روزہ اور میاں بیوی کا تعلق!

naeem-baloch1

ای میل تو خاصی تفصیلی تھی ، آپ متعلقہ حصے کا خلاصہ ملاحظہ فرمائیں :
’’روزہ فجر سے مغرب تک اللہ کے حکم کی خاطر کھانے پینے اور جنسی عمل سے رکے رہنے کا نام ہے ، میں اس کا مطلب یہی لیتا تھا کہ جس طرح باجرے کا دانہ کھانے سے بھی روزہ ٹوٹ جاتا ہے اسی طرح بیوی کی طرف تھوڑی سی بھی جنسی رغبت اور حرکت روزے کو خراب کر دے گی۔ میری شادی کو اگرچہ صرف تین مہینے ہی ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود اپنے محدود مذہبی علم مگر دین سے بے حد محبت کے باعث میں روزے کی حالت میں بیوی کے قریب نہیں پھٹکتا تھا۔ لیکن دوسرے روزے کا ذکر ہے کہ مجھے مسجد کے بورڈ پر مارکر سے روزے کے مسائل لکھے نظر آئے۔ ہماری مسجد میں باقاعدگی کے ساتھ اس بورڈ پر دینی مسائل وغیرہ لکھے جاتے ہیں جنھیں میں بڑے اہتمام سے پڑھتا ہوں۔ اس میں روزے حالت میں جائز کاموں کی فہرست تھی جس میں یہ بھی لکھا تھا کہ روزے کی حالت میں میاں بیوی کابوس و کنار جائز ہے۔ یہ اجازت میرے لیے جہاں حیران کن تھی وہیں کسی خوشخبری سے کم نہ تھی ۔ پہلے تو میری عقل نے اسے ماننے سے انکار کیا لیکن پھر میں نے ایک دو بے تکلف محلے داروں کی توجہ اس تحریر کی طرف دلائی ، انھوں نے جہاں میری بے خبری کا مذاق اڑایا وہیں تصدیق کی کہ یہ بالکل درست بات ہے اور اس میں ہمارے فرقے کے لوگ متفق ہیں ۔ اب کل ایسا ہوا کہ ہم میاں بیوی اس جائز کام کو کرتے کرتے اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور وہ کچھ ہو گیا جو کہ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔

Image result for worried muslim couple shadow

ہوش آیا تو ہم بہت پچھتائے ، یہ ظہر کے بعد کی بات تھی ، اس لیے روزہ تو مکمل ہی کیا ۔ شرم کے باعث کسی سے کچھ نہ کہہ سکا، ابھی تک گھر والوں سے بات نہیں کی ۔میرے ابو کو پتا چل گیا تو وہ تو کھال ہی ادھیڑ دیں گے، اس لیے خاموشی اختیار کی ، لیکن ضمیر بہت ملامت کر رہا ہے ، میں نے انٹرنٹ پر اس مسئلے پر خاصی معلومات حاصل کی ہیں ۔جس کا خلاصہ یہ ہے ہم دونوں میاں بیوی کو متواتر ساٹھ روزے رکھنے پڑیں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ اصل قصور تو میرا ہی ہے ، وہ تو مجھے ر وکتی رہ گئی، میں ہی بے قابو ہو گیا تھا۔اب کیا وہ بھی ساٹھ روزے رکھے گی ؟اس طرح تو ہماری بہت بدنامی ہو گی۔ آپ کالج میں میرے اسلامیات کے استاد رہ چکے ہیں ( سیشن اور کالج کا تعارف کرایا لیکن میں طالب علم کو پہچان نہیں سکا ) آپ سے بعض طلبہ بہت سے سوالات کرتے تھے اور ہم مطمئن ہو جاتے تھے، اسی تاثر کے باعث فیس بک پر آپ کا نام تلاش کر کے یہ ای میل کی ہے ، اللہ کے واسطے وقت نکال کر رہنمائی کیجیے گا ۔ میں شرم کے مارے فون پر بات نہیں کر سکتا بس آپ مہربانی کر کے ای میل ہی کے ذریعے سے جواب دیں ۔‘‘
ظا ہر ہے میں نے اس شرمیلے لیکن بے وقت مردانگی دکھانے والے شاگرد کو جوا ب دے دیا کہ اسے تو بہرکیف روزے رکھنا پڑیں گے ۔ البتہ وہ اتنی رعایت لے سکتا ہے کہ یہ روزے سردیوں میں رکھ لے جب روزہ چھوٹا ہوتا ہے۔ اور کسی کو بتانے کی بھی ضرورت نہیں ، البتہ اس کی بیوی ایک ہی روزہ رکھے گی۔ کیونکہ اس کے بقول اس غلطی میں اس کی مرضی شامل نہیں ۔اور جرمانہ شعوری غلطی ہی کا ہوتا ہے۔
اس واردات کو یہاں بیان کرنے کے کئی مقاصد ہیں ۔ پہلا یہ کہ یہ جان لیں کہ جنسی عمل غیر شادی شدہ ہو کر بھی ہو سکتا ہے ، اس کی متعدد صورتوں میں قابل بیان یہ ہے کہ اگر مصنوعی طریقے سے فراغت ہوئی ہے اور ایسا جان بوجھ کر کیا گیا ہے تو بھی روزہ ٹوٹ گیا اور کفارے میں اسی طرح ساٹھ متواتر روزے ہی رکھنے پڑیں گے۔ اس کے علاوہ اگر سوتے میں بحالت روزہ فراغت ہوئی ہے تو نہ روزہ ٹوٹا نہ کوئی جرمانہ یعنی کفارہ ہے ، بس غسل کیجیے اور معمول میں آ جائیے۔ اس کے علاوہ بھی بیسیوں ایسے مسائل ہیں جن کا یہاں ذکر مناسب نہیں ، اس کے لیے یہاں ایک کتاب کا تذکرہ کیاجارہاہے ۔’ بدا یۃالمجتہد‘ یہ ابن رشد کی عربی میں لکھی کتاب ہے جس کا اردو ترجمہ دستیاب ہے ۔ جس طرح ہر گھر میں ایک ڈکشنری ( لغت ) اور قرآن مجید ہوتا ہے ، اسی طرح یہ بھی تمام مذہبی مسائل کی ایک ڈکشنری ہے ۔ یہ کسی ایک فقہ کی کتاب نہیں ہے ، اس میں ابن رشد نے دین اسلام کا ہر مسئلہ تمام فقہ کے لحاظ سے انتہائی آسان طریقے سے لکھ دیے ہیں جو ہر عام پڑھا لکھا مسلمان سمجھ سکتا ہے اور اسے زندگی میں جب بھی اس طرح کا مسئلہ پیش آئے جس کو بیان کرنا اس کے لیے مشکل کام ہو ، وہ اس سے رہنمائی لے سکتا ہے۔ اس سے آپ بھانت بھانت کے مولویوں سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں ۔ یہ کتاب آپ کو ہر قسم کی کلاسیکی فقہی محتاجی سے نجات دلا سکتی ہے ۔ اس واقعے کے حوالے سے ایک مقصد اس ضروری کتاب کا تذکرہ تھا۔ تیسرا مقصد یہ باور کرانا تھا کہ ہمارے اپنے تعلیم اداروں اور گھروں میں دین کا پریکٹیکل علم دینے کا نظام کس قدر ناقص اور ادھورا ہے۔ خاص طور پر جن چیزوں کو ہم نے شرم کے لبادے میں چھپا رکھا ہے اس کی وجہ سے کتنے باعث شرم مسائل سے لوگ دوچار ہو جاتے ہیں ۔ یعنی ہمارے ہاں لوگ اسلام اسلام کا نام لیتے نہیں تھکتے لیکن اس کا عملی اظہار کس قدر بودا اورناکافی ہے۔
موضوع کی مناسبت سے اس مشہور فیس بکی بحث کی طرف بھی اشارہ کرتا چلوں جس میں جناب جاویداحمد غامدی کے کسی سائل کے جواب میں دئے گئے جواب کو زور وشور سے ہدف تنقید بنایا گیا ہے ۔ اس میں انھوں نے روزے کی شدت کے باعث ایک طالب علم کے جواب میں فرمایا ہے کہ اگر وہ امتحان یا کسی اور وجہ سے روزہ رکھنے سے معذور ہے تو اسے بعد میں رکھ سکتا ہے ۔ اس پر حسب عادت مولوی حضرات لٹھ لے کر ان کے پیچھے پڑ گئے ۔حالانکہ سادہ سی بات ہے کہ دین میں دو طرح کے احکام ہیں: ایک اجتماعی اور دوسرے انفرادی ۔ اجتماعی احکام کی مثال عبادات کا طریقہ ، جہاد ،نکاح و طلاق ، حدود اور ان کی سزائیں وغیرہ ہے ۔ اس میں ہر مسلمان پابند ہے کہ اپنی مرضی کرنے کے بجائے دین کے مقرر کردہ قانون کی پابندی کرے۔ یعنی آپ اللہ تعالیٰ کی عبادت کا بے پناہ شو ق اور جزبہ رکھتے ہیں ۔ اس کی بے حساب عبادت کرنا چاہتے ہیں ، لیکن آپ پابند ہیں ایک رکعت میں دو سجدے ہی کر یں ، محبت جتلا کر تین یا چار نہیں کر سکتے ۔ اور انفرادی معاملہ کی مثال حج کی فرضیت، روزے کی اہلیت ، زکوٰۃ کی ادائیگی کے لئے صاحب نصاب ہونا ہے،وغیرہ ۔ اس میں ہر مسلمان اپنا جائزہ لے کر خود فیصلہ کر سکتا ہے کہ اس پر حج فرض ہے یا نہیں ، اس کی مالی حالت کیسی ہے اور اس کی صحت روزے کی شدت برداشت کرنے کی اجازت دیتی ہے یا نہیں ۔اب جب دین اجازت دیتا ہے کہ بیماری اور تکلیف کی وجہ سے روزے کی گنتی بعد میں پوری کی جا سکتی ہے تو اس کا فیصلہ مولوی صاحب کریں گے یا وہ شخص جس نے روزہ رکھنا ہے ؟ لیکن دین سے عمومی بے خبری کی وجہ سے لوگوں نے اپنا یہ حق مولوی صاحب کو دے رکھا ہے ۔حالانکہ اس میں ایک مسلمان کو خود فیصلہ کرنا چاہئے۔بس اسے یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ اللہ دلوں کے حال جانتا ہے ، اس لئے کوئی شخص اگر جان بوجھ کر غلط فیصلہ کرتا ہے تو اللہ کے ہاں جواب دہ ہو گا ۔ اس لئے مناسب یہی ہے کہ دین کی اسی سپرٹ کو سامنے رکھ کر انفرادی معاملات کو ہم خود نمٹائیں ، اس سے ہم بہت ساری پیچیدگیوں سے بچ سکتے ہیں ۔لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم
جو کام اللہ کے کرنے ہیں وہ خود کر ڈالتے ہیں اور جو کام ہمارے کرنے کے ہیں ان کی ذمہ داری اللہ پر ڈال دیتے ہیں یا مولوی صاحب پر ۔ مثلاً کسی کی جنت دوزخ ، اللہ کے ہاں اس کا مقام ومرتبہ ہم خود طے کر دیتے ہیں ،کسی نے عمل نیک نیتی سے کیا ہے یا بد نیتی سے ، اس کو خود متعین کرنے بیٹھ جاتے ہیں ، لیکن بیمار خود ہوتے ہیں اور اس کے بارے میں مولوی صاحب سے پوچھتے ہیں کہ روزہ رکھ لوں یا نہیں ۔ بچے خود پیدا کرنے کا اہتمام کرتے ہیں لیکن اس کو پالنے کی ذمہ داری اللہ پرڈال دیتے ہیں ۔ کام خود خراب کرتے ہیں، حکمت عملی ہماری غلط اور نامناسب ہوتی ہے اور قسمت اور مقدر کو کوسنے بیٹھ جاتے ہیں ۔ دین کا اتنا علم جتنا ہم اپنی صحت اور روزمرہ کے معاملات کے بارے میں رکھتے ہیں ، حاصل کر لیں تو مولوی کی پاپائیت، اجارہ داری ، بلیک میلنگ اور مذہب کے نام پر استحصال سے بھی بچ سکتے ہیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *