لندن میں بھیانک آگ

faheem-akhter-uk

14؍ جون کی رات 12:54پر شمالی کینزنگٹن علاقے کی گرین فل ٹاؤر میں آگ لگنے سے لگ بھگ ساٹھ لوگوں کی جان چلی گئی۔ 74
لوگوں کی حالت نازک ہے جنہیں لندن کے مختلف ہسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے۔ جبکہ 70سے زیادہ لوگ لاپتہ ہیں۔اس حادثے کی خبر برطانیہ سمیت دنیا کے تمام ملکوں میں نشریات کیا گیا اور لندن میں اس خبر کا ردّعمل کا فی جارحانہ رہا ۔کہا جا رہا ہے دوسری جنگِ عظیم کے بعد ایسا پہلی بار دیکھنے کو ملا جب اتنے بڑے پیمانے پر کسی عمارت میں آگ لگی ہے۔
پہلے تو اس خبر پر اتنا ردّعمل نہیں ہو اتھا۔ لیکن جب گرین فل ٹاؤر کو مسلسل ٹی وی چینلوں پر جلتے دکھایا جانے لگا تو لوگوں میں ناراضگی بڑھنے لگی۔اس کے علاوہ غم شدہ لوگوں کی اطلاع نہ ملنے پر لوگوں کا غصّہ حکّا م اور حکومت کے خلاف زور پکڑ تا گیا۔ جس کی مثال جمعہ کو دیکھنے میں آئی جب کئی سو لوگوں نے کینزنگٹن اور چیلسی بورو کے دفترپر حملہ کر دیا۔ جہاں اس خبر سے مرنے والوں کے رشتہ داروں اور دوستوں میں کافی غصّہ پایا جا تا ہے تو وہیں لندن کے عام شہریوں میں بھی اس خبر سے کافی ناراضگی ہے۔جوں جوں دن گزرتے جا رہے ہیں اور مرنے والوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے لوگوں کا غصّہ اور بھی زور پکڑ رہا ہے۔
وزیر اعظم تھریسا مے نے گرین فل ٹاؤر پہنچ کر ایمرجنسی سروس کے آفیسروں سے ملاقات کی اور ان کی دلیرانہ اور نہ تھکنے والے کام کوسراہا۔ لیکن وزیر اعظم کی واپسی کے بعد گرین فل کے رہائشی اور مقامی لوگوں نے ان کے خلاف مظاہرہ کیا۔ ان لوگوں کا کہناتھا کہ وزیر اعظم نے ان سے ملاقات نہ کر کے ان لوگوں کو نظر انداز کیا ہے۔جس سے ان لوگوں کو گہرا صدمہ پہنچا ہے۔

Image result for london fire in green fell towerتاہم لیبر پارٹی کے مقبول لیڈر جریمی کوربین نے متاثرہ لوگوں سے ملاقات کی اور حکومت سے مانگ کی جو لوگ بے گھر ہو گئے ہیں انہیں فوراً خالی پڑے گھروں میں بسا نا چاہئے۔لندن کے مئیر صادق خان جب موقع پر پہنچے تو انہیں بھی مظاہرے کا سامنا کرنا پڑا ۔ لوگوں نے الزام لگایا کہ کونسل ، مرکزی حکومت اور مئیر نے عمارتوں کے ہیلتھ اینڈ سیفٹی کے معائنہ میں کوتاہی برتی ہے۔ اس کے علاوہ لوگوں کی یہ بھی شکایت ہے کہ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے اور کو ئی ان کا پرسانِ حال نہیں ہے۔
دو سو فائر فائیٹر نے دن رات محنت کر کے آگ پر قابو پالیا ہے اور 65لوگوں کو بچا لیا ہے۔ لیکن فائر فائیٹر کی تمام محنت کے باوجود اوپری منزلہ میں پھنے ہوئے لوگوں کو نہیں بچا پاجا سکا کیونکہ فائیر فائیٹر صرف بارہویں منزل تک ہی پہنچ پائے ۔ اس سلسلے میں کئی رپورٹیں ایسی آئی ہیں جس سے لوگوں کا غصّہ حکّام کی طرف کا فی بڑھا ہوا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ایمرجنسی سروس نے اوپری منزلہ پر پھنسے لوگوں کو یہ مشورہ دیا کہ وہ عمارت سے باہر نہ آئے جس کی وجہ سے ایسا اندازہ لگایا جارہا ہے کہ اتنی تعداد میں لوگوں کی جان گئی ہے۔
گرین فل ٹاؤر کو 1974 میں لندن بورو آف کینزنگٹن اور چیلسی نے تعمیر کیا تھا۔ یہ ایک چوبیس منزلہ عمارت ہے جو کنزنگٹن اور چیلسی بورو کے ماتحت ایک ہاؤزنگ کمپنی چلاتی تھی۔اس میں لگ بھگ چار سو سے لے کر چھ سو لوگ رہتے تھے۔ اس عمارت میں ایسے لوگ رہتے تھے جنہیں کم آمدنی کی وجہ سے کونسل نے فلیٹ دے رکھا تھا۔ایک سال قبل کونسل نے 8 میلین پونڈ خرچ کر کے اس پر عمارتی ملبوساتی مواد
(Cladding)،نئی کھڑکیاں اور ہیٹنگ سسٹم لگا یا تھا۔ جس سے اس کی خوبصورتی میں چار چاند لگ گئے تھے۔اس کا م کو کرنے والی کمپنی (Rydon Construction)نے اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ کمپنی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس نے کام کے دوران بلڈنگ کنٹرول کے قوائد و ضوابط، فائر ریگولیشن اور ہیلتھ وسیفٹی کا پورا خیال رکھا تھا۔
عینی شاہدین کے مطابق گرین فل ٹاؤر میں جب آگ لگی ہوئی تھی تو اس وقت قیامت کا منظر تھا۔ ایک مقامی آدمی نے بتا یا کہ اس نے ایک عورت کو اپنے بچّے کو کھڑکی کے باہر تھامے دیکھا جو چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ میرے بچّے کو بچاؤ۔ جب کہ ایک اور آدمی نے دیکھا کہ کئی لوگ اپنے بچّو ں کو کھڑکی سے پھینک رہے تھے۔
اس حادثے کے بعد مقامی باشندے اور لندن کے لوگوں نے اپنی انسان دوستی اور ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اب تک بے گھر لوگوں کی مدد کے لئے دو میلین سے زیا دہ پونڈ اکٹھّا کئے ہیں ۔ اس کے علاوہ مقامی مسجد نے ساٹھ ٹن عطیات جمع کئے ہیں جن میں کپڑا ، چادر ، اور ضروریات کے سامان شامل ہیں۔ فی الحال بے گھر لوگوں نے مقامی گرجا گھروں اور کمیونٹی سینٹروں میں پناہ لے رکھی ہے۔وزیر اعظم تھریسا مے نے بھی متاثرین کے لئے پانچ میلین پونڈ فنڈ کھانا، کپڑاوغیرہ کے لئے اعلان کیا ہے۔
ملکہ برطانیہ اور شہزادہ ولیم متاثرین کے ریلیف سینٹر پہنچ کر ان سے ملاقات کی اور انہیں دلاسہ دیا ۔ ملکہ برطانیہ نے کہا ہے کہ اس حادثہ سے پوری قوم د’کھی ہے۔ کئی لوگ جو باہر کھڑے تھے انہوں نے شہزادہ ولیم کو پکار کہا کہ وہ ان کے پاس آئیں اور ان کی فریاد سنیں۔ جس کے جواب میں شہزادہ ولیم نے کہا کہ وہ دوبارہ آئیں گے۔
وزیر اعظم تھریسا مے نے پبلک انکوائری کا اعلان کیا ہے تا کہ اس بات کا پتہ لگایا جائے کہ آخر اتنا بڑا حادثہ کیسے ہوا اور کون لوگ اس کے ذمہ دار ہیں۔ تاہم آگ لگنے کی وجہ اب تک نہیں جانی جا سکی ہے لیکن لوگوں کے موبائل اور ٹیلی ویژن رپورٹ کے مطابق آگ عمارت کے ایک حصّے کے باہر دیکھی گئی تھی۔ جس نے دھیرے دھیرے پوری عمارت کو اپنے لپیٹ میں لے لیا۔ فائر حفاظتی آفیسر نے کہا کہ یہ بتا نا دشوار ہے کہ آخر آگ کیوں کر لگی لیکن آگ کو تیزی سے پھیلانے میں تیز ہواؤں کا ہاتھ ضرور ہے۔اس کے علاوہ (Cladding)عمارتی ملبوساتی مواد کو بھی ذ مہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے جسے پچھلے سال ہی لگایا گیا تھا۔
گرین فل ٹاؤر کی آگ سے جتنے لوگوں کی موت ہوئی ہے اس سے برطانیہ کے عوام میں غم و غصّہ کافی پایا جا رہا ہے۔ اب بھی زیادہ تر لوگوں کا پتہ نہیں چل پایا ہے۔ اتنی بڑی عمارت میں جانا اور لاشوں کی شناخت کرنا آسان کام نہیں ہے۔ لیکن اس سے دشوار معاملہ ان رشتہ داروں کا ہے جو اب بھی یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ شاید ان کا بھائی، بہن، بیوی، والد، والدہ اور اولاد زندہ سلامت پائے جائیں۔
میں غم زدہ ہونے کے ساتھ ساتھ ا س بات سے بھی ناراض ہوں کہ لندن جیسے شہر میں کیونکر ایسا حادثہ ہوا ۔ جہاں انسانی جان کی کافی اہمیت ہے ۔ جہاں قواعد و ضوابط کو سختی سے لاگو کیا جاتا ہے۔جہاں ایمانداری سر چڑھ کر بولتی ہے۔ جہاں انسانیت فخر سے اپنا سر اٹھا کر دنیا کی رہنمائی کرتی ہے۔ تو پھر کیوں ایسا حادثہ ہوا جس میں اتنے سارے لوگ جل کر مر گئے۔ میں امید کرتا ہوں کہ پبلک انکوائری سے حقیقت سامنے آئے گی تاکہ ایسا حادثہ دوبارہ نہیں ہو ۔ ان لوگوں کو سزا بھی ملنی چاہئے جنہوں نے اپنی ذمّہ داری کو ایمانداری سے نہیں نبھایا اور جن کی وجہ سے اتنے سارے لوگ مارے گئے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *