عوام کا نیا فیصلہ

OLYMPUS DIGITAL CAMERAیہ 1997-98 کی بات ہے ، ہمارے ایک دوست جن کی عمر دشت ِ صحافت کی سیاحی میں گزری تھی اور صحافتی ٹریڈ یونین کا طویل تجربہ بھی رکھتے تھے، پنجاب اسمبلی پریس گیلری کے سالانہ انتخابات میں، میدانِ صحافت میں نووارد ایک نوجوان صحافی سے ہار گئے۔ اس شام پریس کلب سے لیکر اخباری دفاتر تک صحافی برادری میں جیتنے والے کی جیت سے زیادہ ہارنے والے کی ہار کا ذکر تھا، ”فلاں“ جیت گیا کی بجائے ”فلاں“ ہار گیا کی بات ہورہی تھی۔گزشتہ روز ہونے والے ضمنی انتخابات میں جنہیں پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے ضمنی انتخابات قرار دیا گیا، یوں تو اور بھی اپ سیٹ ہوئے لیکن عمران خان کی جیتی ہوئی قومی اسمبلی کی 2 نشستوں پر تحریکِ انصاف کی شکست زیادہ زیر ِ بحث رہی۔ عمران خان نے اس سے ایک روز قبل عام انتخابات میں ”دھاندلیوں “سے متعلق 2 ہزار صفحات پر مشتمل وائٹ پیپر جاری کیا تھا۔ حیرت ہے کہ سیٹلائیٹ، انٹرنیٹ اور مواصلات کی جدید ترین اور برق رفتار سہولتوں کے اس دور میں تحریکِ انصاف جیسی پرجوش اور متحرک جماعت کو جس کے سوشل میڈیا کی ایک دنیا میں دھوم ہے، وائٹ پیپر لانے میں 3 ماہ 10 دن لگ گئے۔ (اس وائٹ پیپر کا جائزہ ہم کسی اور موقع پر اٹھا رکھتے ہیں)۔ اب ضمنی انتخابات سے صرف ایک روز قبل اس کے اجرا ء کا مقصد مظلومیت کا لبادہ اوڑھ کر ووٹر کی ہمدردیاں حاصل کرنا تھا؟
عام انتخابات میں عمران خان قومی اسمبلی کی 3 نشستوں پر کامیاب ہوئے تھے۔ راولپنڈی کی نشست (این اے 56) رکھ کر انہوں نے میانوالی اور پشاور کی نشستیں چھوڑ دی تھیں ( لاہور کے حلقہ 122 میں وہ ایاز صادق سے ہار گئے تھے)۔ میانوالی این اے 71 ان کی آبائی نشست تھی۔ 2002 کے الیکشن میں یہ واحد نشست تھی جو عمران خان (اور تحریکِ انصاف) نے جیتی تھی اب عام انتخابات میں اہل ِ میانوالی سے عمران خان کا وعدہ تھاکہ اس کا جینا مرنامیانوالی کے لوگوں کے ساتھ ہو گا۔ میانوالی کا بیٹا میانوالی سے بیوفائی نہیں کرے گا لیکن انتخابات کے بعد انہوں نے راولپنڈی کی نشست این اے 56 رکھی کہ یہاں ضمنی الیکشن میں حنیف عباسی کو ہرانا بہت مشکل ہوتا۔ اس حلقے میں ایک صوبائی نشست تحریک انصاف ، مسلم لیگ ن کے مقابلے میں ہار گئی تھی۔ ضمنی انتخابات میں میانوالی کی یہ نشست عمران خان اور تحریکِ انصاف کے لئے ناک کا مسئلہ تھی لیکن یہاں تحریکِ انصاف انٹرا پارٹی الیکشن کے دنوں سے بدترین داخلی کشمکش کا شکار تھی۔ میانوالی کی تحریک ِ انصاف عمران نے ایک خاتون کو سونپ دی تھی جس پر کارکنوں نے شدید مایوسی اور ناراضگی پائی جاتی تھی۔ انٹرا پارٹی الیکشن میں وہ اپنے لوگوں کو جتوانے میں کامیاب ہو گئی۔ اب عمران کے قریبی عزیزوں کا پیمانہٴ صبر بھی لبریز ہو گیا، یہاں تک کہ حفیظ اللہ نیازی اور انعام اللہ نیازی کے لئے بھی عمران کی رفاقت نبھانا مشکل تھا۔ عائلہ ملک ضمنی الیکشن کے لئے نااہل قرار پائیں (اس پر عمران کا احتجاج دلچسپ تھا کہ ان کی بی اے کی ڈگری ٹھیک تھی، مسئلہ انٹر کی سند کا تھا)، تو انہوں نے اپنے بہنوئی اور سمدھی ملک وحید خان کو ٹکٹ دلا دیا (موروثی سیاست کے خلاف عمران کا موقف کیا ہوا؟ لیکن قول و فعل میں یہ تضاد خبیر پختونخوا میں بھی دیکھنے میں آیا جہاں وزیرِ اعلیٰ نے اپنی خالی کردہ نشست پر اپنے داماد کو اور اسپیکر نے اپنی نشست پر اپنے بھائی کو ٹکٹ دلوادیا تھا)۔ ملک وحید خان سو فیصد غیر سیاسی شخصیت تھے جن کی واحد خوبی ان سے سے رشتہ داری تھی۔ ملک وحید کی امیدواری کو عمران کا غیرسیاسی فیصلہ بھی قرار دیا گیا لیکن اس پر تنقید کیوں؟ کہ خود مدح سرا ایک سے زائد بار یہ لکھ چکا کہ ان کا ممدوح یوں تو بیشمار اعلیٰ اوصاف کا حامل ہے، بس دو ہی خرابیاں ہیں، ایک یہ کہ وہ سیاسی ذہن کا حامل نہیں اور دوسرا یہ کہ وہ مردم شناسی کے جوہر سے بھی محروم ہے۔ مسلم لیگ ن نے اس حلقے میں اپنے پتے زیادہ خوبی اور چابکدستی سے کھیلے۔ اس نے عبیداللہ خان شادی خیل جیسے مضبوط امیدوار کو میدان میں اتارا، ملک برادری کی اہم شخصیات کی تائید بھی حاصل کی، عمران خان کے عزیزو اقارب کی ہمدردیاں بھی شادی خیل کے ساتھ تھیں کہ ان کا اوّل و آخر مقصد عمران کو سبق سکھاناتھا۔ عمران خان کی آبائی نشست پر ان کے امیدوار کو 17 ہزار ووٹوں سے شکست ہو گئی۔
پشاور کا اپ سیٹ بھی کچھ کم سنگین نہیں ۔ یہاں عام انتخابات میں غلام احمد بلور عمران کے مقابلے میں ایک لمبے مارجن سے ہارے تھے۔ یہ اے این پی اور بلور خاندان کے لئے بڑا صدمہ تھا کہ شہر میں ان کی سیاسی اجارہ داری برس ہا برس سے چلی آرہی تھی۔ غلام احمد بلوریہاں محترمہ بینظیر بھٹو کو بھی ہرا چکے تھے (تب الیکشن کے روز بلور کے صاحبزادے پیپلزپارٹی سے تصادم میں مارے گئے تھے) ۔ اب صرف ساڑھے تین ماہ بعد یہاں سے بلور کا دوبارہ جیت جانا تحریک ِ انصاف کے لئے ایک بڑے المیے سے کم نہیں۔ اس میں دیگر عوامل کے علاوہ تحریکِ انصاف کی صوبائی حکومت کی اڑھائی ماہ کی ”کارکردگی“ کا بھی خاصا عمل دخل ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان جیل کا واقعہ جس کی انتظامی صلاحیت کا منہ بولتا ثبوت ہے جبکہ جرأت اور بہادری کا یہ عالم کہ دہشت گردی کا شکار ہونے والے اپنے ارکانِ اسمبلی کے جنازوں میں شرکت کی ہمت بھی نہیں ہوتی۔ دہشت گردی کی جنگ کے حوالے سے اے این پی کی پالیسی سے اختلاف اپنی جگہ لیکن اس جنگ میں ان کی جرأت مندی بہرحال داد کی مستحق ہے کہ سینئر وزیر بشیر بلور پروٹوکول اور سیکیورٹی کے بغیر ہر جگہ خود پہنچ جاتے یہاں تک کہ ایک روز خود بھی دہشتگردی کا شکار ہو گئے۔ وزیر ِ اطلاعات میاں افتخار حسین کے اکلوتے صاحبزادے دہشت گردی کا نشانہ بن گئے لیکن بوڑھے باپ کے عزم و حوصلے میں کوئی کمی نہ آئی۔
اسلام آباد میں جاوید ہاشمی کی چھوڑی ہوئی نشست تحریکِ انصاف کے اسد عمر نے حاصل کر لی لیکن اب مارجن بہت کم ہے (صرف 8 ہزار)۔ 11 مئی کے انتخابات میں جماعتِ اسلامی نے یہاں 25 ہزار ووٹ حاصل کئے تھے اور اب تحریکِ انصاف کو جماعتِ اسلامی کی حمایت بھی حاصل تھی۔ وفاقی دارالحکومت میں برسرِ اقتدار جماعت کی شکست ایک بڑا واقعہ سہی لیکن سوختہ سامانی میں خود اسے کے گھر کے چراغاں کا حصہ بھی کم نہیں ۔اس میں امیدوار کے انتخاب میں تاخیر بھی تھی کہ چوہدری اشرف گجر کے لئے ٹکٹ کا حتمی فیصلہ الیکشن سے چندروز قبل ہوا۔
ڈیرہ غازی خان میں شہباز شریف اور سردار ذوالفقار کھوسہ کی نشستوں پر تحریکِ انصاف کی کامیابی بھی ایک اہم واقعہ ہے۔ شہباز صاحب کی نشست پر ممدوٹ فیملی کے جس چشم و چراغ کو لایا گیا اس کا بیشتر وقت لاہور میں گزرتا تھا اور اس حلقے سے اس کا ربط نہ ہونے کے برابر تھا۔ گورچانی اور لغاری قبائل ممدوٹوں سے دیرنیہ مخاصمت رکھتے ہیں۔ چنانچہ مسلم لیگ ن سے وابستگی سے باوجود وہ اس کے امیدوار کو ووٹ دینے پر آمادہ نہ ہوئے۔ کھوسہ صاحب کی خالی کردہ نشست پر خود ان کے 2 صاحبزادے مد ِ مقابل تھے۔ لغاری بھی ان کے دیرینہ حریفوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اس صورتحال نے تحریکِ انصاف کے لئے راہ کھول دی۔ لاہور میں ایک اہم صوبائی نشست پر تحریکِ انصاف کے مقابلے میں صرف 6 سو ووٹوں سے فتح بھی مسلم لیگ ن کے لئے بھی گہرے غوروفکر کی متقاضی ہے۔
خیبر پختونخوا میں قومی اسمبلی کی دونشستوں پر ازسرِ نو انتخابات کا فیصلہ بھی لائقِ تحسین ہے جہاں خواتین کو ووٹ کے حق سے محروم رکھا گیا تھا۔ خبیر پختونخوا کے کچھ حلقوں میں مذہبی مزاج اور قبائلی روایات کے نام پر خواتین کو ووٹ کے حق سے محروم رکھنے کی رسم خاصی قدیم ہے اور دلچسپ بات یہ کہ اتفاق رائے سے کیے جانے والے اس فیصلے میں یہاں کی لبرل اور سیکولر جماعتیں بھی شامل ہوتی ہیں۔ نوشہرہ اور لکی مروت کے حلقوں میں خواتین کے ووٹ نہ ڈالنے کے فیصلے کو تحریکِ انصاف کی تائید بھی حاصل تھی۔ ایک بہت پرانی بات یاد آئی تب ولی خان بھی امیدوار تھے۔ ولی خان جیت گئے تو مخالفین نے الزام لگایا کہ شکست سے بچنے کے لئے خان صاحب نے وعدے کی خلاف ورزی کی اور سہ پہر کے بعد اپنی خواتین کو پولنگ بوتھوں پر لے آئے۔ عمران خان نے غلام احمد بلور کو ان کی کامیابی پر مبارکباد دی ہے لیکن کیا وہ اس پر قائم رہیں گے؟ انہوں نے 11 مئی کے انتخابی نتائج پر مسلم لیگ ن کو بھی مبارکباد دی تھی۔ 11 مئی مینڈیٹ کو قبول کرتے ہوئے انہوں نے کے پی کے میں تحریک ِ انصاف کی حکومت بنانے کا اعلان کیا تھا اور پھر انتخابات میں دھاندلی کا شور مچانے لگے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *