تبدیلی کا "جنازہ" ہے ذرا دُھوم سے نکلے

حارث عباسی

Image may contain: one or more people, sunglasses, beard and close-up

مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان کو چوری کی درخواست پر مانسہرہ پولیس کے ایک ایس ایچ او نے اٹھایا,نہ صرف اٹھایا بلکہ رات بھر تشدّد کا نشانہ بنایا اور آخر میں منہ پر پیشاب کر کے روایتی پولسیہ انداز میں دھمکی بھی دی کہ اگر منہ کھولا تو تمہارا جینا حرام کر دیا جائے گا،تمہارا فلاں ڈھمکاں وہی سب جو ہماری روایتی پولیس کا روایتی انداز ہوتا ہے.اخلاق سے بالاتر،انسانیت سے پاک....یہ میں نہیں کہہ رہاآپ خود سُن لیں...ہاں دل ہو تو ذرا تھام لیجئے گا...میں تو فقط اتنا کہتا ہوں کہ آخر کب تک ہمارا غریب ظلم و ستم کی اس چکّی میں پستا رہے گااور کب ہوش آئے گا ہمارے بدمست اربابِ اختیار کو،جنہیں ہم نے ووٹ دے کر سر پر تو بٹھا لیا لیکن کیا خبر تھی کہ اپنے ہی ووٹ کو اپنے لئے وبال جاں بنا لیا ہے...

man

خدا جانے ہمارے خان صاحب نے ایسا کونسا چشمہ پہن رکھا ہے جس سے سارا پنجاب جہنم اور سارا پختونخواہ جنت الفردوس نظر آتا ہےخدا جانے کب انہیں دھرنوں اور 'رولوں رپّوں' سے فرصت ملے گی اور یہ ایک نظر کرم اسطرف بھی ڈالیں گے..خان صاحب! بڑی سیدھی سیدھی بات یہ ہے کہ آپکی نام نہاد تبدیلی فقط جھوٹ، مکر، فریب اور فراڈ کے سوا کچھ نہیںآپکا پختونخواہ تو پشاور کی حدود چھوڑتے ہی ختم ہو جاتا ہے لیکن 20133 میں آپکو اپنا آخری سہارا سمجھ کر سر پر بٹھانے والے ایک بہت بڑے رقبے پر موجود ہیں.

خدارا۔۔۔کچھ ہوش کے ناخن لیں کہ ابھی بھی وقت ہے.کیونکہآپکے نئے پختونخواہ میں یہ غنڈہ گردی اب معمول بن چکی ہےیہ واقعہ اکلوتا نہیںابھی چند ہی دن قبل کی بات ہے کہ بالاکوٹ پولیس کے تشدد کی تاب نہ لاتے ہوئے ایک نوجوان جان سے ہاتھ دھو بیٹھا جبکہ دوسرا بھی انتہائی تشویشناک حالت میں ہےاور اس پر سینئیر صحافی جناب عامر ہزاروی صاحب کی وال پر مکمل تفصلات بمع ویڈیو موجود ہیںہمارے ایم این اے ایز،ایم پی ایز، ضلع و تحصیل ناظمین و ممبران،یہ سب بھی اگر ان انسانیت سوز واقعات پر یونہی مجرمانہ خاموشی اختیار کئے رکھتے ہیں تو بخدا ہم بالکل اس بات کی امید نہیں رکھیں گے کہ کل خدانخواستہ ہم میں سے کسی اور کو اس ظلم و جبر کا نشانہ بنایا گیا تو ہمارے مسیحا جنہیں ہم نے اپنی مسیحائی کا ووٹ دیا ہماری طرف مڑ کر بھی دیکھیں گے

خدارا خدارا
مکافات عمل کے اس چکر سے ڈرئیے ....ڈرئیے اس وقت سے کہ جب ظلم کی اس گھڑی کی سوئی آپ پر آ کر اٹک جائے اور آپکے پاس ماضی کو یاد کر کے پچھتانے کے سوا کچھ بھی نہ ہو-حلقہِ احباب میں موجود ہر فرد سے گزارش ہے کہ خدارا ظلم کے خلاف اس آواز کو کم از کم اتنی طاقت بخشئیے کہ محل سراؤں میں دھت ہمارے حکمران کچھ ہوش کے ناخن لیںوگرنہ کل یہی پولیس گردی ہوگی اسکی جگہ آپکا بیٹا ہوگا...آپکا بھائی ہوگا..یاآپ ہونگےاور فقط پچھتاوا ہی پچھتاوا ہوگا....وڈیو نیچے ملاحظہ فرمائیں!

Hariss Abbassi

تبدیلی کا "جنازہ" ہے ذرا دُھوم سے نکلے مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان کو چوری کی درخواست پر مانسہرہ پولیس کے ایک ایس ایچ او نے اٹھایا. نہ صرف اٹھایا بلکہ رات بھر تشدّد کا نشانہ بنایا اور آخر...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *