پی ٹی آئی کے اندرونی الیکشن اور قلیل ووٹنگ 

syed arif mustafa

بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا ،،، جو چیرا تو اک قطرہء خون نہ نکلا ،،، کیا پی ٹی آئی کے 90 فیصد ووٹروں نے پارٹی قیادت کو مسترد کردیا ہے۔۔؟؟ کم ازکم پارٹی الیکشن میں ڈالے گئے ووٹوں کا نہایت کمترین تناسب تو یہی بتا رہا ہے ۔۔۔ کیونکہ رجسٹرڈ27 لاکھ ووٹوں میں سے صرف دو لاکھ چھپن لاکھ ووٹ ہی ڈالے گئے - اگرچہ کچھ غیرمستند ذرائع کے مطابق رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 27 نہیں 25 لاکھ ہے لیکن اس سے ووٹنگ کی کمتر شرح کی مجموعی صورتحال پہ پھر بھی کچھ زیادہ بڑا فرق نہیں پڑتا - لیکن بہرحال جو بھی ہو برسرزمین حقیقت یہی ہے کہ کئی برسوں سے تحریک انصآف میں جس انٹرا پارٹی الیکشن کی بہت دھوم تھی ، وہ بالآخرہو ہی گئے اور مغربی و عالمی جمہوری پیمانوں کی روشنی میں ان نتائج کو دیکھ کر باآسانی یہ کہا جاسکتا ہے کہ 27 لاکھ رجسٹرڈ ووٹوں میں‌سے محض ایک لاکھ نواسی ہزار ووٹ لیکر عمراں خان اور انکا پینل کامیاب ہوکے بھی بری طرح ناکام ہوا ہے ،،،، کیونکہ ان میں ووٹنگ کی شرح بیحد شرمناک رہی ہے یعنی صرف ساڑھے نو فیصد اور یہ وہ شرح ہے کہ جس سے بہتر شرح مقبوضہ کشمیر کے الیکشنوں میں دیکھی جاتی ہے لیکن پھر بھی اس تناسب کو ہم اور ہماری حکومت
فراڈ الیکشن کہتے نہیں تھکتے

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس انٹرا پارٹی الیکشن میں ڈالے گئے لگ بھگ ڈھائی لاکھ ووٹوں میں بہت بڑی تعداد ان ووٹوں‌ کی ہے جو پی ٹی آئی کے بھرپور طور پہ سرگرم میڈیا سیل کے بار بار ذاتی رابطوں اور جہانگیر ترین کے اپنے بنائے گئے اسپیشل الیکشن سیل کی زبردست طوفانی مہم کے نتیجے میں ڈالے گئے ہیں اور خود پارٹی الیکشن کمیشن کے اپنے بیان کے مطابق17 لاکھ 81 ہزار افراد سے رابطہ کرکے انہیں ای میل بیلیٹ بھجے گئے تھے- گویا اس وسیع اور ذاتی پیمانے پہ اتنے رابطے نہ کیئے گئے ہوتے تو یہ شرح شاید 2 فیصد بھی نہ ہوتی ،،، یوں کہا جاسکتا ہے کہ یہ الیکشن جس ساکھ کو حاصل کرنے کے لیئے کرائے گئے تھے وہ اس قدر قلیل شرح کے نتیجے میں مٹی میں ہی مل گئی - لیکن واقفان حال کا کہنا یہ بھی ہے کہ یہ ساکھ تو پچھلے انٹرا پارٹی الیکشن میں بڑے پیمانے پہ ہونے والی بدعنوانیوں اور انکے مرتکبین کو سزا نہ دیئے جانے کی وجہ سے پہلے ہی ضائع ہوچکی تھی وگرنہ اس وقت پاناما کیس میں پارٹی کے نمایاں کردار سے ملنے والی قوت اور شاندار بوم کی وجہ سے تو کارکنوں کو نہایت بھاری تعداد میں ووٹ ڈالنے چاہیئے تھے

جہانتک اعداد شمار کا تعلق ہے ، پی ٹی آئی کے لیئے یہ پہلے الیکشن ہی نہایت پریشان کن نتائج کے حامل ثابت ہوئے ہیں کیونکہ ایس ایم ایس جیسی آسان سہولت پہ ووٹ ڈالنے والے طریقے کے باوجود پولنگ کا یہ قلیل تناسب صآف صآف بتا رہا ہے کہ یا تو کارکنان نے اس میں نہ ہونے کے برابر دلچسپی لی ہے یا پھر رجسٹرڈ ووٹروں سے متعلق اعداد وشمار ہی مصنوعی ہیں اور کسی خاص میکنزم کے ذریعے اصل سے کئی گنا بڑھا چڑھا کے پیش کیئے جاتے رہے ہیں اور یوں یہ دھچکا شفافیت کے غبارے میں ہونے والے ایک بڑے سوراخ سے کم نہیں - ، یہ واضح رہے کہ اس انٹرا پارٹی الیکشن میں پینل سسٹم کے تحت ووٹ ڈالے گئےتھے اور اس مقصد کے لیئے آخری دنوں میں نیک محمد کا نام نہاد پینل سامنے لایا گیا تھا تاکہ قسم کھانے ہی کو سہی لیکن مقابلے کا کسی طرح تو تاثر بنے اور عمران خان کے انصاف پینل کے نتائج کی کچھ تو قدر و قیمت بن سکے ، اور اس خصوصی انتظام پہ ہونے والے فرمائشی مقابلے میں الیکشن میں ڈالے گئے ساڑھے نو میں سے ڈیڑھ پرسنٹ ووٹ نیک محمد پینل نے بھی لیئے ہیں - یوں تو اس الیکشن میں اختیار کردہ غیر حقیقی طریق کار پہ پارٹی میں پہلے ہی بہت آوازیں اٹھ رہی تھیں لیکن ان نتائج کے بعد تو اب انکا دفاع کرنا بھی ممکن نہیں رہا ۔۔۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ 'مبینہ طور پہ' بنی گالہ کو اپنے گھیراؤ میں لیئے چند قریبی اصحاب کسی بھی صورتحال کے حق میں دلیل ڈھونڈھ لانے کا خاص ہنر رکھتے ہیں ورنہ تو اس الیکشن کے عجیب و غریب انتخابی نظام پہ متعدد اعتراضات بہت پہلے ہی سامنے آچکے تھے مگرجنکی اصلاح کی مطلق ذحمت کی ہی نہیں گئی - سمجھانے کو عرض ہے کہ یہ نظام کچھ اس طرح سے ہے کہ
چیئرمین منتخب ہو جانے پہ اسکے ساتھ اسکا اعلان کردہ خاص 133 رکنی پینل بھی خود بخود اور بلا مقابلہ منتخب شمار ہوگا جس میں وائس چیئرمین ، جنرل سیکریٹری ، فنانس سیکریٹری - اور انفارمیشن سیکریٹری کے مناصب بھی شامل ہیں
پھر یہ خود بخود منتخب سمجھے جانے والے 133 ارکان پینل ، چیئرمین عمران خان کے ساتھ مل کر پارٹی کے مرکزی عہدیداران نامزد کریں گے۔
دو صبوں سندھ اور بلوچستان کے صوبائی صدور جبکہ پنجاب اور خیبرپختونخواہ کے ریجنل صدور کا انتخاب ہوگا پھر یہ منتخب ہونے والے عہدیداران نچلی تمام سطحوں پر ضلعی و تحصیلی سطح کے عہدیدار نامزد کریں گے یعنی بجائے اسکے کہ ضلعی قیادت منتخب ہوکے آئے وہ نامزد کی جائیگی-ضلعی سطح پہ نیچے سے اوپر تک براہ راست الیکشن کی زحمت ہی نہیں کی جائیگی اور یہ مناصب سیلیکشن کے طریقے کے تحت پر کیئے جائینگے
جب انتخابی ٹکٹوں کی تقسیم بھی یہی 133 پینل ارکان ، صوبائی عہدیداران کے ساتھ مل کر کریں‌گے اورقومی و صوبائی اسمبلیوں کے ٹکٹوں کے علاوہ سینٹ کی ٹکٹ اور سیٹ ایڈجسمنٹ جیسے اہم فیصلوں کے بھی مجاز ہونگے

اس طریق کار پہ اعتراض کرنے والوں کا موقف یہ ہے کہ اس سے ذلعی سطح پہ کارکنوں سے اپنی قیادت منتخب کرنے کا اختیار چھین لیا گیا ہے اور پارٹی کا زیادہ تر انتظامی نظام چند افراد کے ہاتھوں میں یرغمال بن کے رہ جائےگا اور چند خاص پیارے یا ناپسندیدہ لوگ کسی نہ کسی طرح آگے رکھے جانے رہیں گے اور انکو کامیاب کرالینے سے کارکن اس نظام سے لاتعلق ہوتے چلے جائینگے اور عملاً ہوا بھی یہی ہے اور ان نتائج سے یہ حقیقت کھل کے سامنے آ بھی گئی ہے- اور ساتھ ہی یہ خدشہ بھی حقیقت بن گیا ہے کہ حالیہ الیکشن میں وہ لوگ بھی چیئرمین کے پینل میں ہونے کی وجہ سے ازخود منتخب ہوگئے ہیں کہ جنہیں ڈھائی برس پہلے الیکشن ٹریبونل کے سابق سربراہ جسٹس وجیہ الدین نے انٹرا پارٹی الیکشن میں پیسے کی طاقت کے بل پہ ووٹوں کی خریدو فروخت کا ذمہ دار ٹہرایا تھا اور 87 سماعتوں کے ذریعے اور تمام ثبوتوں‌کی موجودگی میں بدعنوان قرار دے کر پارٹی سے فارغ کرنے کی سزا سنائی تھی - لیکن پارٹی کی اے ٹی ایم مشینں کہلانے والےان لوگوں کے بچاؤ کیلیئے عمران خان کھل کے سامنے آگئے اور پھر انہوں نے بجائے اس بدعنوانی کے ثابت شدہ مرتکبین کو فارغ کرنے کے جسٹس وجیہہ ہی کو چلتا کیا اور ان اصحاب کو جو کلیجے سے لگا کے یہ ثابت کردیا کہ انکے نزدیک اصول اور اخلاقی معیارات کی کیا حیثیت ہے اس سے قبل وہ اسکاڈ کے نام سے بنائی گئی اس تحقیقاتی کمیٹی کے ساتھ یہی سلوک کرچکے تھے کہ جنہیں خود انہوں‌نے یعنی چیئرمین ہی نے متعین کیا تھا کہ وہ پتا کرکے بتائیں کہ لاہور کے بلدیاتی انتخابات میں پارٹی کی شرمناک شکست کی کیا وجوہات ہیں اوراس کمیٹی نے بڑی چھان بین کے بعد علیم خان کو ٹکٹوں کی خریدو فروخت اور نامناسب لوگوں میں تقسیم کا ذمہ دار علیم خان کو قرار دیا تھا جس پہ علیم خان کا تو کچھ نہ بگڑا البتہ اسکاڈ والے ہی نکال پھینکے گئے تھے- جسٹس وجیہ الدین کے ساتھ تو اس سے بھی برا سلوک کیا گیا اور پارٹی کے چھٹ بیئوں نے میڈیا اور سوشل میڈیا میں جسٹس صاحب کا شرمناک طور ایسا پیچھا لیا تھا کہ اس افسوسناک طرزبرتاؤ سے دلبرداشتہ ہو کے وہ بالآخر اپنا رستہ ہی بدل لینے پہ مجبور ہوگئے تھے اور اب انہوں نے ایک نئی پارٹی ' عام لوگ اتحاد' پارٹی تشکیل دے لی ہے

یہاں یہ بتانا بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ انٹرا پارٹی الیکشن کی پہلی مشق ناکام رہنے کے بعد گو انکے نتائج کو کہنے کی حد منسوخ کردیا گیا تھا لیکن عملاً چیئرمین کے قریبی لوگ ہی ہر عہدے پہ کام کرتے رہے اور دیگر ہٹائے گئے عہدیداران بھی بتدریج بحال کردیئے گئے تھے اور پھر انہی کے زیرانتظام جب پھر سے انٹرا پارٹی الیکشن کی تیاریاں کی جانے لگی تھیں تو ایک بار پھر پرشور تنازعات کی گونج سنائی دی تھی اور پارٹی الیکشن کے نیکنام کمشنر تسنیم نورانی اور انکے ساتھیوں نے بنی گالہ میں بیٹھے ایک خاص ٹولے کی جانب سے بار بار کی مداخلتوں اور چند اصولی اختلافات کی وجہ سے استعفیٰ دیدیا تھا- لیکن اب جبکہ یہ الیکشن کسی نہ کسی طرح ہو ہی گئے ہیں تو نہایت کمزور شرح کی وجہ سے انکا اعتبار نہ ہونے کے برابر ہے اور یوں اس نئے موڑ پہ بہت سے ایسے نئے سوالات جنم لیں گے کہ جن سے پارٹی میں متعدد دھڑے بندیاں جنم لیں گی اور قوی خدشہ ہے کہ اندر ہی اندر بڑی ٹوٹ پھوٹ ہوجائے گی -

بلاشبہ پی ٹی آئی کی سینٹرل کمیٹی ابتک تو ایسے سوالات چیئرمین کی 'کرشماتی' شخصیت کی وجہ سے دبائے رکھنے میں میں کامیاب رہی ہے لیکن بالیقین کہا جسکتا ہے کہ محض ساڑھے نو فیصد ووٹوں کے ڈالے جانے سے، اب کے شاید اس کرشماتی عنصر کی طاقت کا زیادہ فائدہ نہ اٹھایا جاسکے گا اور کارکن زیادہ کھل کے ناپسندیدہ رہنماؤں کئے خلاف آوازیں بلند کرتے دکھائی دے سکتے ہیں - اور اسی امکانی صورتحال کو دیکھتے ہوئے کہ جاسکتا ہے کہ آئندہ کے اہم فیصلوں کے لیئے پارٹی کے بڑوں کے اعصاب اور ذہنی و عملی صلاحیتوں کا حقیقی امتحان کا مرحلہ آن پہنچا ہے-

[email protected]

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *