شاباشی

محمد طاہرM tahir

پنجاب کو انسدادِدہشت گردی کی فورس مبارک ہو، مگر باقی صوبے؟ کیا ہو رہا ہے اور ہم کیا کر رہے ہیں؟ دہشت گردی کے عفریت کو قابوکرنے کے لئے ہمیں وسیع الاطراف کوششیں درکار ہیں۔ مگر سب سے پہلے اپنے ہی طرزِفکرو عمل سے شدید جنگ کی ضرورت ہے جس نے پوری ریاست کا آہنگ بگاڑ دیا ۔ پہلے سے قائم اچھے بھلے اداروں کو تہ وبالا کر دیا ہے۔ کسی ادارے کی کسی نوع کی ساکھ کو باقی نہیں رہنے دیا۔ پُرانے طرزِفکروعمل سے نئے اداروں کی داغ بیل کے نتائج بھی پُرانے ہی نکلیں گے۔ پُرانے تضادات سے نئے عہد کا گجر نہیں ، وہی پُرانی ہڑبونگ اور وہی چل پول مچے گی۔ شاید پہلے سے زیادہ خطرناک!کراچی میں میاں نوازشریف کی آمدِ شریف سے ایک بار پھر آشکار ہوا۔ سب کچھ پہلے جیسا ہی ہے۔ افسوس کوئی حادثہ ہمیں بدلنے کی طاقت ہی نہیں رکھتا!
تضادات کی گھمن گیریوں سے ریاست کے کرتا دھرتا کیسے نکلیں گے ؟میاں صاحب اپنا دامن کیسے چھرائیں گے؟ سادہ الفاظ میں معصومانہ طرزِ اظہار ،عمل کی کسوٹی پر اس قدر پُر پیچ کیوں نظر آتا ہے؟ کیا کُہنیاں مارتے ہوئے کوئی اتنی دیرچُھپ سکتا ہے؟ سوال تو اور بھی بہت ہیں؟ جو وزیراعظم کے دورۂ کراچی سے پھوٹ بہے ہیں، مگر سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ریاست کے نزدیک مقتولین ایک جیسے نہیں ہیں اور وہ قاتلوں کے درمیان بھی فرق روا رکھتی ہے؟ ظلم ، کب تک یہ ظلم برداشت کیا جا سکے گا؟
میاں صاحب نے بہت اچھا کیا کہ گورنر ہاؤس میں سہیل احمد کے ورثاء سے تعزیت کی، مگر حکمران کا کام اس سے ذرا زیادہ ہوتا ہے۔ وہ تعزیت ہی نہیں داد رسی بھی کرتا ہے۔ اور ورثاء کے ساتھ سب سے بڑی دادرسی یہ ہے کہ اُن کے سامنے قاتلوں کو قانونی انجام تک پہنچا دیا جائے۔ کیا نواز شریف یہ کریں گے، اس سے بھی بڑھ کر سوال تو یہ ہے کہ وہ اس نظامِ حکومت میں کسی کی، کسی بھی طرح کی داد رسی کا اختیار بھی رکھتے ہیں؟ ورثاء کے لئے چند لاکھ کے اعلانات کی بات دوسری ہے۔ مگر سادگی میاں صاحب کے چہرے پر اس طرح طاری ہوتی ہے کہ گاہے خود پر یہ گمان گزرتا ہے کہ کہیں ہم ایسے’’ بھلے‘‘ حکمران کے ساتھ زیادتی کے مرتکب تو نہیں ہورہے۔ پھر فردِعمل پر نگاہ ڈالتے ہیں تو ایک شرمناک سناٹا طاری ہوتا ہے اور گریز کو بددیانتی باور کراتا ہے۔ وزیراعظم جب سہیل احمد کے ورثاء سے گورنر ہاؤس میں مل رہے تھے تو گورنر ہاؤس کے دروازے پر کراچی کے دیگر مقتولین کے ورثاء بھی پہنچ گئے۔ کیا نوازشریف کے نزدیک اُن ورثاء کی کوئی اہمیت تھی؟ کیا اُن تک اُن کی آواز پہنچی؟ کراچی کی کوئی لاش لاوارث نہیں۔ پھر حکمرانوں کی توجہ چند لاشوں پر ہی کیوں مرکوز ہوتی ہیں؟ بدقسمتی سے یہ پاکستان کا حقیقی ماحول ہے کہ جو جماعت یا گروہ حکمران اشرافیہ کو جتنا زیادہ پریشان رکھ سکتے ہیں، حکمران اُن کی اتنی ہی دلجوئی میں مصروف نظر آتے ہیں۔ قاتلوں کو تو چھوڑیئے جو ریاست مقتولین کو بھی ایک نظر سے نہ دیکھتی ہو ، وہ خود پر اپنے ہی شہریوں کا اعتماد کیسے برقرار رکھ پائے گی؟یہ رویہ حکمرانوں کی دادرسی اور ہمدردی کے جذبات کو بھی بے توقیر کر دیتا ہے۔
کراچی میں معلوم نہیں، کون سے حالات کہاں پر بہتر ہوگئے تھے، جس کی شاباشی وزیراعظم نے وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کو دی۔ حالات کی بہتری کے تمام اشاریئے وزیراعظم کے بیانئے کے خلاف نظر آتے ہیں۔کراچی ہر گزرتے دن بد سے بدتر ہوتا جارہا ہے۔ نفاذِ قانون کے تمام دعوے دھرے کے دھرے ہیں۔ وزیرِداخلہ چوہدری نثار نے کراچی آپریشن کے جن تین مدارج کا ذکرِ کثیر و کثیف فرمایا تھا۔ وہ اب ایک بھولی بِسری داستان بن چکا ہے۔ دراصل وفاقی حکومت کو اس مرحلے پر اپنے آپریشن کے نتائج اور دعووں کا ایک جوہری جائزہ لینے کی ضرورت تھی ۔ مگر وزیراعظم نے زیبِ داستان کے لئے وزیراعلیٰ کو شاباشی دی۔ وہ سندھ میں اِسی طرح شکار ہوتے رہے ہیں۔ حکیم محمد سعید کے المناک قتل کے وقت وہ جن گمراہ کن حالات و حقائق کے شکار ہوئے تھے۔ وہی حالات اُن کے گردوپیش میں ایک مرتبہ پھر طاری ہے۔ وہ کون سا کراچی ہے جہاں میاں نوازشریف کو حالات بہتر لگے ہیں۔وہ جس ماہ کے اختتام پر یعنی جنوری میں کراچی تشریف لائے اُس میں دو چار یا دس بیس نہیں بلکہ ایک سو انیس لوگ قتل ہوئے ہیں۔ بیشتر کے قاتل اتنے نامعلوم بھی نہیں ، مگرر یاست اُن قاتلوں کے آگے بالکل بے بس ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ایک سو انیس قتل اگر طالبان نے نہیں کئے، تو کیا ان کے قاتل کم خطرناک ہے یا زیادہ خطرناک ہے جو ریاست اُن پر ہاتھ نہیں ڈالتی یا پھر اُنہیں نظرانداز کر دیتی ہے۔ کیا سہیل احمد کو طالبان نے قتل کیا ہے؟گزشتہ برس میاں نواز شریف کے عہدِ اقتدار میں آتا ہے۔ کراچی آپریشن کا تین مدارج کے ساتھ بلند بانگ دعووں سے آغازبھی 2014 میں ہی کیا گیا تھا ،مگر تب بھی یہ شہر بدترین دہشت گردی کا شکار رہا۔صرف 2014 میں 2909 افراد قتل ہوئے۔جس میں 78 بچے بھی شامل ہیں، جی ہاں ! 78 بچے۔اگر کراچی کے ان حالات کو بہتر سمجھتے ہوئے قائم علی شاہ میاں نواز شریف کی شاباشی کے مستحق قرار پائے ہیں تو پھر میاں نوازشریف پوری قوم کی ’’شاباشی ‘‘کے مستحق ہیں۔مگر شاباشیوں کے اس ملامت زدہ ماحول میں اصل سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اِن لاشوں کے قاتل، قاتل نہیں ہیں۔ جو ریاست قاتل، قاتل میں فرق کرے ، وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ تو کجا،کوئی معمولی سی معمولی لڑائی بھی نہیں جیت سکتی ۔ یقین نہ آئے تو آج کے اخبارات پڑھ لیجئے دو وزراء اپنے بیانات میں پیٹرولیم کی کم قیمتوں کے باعث کرایوں میں کمی نہ ہونے کا ماتم کر رہے ہیں۔ اس کو تو چھوڑیئے ! کیا حکومت ادویات ، اشیائے خوردونوش اور فروٹ کی قیمتوں پر کوئی نگرانی رکھ پائی ہے۔ ذرا اصلی قیمتوں کے چارٹ کے ساتھ ٹھیلوں کا رخ کیجئے۔ ایک ٹھیلے والے پر بھی حکومت کا کوئی بس نہیں چلتا۔کسی ریاست یا حکومت کی قوتِ نافذہ میں ایسی شرمناک تنزلی کے ہنگام جب دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اُس کے دعووں کے الفاظ پر غور کرتے ہیں توسینہ ایک آتش فشاں کی طرح دہکنے لگتا ہے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بدترین مسئلہ اشرافیہ کی روایتی دلچسپیوں کا ہے۔ سانحۂ پشاور کے انتہائی سوگوار ایام میں ہمارے مسیحا بننے کے شوقین عمران خان نے شادی رچالی۔ جب وہ آرمی پبلک اسکول پہنچے تو ایک متاثرہ خاتون نے اُن کا گریبان پکڑ کر کہا کہ کہ جب ہمارے سینوں پرچھڑیا ں چل رہی تھی تو تم شادی رچا رہے تھے۔میاں نوازشریف کا ماجرا بھی مختلف نہیں۔کراچی دورے میں وہ اسٹاک ایکسچینج تشریف لے گئے۔ جہاں آٹھ طرح کی ڈشوں سے اُن کی تواضع کی گئی۔ یہی وہ وقت تھا جب شکار پور کا سانحہ رونما ہوا۔ وزیر اعظم کیسے ہی بدترین حالات ہو کھانے سے اپنی رغبت کو چھپا نہیں پاتے۔ یہ کیسا رویہ ہے؟ اس سے شخصیت کا کیسا تاثر اُبھرتا ہے؟ اُنہیں اس کی ذرا بھی پروا نہیں ہوتی۔ اب ذرا دیکھئے! سانحہ شکار پور واقع ہو چکا ہے۔ وہ کراچی میں گرنے والی لاشوں کے حوالے سے اچانک کراچی تشریف لائے ہیں۔ مگر کراچی اسٹاک ایکسچینج میں کھانے کے حوالے سے تبصرہ کئے بغیر نہ رہ سکے۔ اُن کی بار بی کیو، ملائی بوٹی،کباب،اسپیشل دال چاول، فنگر فش اور فروٹ رائفل سے تواضع کی گئی۔ مگراُنہوں نے وہاں پر یہ تبصرہ کیا کہ اُنہیں کمزور کھانا کھلایاگیا۔ معلوم نہیں وہ کس کھانے کی توقع اسٹاک ایکسچینج میں کررہے تھے۔سانحہ پشاور پر اے پی سی میں بھی وہ ایک موقع پر کھانے کا ذکر لے کر بیٹھ گئے تھے۔ملک جن بحرانوں سے گزرہا ہے اُس میں حکمرانوں کو بھوک کیسے لگ جاتی ہے؟ چہ جائیکہ وہ کھانوں کے تلذذ کی عزیزحکایتوں اور لذیذ شکایتوں کے قصے لے کر بیٹھ جائیں۔ کراچی کے سنجیدہ لوگ تو یہ سمجھنے سے بھی قاصر ہیں کہ آخر حکمران جب بھی کراچی آتے ہیں تو اُن کا رخ کاروباری حلقوں کی طرف ہی کیوں ہوتا ہے؟ وزیراعظم کو کراچی اسٹاک ایکسچینج جانے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ کراچی میں ہرطبقے کے لوگ دہشت گردی کے شکار ہیں اور سب کا اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ مگر حکمرانوں کو صرف ایک ہی طبقے کی شکایتوں کی کچھ زیادہ پروا ہوتی ہے۔ حکمرانوں کو اپنا چہرہ اشرافیہ نواز نہیں رکھنا چاہئے۔ کیاتعلیمی ، عوامی اورثقافتی اداروں کو رونق بخش کر حکمران اپنا پیغام (اگر کوئی ہے تو) زیادہ معنی خیز نہیں بنا سکتے۔ دراصل پاکستان جن بحرانوں سے گزررہا ہے ،اُس کا سامنا کرنے کے لئے جس طرح کی قیادت ہمیں درکار ہے وہ میسر ہی نہیں۔ ہمیں تو ایسے لوگ بھی میسر نہیں جو ان بحرانوں کو ٹھیک طرح سے سمجھ سکیں ۔اس سے مقابلہ کرنے کی بات تو بہت دور کی ہے۔جب تک یہ قیادت میسر نہیں ۔ہم کسی اور چیز سے دل بہلاتے ہیں۔ غالب نے تو دل بہلانے کو ایک خیال ہی کافی سمجھ لیا تھا مگر ہمارے پاس تو پنجاب کی انسدادِدہشتگردی کی فورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ بھی ہے۔اس سے دل بہلاتے ہیں۔ آخر دل بہلانے کو بھی توکچھ نہ کچھ چاہئے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *