آم کھانے سے پہلے اسے ضرور پڑھ لیں ورنہ آپ دھوکہ کھا جائیں گے!

Image result for ‫آم‬‎

لاہور-گرمی کی حدت میں پھلوں کے بادشاہ  ’’  آم‘‘  کا موسم شروع ہونے کے ساتھ ہی مارکیٹ میں اس پھل کی بھرمار ہو گئی ہے ،جگہ جگہ لگنے والی ریڑھیوں اور دوکانوں میں مختلف اقسام کے آم بڑے سلیقے سے سجے نظر آتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی آم کھانے کے شوقین افراد کے لئے خطرے کی گھنٹی بھی بج گئی ہے ،پھلوں کے زخیرہ اندوز اور انسانی صحت سے کھیلنے والے اکثر بیوپاری آموں کو قبل اَز وقت مصنوعی طریقے سے پکانے کے لئے مضر صحت کیمیکل کا استعمال کر رہے ہیں جو انسانی صحت کے لئے انتہائی نقصان دہ ہیں ۔ان کیمیکلز کے استعمال سے کچا آم چار سے چھ گھنٹے میں پک جاتا ہے اور اس کا رنگ پر کشش طریقے سے ابھرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق عام طور پر بہت سے کاروباری اتھائلن گیس، کاربائڈ اور اتھریل 39 کیمیکل کا استعمال کر کے کچے عام کو پکا تے ہیں جس کی وجہ سے اس میں اصلی ذائقہ اور مہک نہیں آ پاتی۔ ان کیمیکلز کے طویل استعمال سے جسم میں کئی قسم کی کمیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔پھلوں اور سبزیوں کے کاروبار سے وابستہ ماہرینکا کہنا ہے کہ چین سے  منگوائے جانے والےکیلشیم کاربائڈ پاؤچ سے مصنوعی طریقے سے پکائے گئے  آم مارکیٹ میں دستیاب ہیں ،یہ کیمیکل انتہائی سستا ہے اور صرف چار گھنٹے میں عام کو پکا دیتا ہے،یہ زبردست کیمیکل نمی کے رابطے میں آنے کے ساتھ ہی اتھائلن گیس بناتا ہے جو انسان کے اعصابی نظام کو متاثر کرتی  ہے، اس کی وجہ سے دماغ میں آکسیجن گیس کی فراہمی بھی متاثر ہوتی ہے، یہ کیمیکل  زہریلا بھی ہے اور مضر صحت بھی جس سے فوڈ پوائزننگ بھی ہو سکتی ہے۔ اس کیمیکل سے پکائے گئے آم کھانے سے جسم میں کئی  طرح کے برے اثرات بھی مرتب  ہو سکتے ہیں، اس کیمیکل سے کچے آم کو پکانے کے لئے کسی مخصوص جگہ  کی ضرورت نہیں ہوتی ہے جبکہ اس طرح پکےآم میں حقیقی ذائقہ اور مہک بھی نہیں ہوتی۔

 واضح رہے کہ  آم کو قدرتی طریقے سے پکانے کے لئے جگہ  کا درجہ حرارت 18 سے 24 ڈگری کے درمیان رکھا جاتا ہے جبکہ اس طریقہ سے پھل پکانے میں تین سے سات دن کا وقت لگتا ہے ،ماہرین کا کہنا ہے کہ  آم قدرتی طورپر تبھی پکتا ہے جب درخت میں ایتھنیل ہارمون پیدا ہونے لگتا ہےلیکن کیمیکلز سے پکائے گئے  آم ہی نہیں دیگر پھل بھی انسانی صحت پر  منفی  اثرات  مرتب  کرتے ہیں اور چین کے کیمیکل سے پکے آم تو اور بھی خطرناک ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ   کیمیکل سے پکے پھلوں  کے منفی اثرات کی معلومات عام لوگوں کو نہیں ،اس حوالے سے معاشرے میں عوامی شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے ۔ ڈاکٹروں کے مطابق کاربائڈ اور اتھریل کی زیادتی سے کینسر کے امکانات میں اضافہ ہوتا ہے، دونوں ایک ہی  طرح کے کیمیکل ہیں ، صرف ان کے نام میں فرق ہے، نمی  آتے ہی دونوں ایتھائلن گیس بناتے ہیں ، جس سے پھل وقت سے پہلے پک جاتے ہیں :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *