’’مستقبل کیلئے ہمارا بڑا عہد‘‘۔۔ گیٹس کا سالانہ خط2015ء۔۔۔۔۔۔۔(تیسری قسط)

bilmalindaبل اور ملنڈا گیٹس

یہ پوچھنا درست ہو گا کہ وہ ترقی جس کی ہم نشاندہی کر رہے ہیں، آب و ہوا کی تبدیلوں کے سبب منجمد ہو جائے گی۔ آب و ہوا کی تبدیلی کے سبب آنے والے سب سے زیادہ ڈرامائی مسائل ابھی ہم سے 15برس کے فاصلے پر ہیں۔ لیکن یہ دوردراز خطرہ اس قدر گھمبیر ہے کہ دنیا کو بہت زیادہ تن دہی کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔۔۔ عین ابھی سے۔۔۔۔۔توانائی کے ان ذرائع کو ترقی دینا جو زیادہ سستے ہیں، حسبِ ضرورت فراہم کئے جا سکتے ہیں اور کوئی کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج نہیں کرتے۔اگلے 15برس ایک مرکزی دورانیہ ہیں جب توانائی کے ان ذرائع کوترقی دینے کی ضرورت ہو گی تاکہ وہ آب و ہوا کی تبدیلیوں کے شدید ہونے سے پیدا ہونے والے اثرات سے قبل ہی زیر استعمال لائے جانے کے قابل ہو جائیں۔ہم(بل اور ملنڈا)خود اس کام میں وقت کا تعین کر رہے ہیں اور اس کے متعلق لوگوں کو آگاہ کرنا بھی جاری رکھیں گے۔
ہم یہ دیکھنے کیلئے پر جوش ہیں کہ اگلے 15برس میں دنیا کتنی بہتر ہو جائے گی۔ اب ہم ان اہم تبدیلیوں میں سے کچھ کا ذکر کر رہے ہیں، جنہیں ہم آتا دیکھ رہے ہیں۔
بچوں کی اموات کم ہوں گی، اور زیادہ سے زیادہ بیماریاں ختم ہوں گی
اب تک، دنیادو حصوں میں تقسیم ہو گئی تھی۔
دنیا کی نصف آبادی میں تمام بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگتے تھے،معقول غذاء ملتی تھی اور عام بیماریوں جیسے ڈائریا اور نمونیا کا درست علاج کیا جاتا تھا۔ دنیا کے اس نصف حصے میں موجودوہ بچے جو5برس کی عمر کو پہنچنے سے پہلے مر جاتے تھے، وہ ایک فیصد سے بھی کم تھے۔
یہاں ویکسین ہر جگہ پہنچتی تھی، بہت کم بچوں کو ناقص غذا ملتی تھی اورعلاج سے محروم بھی بہت کم بچے رہتے تھے۔
جب ہم نے اپنی فاؤنڈیشن شروع کی تھی ، ہم دنیا کے ان دونوں حصوں کو مساوی مقام دلانے کے نہایت سٹریٹجک انداز تلاش کر رہے ہیں۔ ہم نے سوچا کہ اگر دنیا غریب بچوں کی زندگیاں بچانے کیلئے تھوڑی سی زیادہ کوشش کرے۔۔۔ مثلاً، اسی قدر نئے انداز اپنائیں، جس قدر ہم نے کمپیوٹروں کو تیز تراورمزید چھوٹی مشینوں میں بدلنے کیلئے اپنائے تھے توہم بہت زیادہ ترقی کر سکتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *