عجیب سی بے چینی

صدف زبیری

sadaf zubairi

حیدری پر ساری بوگس ورائٹی تھی لہٰذا فیصلہ ہوا کہ طارق روڈ چلا جائے افطار میں صرف چالیس منٹ باقی تھے بھاگتے دوڑتے طارق روڈ پہنچے تو روزہ کھلنے میں چند منٹ رہ گئے تھے ۔فوڈ پوائنٹ پر بیٹھنے کی کوئی جگہ باقی نہیں بچی تھی ۔۔
آگے ۔۔۔ذرا اور آگے بڑھتے بلاخر جگہ مل ہی گئی لوگ ابھی تک مسلسل آرہے تھےسکون کا سانس لئے بنا بھاگتے ہوئے ویٹر کو پکڑا
زنگر ، بریانی ، رولز ،پکوڑے کولڈ ڈرنک ، پانی لے آو ۔۔۔
آرڈر دے چکے تھے پانی پکوڑے فوری آگئےروزہ کھل چکا تھا سب اچھا تھا مگر عجیب سی بے چینی ہو رہی تھی ۔۔۔
باقی اشیاء پربھی ہاتھ صاف کیا مگر گرمی کے روزے کی پیاس آسانی سے بجھتی ہے بھلا ؟؟؟؟
" سر شیک بھی لے آئیں "
بنانا ، مینگو ، اور میرے لئے کاک ٹیل ۔۔۔۔
میم رش بہت ہے کاک ٹیل مشکل ہو گا آپ کوئی اور شیک لے لیں ۔۔
مجھے چپ لگ گئی ویٹر نے میری چپ کو مسکرا کر دیکھا
" اچھا میں بنواتا ہوں "
کچھ ہی دیر میں ٹھنڈا ٹھار مزیدار کاک ٹیل پیاس پر ابر بن کر برسا اندر باہر تک سکون دوڑجانا چاہئے تھا مگر وہی عجیب سی بے چینی شروع ہو گئی ۔۔
افطارسے فارغ ہو چکے تھے مغرب کے وقت ٹھہر جانےوالے منظر میں دوبارہ زندگی دوڑنے لگی تھی رگوں میں توانائی آچکی تھی شاپنگ کی بھاگ دوڑ کے لئے دل اور ٹانگیں پوری طرح تیار تھے ۔اٹھنے لگے تھے کہ سامنے چائے دیکھ کر دوبارہ بیٹھ گئے ۔
چائے کے بنا افطار کی کلوزنگ ممکن ہی نہیں ۔۔
چائے سے فارغ ہو کر کپ رکھے ۔۔شاپرز اٹھائے اور پہلی بار ارد گرد کے ماحول پر نظر دوڑائ ۔۔ساتھ والی ٹیبل پر کچھ نوجوان لڑکوں کا گروپ تھا ۔۔۔سامنے ایک ادھیڑ عمر گریس فل کپل بیٹھا تھا برابر والی ٹیبل پر ایک صاحب ہماری طرح چائے والے مرحلے میں داخل ہوئے دھیرے دھیرے چسکیاں بھر رہے تھے ان صاحب کے زرا پیچھے ایک باریش صاحب اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ تھے اور ہم سے پہلے اٹھ کر جا چکے تھے ۔۔واپسی کے لئے ان کی ٹیبل کے پاس سے گزرتے یونہی میری نظر اٹھی ۔۔۔۔اور اٹھی ہی رہ گئی ۔۔۔۔
ٹیبل پر ڈیڑھ لیٹر کی پانی کی خالی بوتل اور فنگر چپس کے دو خالی باکس پڑے تھے ۔۔۔
دو دن گزر گئے ۔۔۔۔سب ٹھیک ہے بس عجیب سی بے چینی ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔۔۔۔
صدف زبیری

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *