اسلامی ریپبلک میں ناہمواری

ایازا میرAyaz Amir

مجھے اپنے ایڈیٹروں سے کچھ گلہ ہے کہ اگرچہ وہ بہت باصلاحیت، بیدار مغز اور جمہوریت پسند افراد ہیں لیکن کسی حوالے سے وہ ابھی تک اُس وکٹورین دور میں رہ رہے ہیں جب پیانو کی چوبی ٹانگیں بھی کپڑے سے ڈھانپی جاتی تھیں مبادا اُن کی شباہت خواتین کے ذہن میں ناروا خیالات پیدا کردے۔ لکڑی کے بنے ہوئے ایک فریم کی ٹانگیں یقینا کسی طور پر جنسی تحریک کا باعث نہیں بن سکتیںتاہم پردے اور پرہیز گاری کا یہ عالم کہ ہر وہ چیز جس سے جذبات( جو کم بخت بات بات پر بھڑک اٹھتے) برانگیختہ ہونے کا خدشہ بھی ہوتا، اُس کی پردہ پوشی کے جتن کیے جاتے ۔ تاہم یہ ظاہرداری اپنی جگہ، چھپ کر، پردوںکے پیچھے کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی تھی۔ ہنری فیلڈنگ کے مشہور ناول 'Tom Jones' میں کچھ شوخ باتیں ہیں لیکن کیا وکٹورین ناولوں میں اس طرح کے مناظر تھے؟
تاہم آج کے دور میں میرے ایڈیٹر وکٹورین سوچ کے حامل کیوں ہیں؟ اور تو اور، وہ لفظ ’’screw‘‘ سے بھی بدکتے ہیں، چاہے یہ کسی اور معنوں میں کیوں نہ استعمال کیا گیا ہو۔ جہاں تک میں سمجھ سکتا ہوں، اس لفظ کا صرف ایک مطلب سیکس کے حوالے سے ہے۔ میرے سامنے آکسفورڈ ڈکشنری کھلی پڑی ہے اور اس لفظ کی تمام تر تشریحات میرے سامنے ہیں.... دھوکہ دینا(کھانا)، بدانتظامی دکھانا، صدمہ پہنچانا، وغیرہ۔ تاہم جہاں تک ادارتی صفحے کا تعلق ہے تو وہاں لفظ کا من پسند مطلب ہی لیا جاتا ہے جبکہ اُس لفظ کا صرف ایک مطلب نہیںہوتا۔ اب بتائیں کہ اس میں کس کا قصور ہے؟
میں قلم کو پردے یا پہرے میںبٹھانے کا عادی نہیں۔ آئی ایس آئی کے بارے میں لکھ سکتا ہوں، لیکن میں ملک ریاض اور ان کے شاندار پراپرٹی بزنس کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہہ سکتا کیونکہ یہ ذاتی حملہ تصور ہوگا(ویسے میں ان پر ذاتی حملہ کیوں کروں گا؟) ، میں کہنا چاہتا تھا کہ پاکستان کو تعمیر کے اعتبار سے دبئی جیسا بنا دینے سے اس کے مسائل حل نہیں ہوجائیں گے۔ تاہم میرے ایڈیٹرز نے میرے تمام کالم کو کاٹ دیا۔ دوسری طرف، روزنامہ جنگ، جس کی سرکولیشن کہیں زیادہ ہے، نے تمام مضمون کو من وعن شائع کردیا اور اس سے کسی کو بھی دل کا دورہ نہ پڑا۔ بلکہ اس کے اگلے روز مجھے ملک ریاض نے فون کیا اور کہا کہ پراپرٹی سیکٹر کو ترقی دے کر پاکستان میں بے روزگاری کے مسئلے کو حل کیا جاسکتا ہے۔ میری اُن سے بہت شائستہ لہجے میں بات چیت ہوئی۔ کیا ہم سب نہیں جانتے کہ اس اسلامی جمہوریہ میں ممنوعہ مشروب کتنی بڑی مقدار میں پیا جاتا ہے؟ کیا پاکستان کے اشراف البلاد، جیسا کہ لاہور، کراچی اور اسلام آباد، میں وہسکی کی سپلائی ہرآن فروغ پاتا ہوا بزنس نہیں؟لیکن ٹھہریں، ’’بات پر یاں زبان کٹتی ہے‘‘، اس موضوع پرحرف گوئی کی اجازت نہیں مبادا نیک و پارساوں کا مزاج برہم ہوجائے، پینے اور چھپ کر پینے اور پیتے رہنے کی بات اور ہے۔ چنانچہ جب یہ لفظ ’’کہ غالب میری تحریر میں آوے‘‘ تو مناسب میک ا پ کرتے ہوئے اسے ممنوعہ مشروب، دختر ِ انگور.... اور دیسی طور پر چھوٹا لگانا ہو تو، گرم پانی.... لکھنا پڑتا ہے۔ مرزا غالب نے کہا تھا.....’’ہرچند ہومشاہدہ ِحق کی گفتگو، بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر‘‘، تاہم ہمیں اس کے برعکس کرنا پڑتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج پاکستان میں یہ مشروب پہلے سے کہیں زیادہ نوش ِ جاں کیا جاتا ہے۔ جب اس پر پابندی نہیں تھی تو پینے والے خال خال تھے، لیکن اب تو پابندی لگانے والے بھی بقول سودا،’’کیا جانیے تو نے اُسے کس حال میں دیکھا‘‘کی عملی تشریح ہیں۔اس ملک میں قانون ، یا کم از کم ایسی چیز جو غریبوں کا تحفظ کرسکے، نامی کوئی چیز موجود نہیں، لیکن ہم ہر وقت اخلاقیات کے گھوڑے پر سوار رہتے ہیں۔ ہر قدم پر، پر جلنے کا خدشہ لاحق، چاروں طرف اخلاقیات کے پہرے لیکن جب ذرا سا نقاب ہٹائیں، منافقت سے ذرا سی کنارہ کشی کریں توسب برابر۔ معاشرے میں اخلاقی تفریق صرف دہرے رویوں اور منافقت کی وجہ سے ہے ورنہ ’’وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے‘‘ والی بات ہے۔ یقینا دنیا میں کہیں بھی مساوات نہیں ملتی، لیکن دنیا کے اُن معاشروں میں جہاں کوئی ڈھنگ کی حکومت ہے، ناہمواری کا ناروا بوجھ کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ وہاں صحت، تعلیم اور پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے کو تقویت دے کر مساوات قائم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تاہم ہمارے ہاں دولت مند افراد کے لئے تو مہنگے اسپتال اور تعلیمی ادارے موجود ہیں، وہ نجی طور پر تفریح بھی کرسکتے ہیں، ان کے ہاں ڈانس پارٹیاں بھی ہوتی ہیں اورممنوعہ مشروبات کے دور چلتے ہیں، تاہم اخلاقیات کا بھرم ہے کہ سرکنے ہی نہیں پاتا۔ جدید خلیجی ریاستوں میں پراپرٹی خریدنے کے اشتہارات کی اس مقروض ملک کے اخبارات میں اشاعت گناہ ِ کبیرہ کے مترادف ہونی چاہئے ، لیکن اس سے بھی اخلاقی گھوڑے کی رفتار میں مطلق لرزش نہیں آتی۔ زیادہ تر رہنمائوں نے ملکی دولت لوٹ کر بیرونی ممالک میں جمع کررکھی ہے، لیکن اخلاقیات کم بخت ہے کہ ٹس سے مس نہیں ہوتی ۔ اس دوران غریب افراد وعدہ ِ فردا کے سہارے جیسے تیسے جی رہے ہیںکہ ’’وقت اچھا بھی آئے گا ناصر‘‘، تاہم اس دنیا میں نہیں۔ خوشی اور اچھی زندگی کی ہمیشہ سے ہی درجہ بندی رہی ہے۔ ماضی میں کچھ لوگ فلیٹی ہوٹل جانے کی استطاعت رکھتے تھے۔ یہ اُس وقت لاہور کا سب سے بہترین ہوٹل ہوا کرتا تھا۔ کچھ اور شرفا ءاور سفید پوش جب دیگر علاقوںسے لاہور آتے تومیکلوڈ روڈ پر واقع ،لاہور ہوٹل میں قیام کرتے۔ریلوے اسٹیشن کے آس پاس اس سے بھی سستی قیام گاہیںدستیاب تھیں۔ تاہم رہائش جہاں مرضی اختیار کریں، اگر کوئی تفریح چاہتا تو وہ ہر جگہ پہنچ جاتی، یا پہنچا دی جاتی۔ گرم پانی اور گرم تر..... شرفا ء کی جیب میں پیسہ ہونا چاہئے توپھر کوئی کمی نہیں۔ تاہم آج مساوات کا یہ دور لد چکا۔ آج تفریح پر صرف دولت مند اور بااختیار افراد کا ہی استحقاق مسلّم۔ مزید تفصیل کی گنجائش نہیں مبادا میرے ایڈیٹرز پھر کالم پر کلہاڑا چلادیں۔ بس اتناکہناہی کافی ہے کہ آج عام آدمی کاکوئی پرسان ِحال نہیں، نہ زلف کے پیچ و خم اور نہ خمار۔ جب گھٹن کا یہ عالم ہوتو کیا ہمیں حیرانی ہونی چاہئے کہ جذبات سے لبریز نوجوان جرائم کی راہ کیوں اختیار کررہے ہیں؟ کیا جوانی تخیلات سے پاک ہوتی ہے اور کیا یہ تخیلات اُس نے خود ہی پیدا کیے ہیں ؟تو پھر کیاتخیلات کو فکری شراب نہیں کہا جاسکتا؟کیا fiery spiritکسی اور چیز کا نام ہے؟اس دور میں جب اچھی زندگی کی تشہیر مہنگے ملبوسات، دلکش لڑکیوں اور قیمتی موبائل فونز کی صورت ہو تو پٹرول کو آگ دکھاکر جلنے سے روکنے کی کوشش کیوں؟1970کی دہائی میںجب میں نے فارن آفس سے استعفیٰ دیااور صحافت میں قدم رکھنے کی کوشش کررہا تھاتو میرے دل میں جہاد کا جذبہ موجیں مار رہاتھا۔ جی چاہتا تھا کہ بیروت جاکر فلسطینی مجاہدوں کی صف میں شامل ہوکر دشمن سے بھڑ جائوں۔ میں بہت دلیر نہیں تھا اور میں جانتا تھا کہ میرے گھوڑے کس قسم کے بحر ِ ظلمات کو ریس کورس سمجھ سکتے ہیں۔ لیکن بہرحال روایتی زندگی سے دور جانا چاہتا تھا۔ بعض اوقات خیال آتا ہے کہ اگر میں آج جوان ہوتااور جیب میں کافی رقم ہوتی اور دل میں جذبات ،تو ہو سکتا ہے کہ میں کسی جہادی تنظیم میں شامل ہوچکا ہوتا۔ میرے ہاتھ میںگن ہوتی اور میرے لمبے بال شانوںپر لہرا رہے ہوتے( طالبان کی شباہت دیکھیں تو گمان گزرتا ہے کہ دہشت گردی کے لئے لمبے بال بھی اتنےہی ضروری ہیں جتنا کہ بزوکا) ۔ یا پھر ہوسکتا ہے کہ میں دیار ِ غیر میں فرنگیوں کے برتن دھورہا ہوتا۔یادر کھیں، دہشت گردی اور انتہا پسندی کا مقابلہ صرف بندوق سے ہی نہیں کیا جاسکتا ، اس کے لئے سماجی اصلاح کی بھی ضرورت ہے۔ ہمیں سماجی گھٹن ، جو انتہا پسندی کو جنم دیتی ہے، سے آزادی کے لئے انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ میرے خیال میں اس کے لئے سب سے پہلا قدم منافقت کا پردہ چاک کرناہے۔ شیطان صرف منافقت کے اندھیرے میں ہی پنپ سکتے ہیں، ہمیں اجالا درکار ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *