کلین چٹ

gul-nokhaiz

پہلے میں نے چھری اٹھائی‘ پھر کچھ سوچ کر رکھ دی۔ادھر اُدھر دیکھا، قریب ہی ایک پلاس نظر آیا، اگرچہ اس سے بھی کام چل سکتا تھا لیکن میں سوچ رہا تھا کہ شاہ صاحب کو چھری پہلے ماری جائے یا پلاس سے ان کے ناخن کھینچ لیے جائیں۔ایک خیال یہ بھی آیا کہ کسی کو 'سپاری‘ دے کر شاہ صاحب کا کام تمام کروا دیا جائے ۔ ارادے تو اس سے بھی آگے کے تھے لیکن پہلے میں بات کی تہہ تک پہنچنا چاہتا تھا۔میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ نیک شاہ صاحب کو تومیں خود چھوڑ کر آیا تھا‘ پھولوں کے ہار پہنائے تھے‘ پورا محلہ ساتھ تھا‘ پھر یہ اچانک شاہ صاحب کیسے...؟؟؟ ذہن میں عجیب و غریب سوال اٹھنے شروع ہوگئے۔ کیا شاہ صاحب نے اعتکاف توڑ دیا ہے؟ لیکن اس کی نوبت کیوں آئی اور مجھے کیوں نہیں پتا چلا؟ ابھی کل ہی تو میں گھر سے بریانی بنوا کر انہیں مسجد میں دے کر آیا تھا۔جتنا میں سوچتا ‘اتنا ہی مزید الجھن کا شکار ہوا جاتا ۔ بالآخر میں نے شاہ صاحب کے گھر جانے کا فیصلہ کیا۔ میں نے تہیہ کرلیا کہ شاہ صاحب نے اگرکوئی الٹا سیدھا جواز پیش کیا تو میں کم ازکم ان سے ہمیشہ کے لیے قطع تعلق ضرور کرلوں گا۔
شاہ صاحب کے گھر کی بیل دی تو اندر سے ان کی اہلیہ کی آواز آئی'کون؟‘۔ میں نے نام بتایا ‘ سلام لیا اور گزارش کی کہ ذرا شاہ صاحب کو باہر بھیج دیں۔ میری بات کے جواب میں کچھ دیر خاموشی رہی‘ پھر تھوڑا سا دروازہ کھلا اور ان کی اہلیہ دروازے کے پیچھے سے ہی بولیں'بھائی آپ سگریٹ پیتے ہیں؟‘۔ میں بوکھلا گیا‘ اللہ جانتا ہے مجھے لگا جیسے ابھی آواز آئے گی'ایک مجھے بھی دیجئے گا‘۔ میں نے کچھ دیر اپنے ہوش و حواس بحال کیے 'جی پیتا ہوں‘۔ آواز آئی'سادہ پیتے ہیں یا بھرے ہوئے؟‘۔
لاحول ولا قوۃ،میرے پسینے چھوٹ گئے‘میں نے رو دینے والی آواز میں کہا'جی سادہ...بالکل سادہ پیتا ہوں۔‘
'لگتا تو نہیں،شاہ صاحب کو تو آپ خود مسجد میں اعتکاف بٹھا کر آئے تھے‘ پھر وہ گھر میں کیسے ہوسکتے ہیں؟‘‘۔
میرا دماغ بھک سے اڑ گیا۔ یعنی شاہ صاحب اعتکاف میں ہیں اور...!!! میں ساری بات سمجھ گیا‘ سلام لیا اور نکل آیا۔ پہلے تو سوچا کہ مسجد جاکر 'کائونٹر چیک‘ کرتا ہوں‘ پھر بجلی کے کوندے کی مانند خیال آیا کہ کیوں نہ شاہ صاحب سے اُسی طریقے سے رابطہ کیا جائے جس طریقے سے اُنہوں نے کیا۔ فوراً گھر کا رخ کیا‘ لیپ ٹاپ کھولا اور فیس بک پر میسج بھیجا'شاہ جی ! کیا حال ہے؟‘۔ شاہ جی آن لائن تھے، فوراً جواب آیا'الحمدللہ،توں دس ،،قورمہ لے کے کدوں آئیں گا‘‘
اُس رات میں بار بار چیک کرتا رہا‘ شاہ جی سحری تک آن لائن رہے‘ اس دوران ہمیشہ کی طرح انہوں نے کسی دوسرے دوست کا میسج بھی غلطی سے تین چار دفعہ مجھے بھیج دیا جس سے اندازہ ہوا کہ وہ بیک وقت کم ازکم پانچ جگہ چیٹنگ میں مصروف ہیں۔میں نے ایک موقع پر ان سے پوچھ ہی لیا کہ 'شاہ جی! اعتکاف میں بھی فیس بک؟‘۔ ان کی طرف سے دندیاں نکالے کارٹون کی تصویر کے ساتھ لکھا ہوا آیا'کچھ نہیں ہوتا‘ میں نے پوچھ لیا تھا‘۔
اب یہ تو معلوم نہیں انہوں نے کس سے پوچھا ‘ یقینااپنے آپ سے ہی پوچھا ہوگا لیکن وہ مسلسل آن لائن ہیں‘ سٹیٹس بھی اپ ڈیٹ کرتے ہیں‘ دوسروں کی پوسٹ پر کمنٹس بھی کرتے ہیں اور سب دوستوں سے زیادہ باخبر جارہے ہیں۔ایک بات تو طے ہے کہ مسائل اور سوالات کی نوعیت بدل گئی ہے۔ اگلے وقتوں میں سوال ہوا کرتے تھے کہ اعتکاف میں کیا پڑھنا چاہیے؟ طبیعت خراب ہوجائے تو کیا اعتکاف توڑا جاسکتا ہے؟ کیا اعتکا ف کے دوران انتہائی مشکل صورتحال میں کچھ وقت کے لیے باہر آیا جاسکتا ہے؟ ...وغیرہ وغیرہ! آج کل پوچھا جاتاہے کہ کیا اعتکاف میں انٹرنیٹ استعمال کیا جاسکتا ہے؟موبائل فون پاس رکھا جاسکتا ہے؟ نیوز چینل یا ویب سائٹ ملاحظہ کی جاسکتی ہے؟ اپنی سیلفی لی جاسکتی ہے؟وڈیو چیٹ کی جاسکتی ہے؟؟؟اگر یہ سب کیا جاسکتا ہے تو پتا نہیںکیوں مجھے لگتاہے ہم اُسی دنیا میں ہیں جہاں ہم اعتکاف سے پہلے تھے۔ ہماری ساری دنیا موبائل میں ہی تو سمٹی ہوئی ہے۔ گھر میں ٹی وی لگا ہوتا ہے اور سب اپنے اپنے موبائل پر مصروف ہوتے ہیں۔معذرت کے ساتھ،اصل عبادت ہی موبائل سے دوری ہے۔ اسی سے تنہائی میسر آسکتی ہے‘ وہ تنہائی جو خدا سے رابطے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔
پہلے کبھی جب کسی فنکشن میں بور تقاریر سننے کو ملتی تھیں تو حاضرین جمائیاں لینے لگتے تھے‘ آج کل اطمینان سے موبائل نکال لیتے ہیں۔ اب انتظار برا نہیں لگتا بلکہ کئی دفعہ تو دل کرتاہے کہ انتظار مزید طویل ہوجائے۔سفر سے لے کر گھر تک موبائل ہمارا دل بہلاتا ہے ۔ یہ موبائل ہی دنیا ہے اور اسی دنیا سے کٹ کر اعتکاف میں بیٹھا جاتاہے۔دل چاہتا ہے کہ وہ لوگ جو اعتکاف میں بھی باہر سے مسلسل جڑے ہوئے ہیں انہیں یا تو اپنے اعتکاف کے سٹیٹس نہیں لگانے چاہئیں یا کم ازکم دنیاوی گفتگو میں حصہ دار نہیں بننا چاہیے۔
عبادتیں شغل بن جائیں تو دعائیں گونج بن جاتی ہیں‘ اپنی ہی سماعتوں سے ٹکراتی ہیں اور واپس لوٹ آتی ہیں۔رمضان بہلانے کا کیسا انتظام کیا ہے ہم نے،سارا دن رمضان ٹرانسمشن‘ انعام جیتیں‘موٹرسائیکل پر فریفتہ ہوتی لڑکیوں کو جیتی ہوئی موٹر سائیکل پرمیزبان کے ساتھ ایک چکر لگاتے دیکھیں ‘ ٹیلی فون کے ذریعے سوالوں کے جوابات دیں‘ گھر بیٹھے بیش قیمت چیزیں حاصل کریں ۔لیجئے روزہ گزر گیا۔ پتا نہیں آج سے 10 سال پہلے لوگ کیسے روزہ رکھ لیتے تھے؟ کیسے دن گزرتا تھا؟
میرا ایک محلے دار جس نے حج کرانے کے نام پر اپنی بیوہ بہن کے تین لاکھ ڈکار لیے‘جس نے یتیم بھتیجوں کی آدھے مرلے کی دوکان پر بھی قبضہ کرلیا‘ جس نے نے دنیا جہان کا ادھار دینا ہے‘ آرام سے اعتکاف میں بیٹھ گیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس سے تین فائدے ہوئے ہیں۔ عبادت کا موقع بھی مل گیا ‘ قرض خواہوں کی بک بک سے بھی جان چھوٹ گئی اور عید شاپنگ سے بھی چھٹکارا مل گیا ۔گھر میں موصو ف کو ایک ہی ڈش کھانے کے لیے ملتی تھی لیکن مسجد میں اتنے سارے لوگ اعتکاف بیٹھے ہیں‘ سب کی ڈشیں اکٹھی ہوجاتی ہیں‘ انواع و اقسام کا رزق میسر ہے‘ نہ نوکری کی فکر ہے‘ نہ گھر کی ،لیکن موبائل پاس ہے، میسج کرنے کی فرصت ہے‘ پیکیج لگایا ہوا ہے‘ ہینڈز فری پاس ہے...دلوں کے حال ہم نہیں جان سکتے ۔اللہ اس کی عبادت قبول و منظور فرمائے۔ لیکن کبھی کبھی ایک سوال شدت سے تنگ کرنے لگتا ہے‘ کیا جفت راتوں میں خلقت کا جینا حرام کرنے والوں کو طاق راتوں میں کلین چٹ مل سکتی ہے؟۔۔۔۔۔۔۔۔(گل نوخیزاختر کی یہ تحریر روزنامہ دنیا میں شائع ہوئی)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *