ’’یونائیٹڈ ہول سیل (اسکاٹ لینڈ) لمیٹڈ‘‘ کے نام سے اپنا کاروبار شروع کردیا۔ برطانیہ میں اپنے طویل قیام کے دوران انہیں آزمائش سے بھی گذرنا پڑا، جب ان کے بیٹے عاطف سرور پر 8 لاکھ 50 ہزار پائونڈ اسٹرلنگ کے فراڈ کا الزام لگا تاہم اپیل عدالت نے 2011 میں سزا ختم کردی۔ چوہدری سرور کی دولت ایک کروڑ60 لاکھ پائونڈ بتائی جاتی ہے۔ پنجاب میں لیفٹیننٹ گورنرز اور گورنرز کی تاریخ 165 سال پرانی ہے۔ سکھوں سے دوسری جنگ کے بعد برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1849 میںمعاہدہ لاہور کے بعد پنجاب کو حاصل کرلیا۔ صوبے کے پہلے لیفٹیننٹ گورنر سر جان لیئرڈ مائر لارنس (1879-1811) یکم اپریل 1849 تا 25 فروری 1859 اور 1864-69 ہندوستان کے وائس رائے رہے۔ 1849 تا 1924 کے دوران پنجاب میں 16 لیفٹیننٹ گورنرز آئے۔ ان میں سر رابرٹ منٹگمری (شہر منٹگمری موجودہ ساہیوال ان ہی کے نام پر تھا) سر ڈونلڈ فرائیل میکلوڈ (لاہور کی معروف میکلوڈ روڈ ان سے موسوم ہے) سرہندی ڈیورنڈ (لاہور کی معروف ڈیورنڈ ان کا حوالہ ہے جبکہ 2640کلومیٹرز پاک افغان سرحد ڈیورنڈ لائن ان کے بیٹے مورٹیمر ڈیورنڈ سے موسوم ہے) سر رابرٹ ہنری ڈیوس، سر رابرٹ ایلس ایجرٹن (حوالہ ایجرٹن روڈ لاہور) سر چارلس ایچی سن (حوالہ لاہور کا شہرت یافتہ ایچی سن کالج اور اہلیہ کے نام پر لیڈی ایچی سن اسپتال)سر جیمز براڈوڈلائل (لائلپور جسے بعدازاں فیصل آباد کا نام دیا گیا) ان کے پوتے مارک لائل گرانٹ پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر رہے۔ سر ڈینس فٹز پیٹرک، سر ولیم میکورتھ ینگ، سر چارلس منٹگمری ریواز (ریواز گارڈن لاہور) سر تھامس گورڈن واکر، سر لوئیس ولیم ڈین، سر جیمز میکرون ڈوئی، سر مائیکل فارنس او ڈائر اور سر ایڈورڈ ڈکلس مکلیگن لیفٹیننٹ گورنرز رہے۔ 1924 تا 1947 سر ولیم میلکم ہیلی (حوالہ معروف ہیلی کالج) سر جیفری فٹز ہروی ڈی منٹگمری، سر سکندر حیات خان، سر ہربرٹ ولیم ایمرسن، سر ہنری ڈفیلڈ کریک، سر برٹرینڈ جیمز گلینسی اور سر ایوان میئر ڈتھ جنکنز پنجاب کے گورنر رہے۔تقسیم ہند سے قبل سر ڈی منٹگمری، سر سکندر حیات اور سر ایمرسن دو دو بار گورنر پنجاب مقرر ہوئے۔ تقسیم ہندکے بعد سر فرانسس مودی (1976-1890) مغربی پنجاب کے پہلے گورنر بنے۔ وہ تقسیم سے قبل سندھ کے آخری برطانوی گورنر بھی تھے۔1947 سے 1955 تک سر فرانسس مودی، سرادر عبدالرب نشتر، ابراہیم اسماعیل چندریگر، میاں امین الدین، حبیب ابراہم رحیم ٹولہ اور نواب مشتاق احمد گورمانی گورنر پنجاب رہے۔ پنجاب ون یونٹ کے تحت مغربی پاکستان میں ضم ہونے کے بعد 1966 تک مشتاق احمد گورمانی، اختر حسین اور نواب کالاباغ امیر محمدخان نے گورنر مغربی پاکستان کے فرائض انجام دیے جبکہ 1966-69جنرل (ر) محمد موسیٰ گورنر مغربی پاکستان رہے۔ ان کے بعد 20تا 25 مارچ 1969 یوسف عبداللہ ہارون گورنر رہے۔ ان کے بعد جنرل یحییٰ خان کے دور میں لیفٹیننٹ جنرل عتیق الرحمٰن مغربی پاکستان کے مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنے جنہوں نے ون یونٹ کی تحلیل کے فیصلے پر عملدرآمد کیا۔ان کے بعد جنرل ٹکا خان محض تین دن اور ائرمارشل نورخان مختصر عرصہ کےلیے آفس میں رہے۔ یکم جولائی 1970 کے بعد سے پنجاب میں جو دو درجن گورنرز آئے ان میں لیفٹیننٹ جنرل عتیق الرحمٰن، غلام مصطفیٰ کھر، حنیف رامے، نواب صادق حسین قریشی، محمدعباس خان عباسی، اسلم ریاض حسین، جنرل سوار خان، جنرل غلام جیلانی خان، مخدوم سجاد حسین قریشی، جنرل ٹکا خان، میاں محمد اظہر، چوہدری الطاف حسین، جنرل راجا سروپ خان، خواجہ طارق رحیم، شاہد حامد، ذوالفقار علی کھوسہ، جنرل محمد صفدر، جنرل خالد مقبول، سلمان تاثیر ان کے قتل کے بعد 4 تا 13 جنوری 2011 رانا اقبال خان، لطیف کھوسہ، مخدوم احمد محمود اور چوہدری محمد سرور شامل ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *