اوول سے حرمین تک

rauf tahir
70 سال قبل، صدی کے سب سے بڑے سیاسی لیڈر کی زیر قیادت، ایک سیاسی جماعت کے پرچم تلے، ایک سیاسی عمل کے ذریعے تاریخ کا عظیم معجزہ رونما ہوا۔ تب مسلمانانِ برصغیر کی زبانوں پر نعرہ تھا، پاکستان کا مطلب کیا، لَااِلٰہ اِلاّ اللہ۔ سات دہائیاں بیت گئیں، پاکستانی قوم کے اندر سے ''مولوی‘‘ نہیں نکلا۔ گزشتہ شب چیمپئنزٹرافی کے فائنل میں پاکستانی ٹیم نے اپنے ازلی حریف کو بدترین شکست سے دو چار کر دیا۔ وہ جو انگریزی میں کہتے ہیں، Bite The dust دھول چٹا دی۔ فخرزمان نے، کہ اب فخرِ پاکستان بن چکا تھا، شاندار سنچری سکور کی، ہیلمٹ اتارا اور سجدئہ شکر کے لیے پیشانی زمین پر رکھ دی۔ میچ کے اختتام پر فاتح ٹیم وہیں گرائونڈ میں سر بسجود ہو گئی تھی۔ سابق ٹیسٹ کرکٹر ''مولوی‘‘ محمد یوسف کو تو یہی بات کہنا تھی لیکن اپنے عہد کے تیز ترین بالر شعیب اختر سمیت اچھے خاصے لبرل اور آزاد خیال ماہرین بھی یاد دلا رہے تھے کہ 1992 کا ورلڈ کپ بھی ہم نے 22رمضان المبارک ہی کو جیتا تھا۔ متوالوں نے یاد دلایا ، تب بھی میاں صاحب وزیراعظم تھے۔2009 میں ہم ٹی ٹونٹی چیمپئن بھی اسی ماہ مقدس میں بنے تھے۔ ایک نے گرہ لگائی، خود پاکستان کا قیام بھی تو 27 رمضان کی مبارک شب عمل میں آیا تھا۔ خادم پنجاب گرین شرٹ پہن کر ٹی وی کے سامنے بیٹھ گئے تھے۔ آرمی چیف جنرل قر جاوید باجوہ نے بڑی معنی خیز بات کہی‘ ''ثابت ہوا کہ کوئی چیز ٹیم ورک کو شکست نہیں دے سکتی۔‘‘ ٹیم ورک؟ جس کی جہاں ڈیوٹی ہے، وہ وہاں اپنی ڈیوٹی انجام دے۔ریاستی امور کے حوالے سے ادارے اپنی اپنی آئینی حدود میں کام کریں۔
عزت اور ذلت خدا کے ہاتھ میں ہے۔ نجم سیٹھی اور شہریار خاں بعض حلقوں کی طرف سے تنقید کی زد میں رہتے، انہیں پاکستانی کرکٹ کی تباہی کا ذمہ دار قرار دیاجاتا، لیکن قدرت نے ان کی قسمت میں یہ اعزاز بھی لکھا تھا کہ پاکستان ان ہی کے دورمیں پہلی بار چیمپئنز ٹرافی کا چیمپئن بنا، ورلڈ کپ کھیلنے والی آٹھ بڑی ٹیمیں جس میں حصہ لیتی ہیں۔ فخر زماں، حسن علی اور شاداب جیسا ٹیلنٹ بھی تو سیٹھی کے پی ایس ایل ہی کی دریافت ہے۔ پاکستان نے پہلے بلے بازی کی لیکن یہ سرفراز احمد کا فیصلہ نہ تھا‘ ویرات کوہلی نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے کھیلنے کی دعوت دی تھی۔
وزیر اعظم دیارِ حرم پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے اپنی فاتح ٹیم کو مبارک باد دی۔اس کے لیے عمرہ پیکیج کا اعلان آرمی چیف کر چکے تھے۔ یہ توقع بے جانہیں کہ وزیر اعظم وطن واپسی پر فاتحین کے لیے ان کے شایانِ شان ڈنر وغیرہ کا اہتمام بھی کردیں۔ ان کی طرف مصباح الحق اور یونس خان کا الوداعیہ بھی تو DUEہے۔ یاد آیا ، 1992 کا ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کو وزیراعظم نے اسلام آباد میں پلاٹ بھی دئیے تھے۔ اب چیمپئنز کے چیمپئن بھی اس عنائت خسروانہ سے محروم کیوں رہیں؟ پلاٹوں سے یاد آیا، نواز شریف نے 1987 میں وزیراعلیٰ کے صوابدیدی کوٹے سے شہر کی جدید بستی فیصل ٹائون میں ایک پلاٹ خان کو بھی تو دیا تھا۔ فائل کا پیٹ بھرنے کے لیے تحریری درخواست اور حلف نامہ ضروری تھا، جس میں درخواست گزار نے لکھا کہ اس کے پاس پنجاب میں اپنا کوئی پلاٹ، فلیٹ یا مکان نہیں، اسلیے اسے اپنا گھر تعمیر کرنے کے لیے ایک پلاٹ عطا کیا جائے۔ ظاہر ہے ، نہر کنارے زمان پارک والا بنگلہ اور زرعی اراضی وغیرہ تو والد صاحب کے نام تھی۔ شوکت خانم ہسپتال کے لیے 15 ایکڑ اراضی بھی نواز شریف ہی نے الاٹ کی تھی‘ جس میں 5 ایکڑ کا اضافہ وزیراعلیٰ غلام حیدر وائیں نے کر دیا۔یاد آیا،پشاور میں شوکت خانم کے لیے زمین اے این پی اورپی پی پی کی گزشتہ مخلوط حکومت نے دی تھی۔ اور میانوالی میں نمل یونیورسٹی کے لیے قطعہ اراضی خادم پنجاب کا عطیہ تھا۔ خادمِ پنجاب سے ایک اور بات یاد آگئی، ان کی جلاوطنی کے دور کی بات، جب انہوں نے شوکت خانم کے لیے جدہ سے 25 لاکھ روپے ارسال کئے تھے اور کپتان اس کا شکریہ ادا کرنے سرور پیلس آیا تھا۔
رمضان المبارک کا آخری عشرہ شہرِ نبیؐ میں بسر کرنا نواز شریف کا برسوں کا معمول ہے۔ اسی معمول کے مطابق وہ پھر دیارِ حرم میں ہیں۔ خواتین ، بچوں اور مردوں سمیت 60 افراد پر مشتمل اس قافلے کے اخراجات (ہوائی سفر سمیت) انہوں نے اپنے پلے سے ادا کئے (حیرت ہے، خان نے یہ اخراجات سرکاری خزانے سے ادا کرنے کا الزام نہیں لگایا۔ وہ جو آئے روز اک نیاالزام لگاتے ہیں،اس میں کونسی صداقت ہوتی ہے؟) کہا جاتا ہے، بادشاہ سلامت نے سرزمینِ حرمین میں قیام کے دوران شاہی پروٹوکول مہیاکرنے کی پیشکش کی تھی، لیکن وزیراعظم نے شکریے کے ساتھ معذرت کرلی۔ یہ تو عبادت کا معاملہ ہے، رب اور بندے کے درمیان معاملہ، میاں صاحب کے مزاج آشنا جانتے ہیں کہ وہ تو عام زندگی میں بھی دوستوں کو کم سے کم ''زحمت‘‘ دیتے اور ان کی زیادہ سے زیادہ خدمت کر کے آسودگی پاتے ہیں۔
2000 ء کے اواخرمیں وہ جلا وطن ہو کر شاہی مہمان ہوئے تو جدہ کا قصرالسرورSaroor Palace) )ان کا مسکن قرار پایا۔ مدینہ روڈ پر دو ایکڑ پر مشتمل یہ محل شاہ فیصل نے اپنی ہمشیرہ کے لیے تعمیر کروایا تھااور ایک عرصے سے خالی تھا۔ اب جدہ میں تین چار محلات میں سے اس کا انتخاب خود میاں صاحب نے کیا۔ یہاں 6جدید ترین مرسڈیز گاڑیاں بھی معزز مہمان کے لیے موجود تھیں۔ حکومت سعودی عرب کے ،خصوصی نشان کی حامل یہ گاڑیاں وی، وی ، آئی پی پروٹوکول کا حصہ تھیں۔ میاں صاحب نے ایک گاڑی رکھی اور باقی واپس کردیں ۔(مکہ مکرمہ اور جدہ کے درمیان ''بحیرہ‘‘ میں سٹیل مل منصوبے کا آغاز الگ کہانی ہے۔)
جنوری 2006 میں میاں صاحب لندن منتقل ہوگئے۔ حسین نواز(اور کیپٹن صفدر) کاروبار کی وجہ سے جدہ ہی میں مقیم رہے۔ بادشاہ سلامت کی خواہش تھی کہ حسین نواز (اورکیپٹن صفدر) اپنے اہل خانہ کے ہمراہ سرور پیلس ہی میں مقیم رہیں‘ لیکن میاں صاحب کے خیال میں یہ مناسب نہ تھا۔ حسین اس دوران جدہ میںسٹیل کا کاروبار ESTABLISH کر چکے تھے۔ ساحلِ سمندر کے قریب ''الحمرا ‘‘ میں اپنا ''محل‘‘ خرید کر وہ یہاں منتقل ہو گئے۔ 10 ستمبر 2007 کو میاں صاحب کو اسلام آباد سے دوبارہ جلا وطن کیا گیا، تو جدہ ائیرپورٹ پر ان کے خیر مقدم کے لیے رائل پروٹوکول موجود تھا۔ پوچھا گیا، کیا آپ اپنی سابق قیام گاہ ''قصرالسرور‘‘ میں ٹھہرنا پسند کریں گے؟ میاں صاحب کا جواب تھا‘ اب یہاں ہمارا اپنا گھر ہے (حسین کا شریف پیلس)، دوسرے دن وزیر خارجہ سعودالفیصل تشریف لائے ۔ دو روز بعد رمضان المبارک کا آغاز ہو گیا، شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز جدہ تشریف لے آئے تھے۔ ان کی دعوت پر میاں صاحب ''باہمی دلچسپی کے امور‘‘ پر تبادلہ خیال کے لیے تشریف لے گئے اور شاداں وفرحاں لوٹے۔ 28 مئی 1998 کے ایٹمی دھماکوں کے بعد میاں صاحب سعودی عرب گئے ، تو رائل پیلس کے عالی شان استقبالیے میں ولی عہد عبداللہ بن عبدالعزیز نے انہیں اپنا ''فل برادر‘‘ قرار دیا تھا۔ شاہ فہد، پرنس سلطان، پرنس نائف اور موجودہ خادم حرمین شریفین سلمان بن عبدالعزیز ، دوسری ماں سے ہونے کے باعث عبداللہ کے ''ہاف برادر‘‘ تھے۔
جلا وطنی کے دوران، رمضان شریف میں میاں صاحب کے معمولات بدل جاتے۔ پہلے دو عشروں میں وہ نصف شب کے بعد بیگم صاحبہ کے ساتھ مکہ مکرمہ کے لئے نکلتے اور تہجد ، سحری اور نماز فجر کی حرم میں ادائیگی کے بعد جدہ لوٹ آتے۔ تراویح کا اہتمام سرور پیلس ہی میں ہوتا۔2004ء میں یہ شاید 16ویں ، یا 17 ویں تراویح تھی، جب بڑے میاں صاحب میاں محمد شریف نے داعیٔ اجل کو لبیک کہا، نماز جنازہ اگلے روز حرم میں ہوئی ۔ رمضان المبارک کے باعث دنیا کے کونے کونے سے فرزندانِ توحید عمرے کے لیے آئے ہوئے تھے۔ حرم میں تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ گردوپیش کی گلیوں میں بھی صفیں بھری ہوئی تھیں، جب نمازِ فجر کے ساتھ بڑے میاں صاحب کا جنازہ ہوا۔ اسی شام انہیں لاہور روانہ کردیا گیا‘ پاک سرزمین سے پاک سرزمین کی طرف۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *