سپریم کورٹ کی طرف سے جھوٹا قرار دیے گئے شخص رحمان ملک کی گواہی جے آئی ٹی کے لیے کیسے قابل قبول ہوگی؟

man

لاہور(سٹاف رپورٹر) روزنامہ ’دنیا پاکستان‘ نے وہ تمام عدالتی فیصلے اور دستاویزات حاصل کرلی ہیں جن میں سپریم کورٹ نے رحمان ملک کو جھوٹا قرار دیا اور کہا کہ’’ رحمان ملک نے اپنی برطانوی شہریت کو ترک کرنے کا جھوٹا سرٹیفکیٹ جمع کرایاجوکہ ریکارڈ سے ثابت ہے اور انہوں نے سینٹ کا الیکشن لڑتے ہوئے اپنی برطانوی شہریت کو ظاہر نہیں کیا۔جب سپریم کورٹ میں یہ مقدمہ چلا تو رحمان ملک نے پرانی تاریخوں میں برطانوی شہریت چھوڑنے کا جھوٹاحلف نامہ جمع کرایا لہذا وہ صادق اور امین نہیں رہے‘ ان کا معاملہ چیئرمین سینٹ کو بھیجا جائے اور رحمان ملک کی تمام تنخواہیں اور مراعات فوری طور پر واپس لے کر قومی خزانے میں جمع کرائی جائیں۔‘‘

court

د رج بالا اقتباس سپریم کورٹ کے 29 ستمبر2012 کے ایک فیصلے سے لیے گئے ہیں جو اُس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کی سربراہی میں جسٹس جواد ا خواجہ اورجسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل ایک بنچ نے دیا۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رحمان ملک جوکہ ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ سے جھوٹے حلف نامے کی سند پاچکے ہیں ان کی گواہی اور تحقیقاتی رپورٹ کی قانون اور جے آئی ٹی میں کیاوقعت ہوسکتی ہے؟قانون شہادت کے مطابق کسی ایسی شہادت پرانحصار نہیں کیا جاسکتا تو پھر جے آئی ٹی کس طرح رحمان ملککے بیان پر انحصار کرے گی؟قانونی حلقے سمجھتے ہیں کہ رحمان ملک کی گواہی قانون کی نظر میں قابل قبول نہیں ہوسکتی۔ جے آئی ٹی انہیں کس بنیاد پر گواہی کے لیے بلا رہی ہے؟کیا جے آئی ٹی کو معلوم نہیں کہ رحمان ملک سپریم کورٹ سے جھوٹے قرار پاچکے ہیں؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *