جناب یہ ہے میری جماعت!

Irfan Hussainجب کسی سازش یا آسمانی طاقتوں نے بچیس سال پہلے جنرل ضیا کو منظر سے ہٹایا تو یہ سوال تواتر سے ذہنوں میں پیداہوتا تھا کہ اس طیارے کے حادثے کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا۔ ایک شک پی پی پی پر جاتا تھا۔ جب دوستوں سے ملاقات ہوتی تو یہ بات زیرِ بحث آتی۔ ایک مرتبہ میرے پرانے دوست انیس حیدر شاہ نے بڑے استہزائیہ لہجے میں کہا...’’پی پی پی؟ تم پاگل تو نہیں ہوگئے!ان لوگوں سے پان چباتے ہوئے سڑک بھی عبور نہیں ہوتی ہے(گویا وہ دومعمولی کام بھی بیک وقت نہیں کر سکتے ہیں؟)وہ جہاز کیسے....۔
افسوس،اس وقت سے لے کر آج تک پیپلز پارٹی کی کارکردگی میں بہتری دیکھنے میں نہیںآئی ہے۔ میں ایک روایتی ’’پپلیا ‘‘ رہا ہوں ، میں نے اکثر بادلِ ناخواستہ عقل وفہم کے تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے، اچھے برے حالات میں اس کی حمایت کی ہے۔ بہت سے دوسرے افراد کے برعکس میں سیاسی وفاداری تبدیل نہ کر سکا۔ اس کی ایک بڑی وجہ سامنے موجود امکانات کی کمی تھی۔ میں ظاہر ہے کسی مذہبی سیاسی جماعت کی حمایت نہیں کرسکتا تھا، دفاعی اداروں کی حمایت یافتہ پارٹیاں بھی مجھے ناپسند تھیں۔ ایم کیوایم ، اپنے سیکولر نظریات کے باوجود، بہت سے تاریک گوشے رکھتی ہے ۔ نواز شریف سے مجھے بنیاد پرست ہونے کا تاثر ملتا ہے۔ اس کے علاوہ پی پی پی وہ واحد جماعت تھی جو خواتین، اقلیتوں اور معاشرے کے پسے ہوئے مظلوم طبقوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی تھی۔ اگرچہ اپنے گزشتہ دور میں پی پی پی کی کارکردگی نہایت ناقص رہی لیکن اس نے خواتین کے لیے اہم قانون سازی کی او ر اس کے...’’بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ‘‘... نے ملک بھر میں لاکھوں غریب افراد کی زندگی میں بہتری لانے کی کوشش کی۔
چند ہفتے پہلے انجم الطاف نے ایک انگریزی اخبار میں لکھا ...’’ پاکستان کو بائیں بازو کی ایک جماعت کی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے بائیں بازو کی زیادہ ترجماعتیں یا تو اپنا وجود کھو بیٹھی ہیں یا پھر وہ محض چند افراد تک محدود ہو چکی ہیں۔ وہ اپنے داخلی انتشار اور نظریاتی کشمکش کا شکار ہو کر معاشرے میں اپنی فعالیت کا جواز کھوبیٹھی ہیں۔ اس کے علاوہ ستر کی دھائی سے ان جماعتوں کو پی پی پی کی نظریاتی جہت نے بھی کمزور کردیا ہے کیونکہ پی پی پی بذاتِ خود بائیں بازوکے نظریات کی حامل سوشلسٹ جماعت کے طور پر سامنے آئی تھی۔ چناچہ اس وقت ایک بائیں بازو کی جماعت بنانے کی بجائے بہتر ہے کہ پی پی پی کے بچاؤ کا سامان کیا جائے۔‘‘اگرچہ اسے گزشتہ عام انتخابات میں عبرت ناک شکست سے دوچار ہونا پڑا لیکن اس شکست کی وجوھات جاننے کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ دراصل پارٹی میں اپنا محاسبہ کرنے کی روایت موجود ہی نہیں ہے۔ اگرچہ عمران خان اورنواز شریف لاکھوں نوجوانوں کو اپنی اپنی طرف مائل کرنے میں کامیاب رہے، لیکن پی پی پی گزشتہ کئی برسوں سے نوجوانوں کے لیے کوئی کشش نہیں رکھتی ہے۔
وہ نوجوان لوگ ، جنھوں نے اس سال مئی میں ہونے والے انتخابات میں ووٹ ڈالا ، پی پی پی کو عمررسید افراد کی ایک متروک شدہ جماعت سمجھتے تھے۔ اُنھوں نے دیکھا کہ اس جماعت کی اعلیٰ قیادت کے پاس نہ تو کوئی نظریہ ہے اور نہ ہی تصورات۔ جب کسی جماعت کی انتخابی مہم رحمان ملک چلارہے ہوں تو اس کے بارے میں کچھ کہنے سننے کی کیا گنجائش رہ جاتی ہے، اس کی حالت کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ ان حالات میں بھی پی پی پی 6.5 ملین ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ اگرچہ نشستوں کے اعتبار سے اسے شدید صدمے سے دوچار ہونا پڑا لیکن تمام مذکورہ پسِ منظر کو دیکھتے ہوئے ووٹروں کی اتنی بڑی تعداد ظاہر کرتی ہے کہ اس کی بحالی کا امکان ہے۔ تاہم اگر پی پی پی ایک مرتبہ پھر قومی سطح (اس وقت اسے اندرونی سندھ کی جماعت ہونے کا طعنہ سننا پڑ رہا ہے)کی جماعت بننا چاہتی ہے تو پھر اسے سنجیدہ سوچ اور سخت محنت کی ضرورت ہے۔ اس کی موجودہ قیادت اس کام کے لیے موزوں نہیں ہے۔ اس کے سندھی رہنما یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی جاگیردارنہ حیثیت ان کو اپنے حلقوں میں ناقابلِ شکست رکھتی ہے،چناچہ وہ قومی اسمبلی کی نشستیں جیت سکتے ہیں۔ تاہم سوال پیداہوتا ہے کہ ایسا کب تک ہوگا اور کہاں تک ہوگا... تمام ملک میں تو ان کی جاگیرداری نہیں چلتی ہے۔ اگر اُنھوں نے اگلے پانچ سال بھی سندھ میں ویسی ہی بدانتظامی دکھائی جیسے کہ گزشتہ دور میں تھی تو سندھ میں بھی پارٹی کے بقا کے امکانات روشن نہیں ہیں۔ قائم علی شاہ کو دوبارہ وزیرِ اعلیٰ نامزد کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ابھی تک اس جماعت میں صلاحیتوں کی بجائے پارٹی کے ساتھ وفاداری کو ترجیح دی جاتی ہے۔
ا ب جبکہ صدر زرداری کی مدتِ صدارت ختم ہوا چاہتی ہے، قوی امکان ہے کہ وہ پاکستان سے باہر چلے جائیں گے۔ چناچہ پی پی پی کے پاس ایک موقع ہے کہ وہ تازہ گارڈ (کرکٹ کی اصطلاح میں) لے۔نوجوان بھٹو پاکستانی سیاست میں پھیلے انتشار کا سامنا کرنے سے کتراتے ہیں ، تاہم اُنہیں الزام نہیں دیا جا سکتا۔ چناچہ یہ بھی اس جماعت کے لیے ایک موقع ہے وہ خاندانی سیاست سے بلند ہوکر پورے ملک کی طرف دیکھے۔ بدقسمتی سے بہت کم نوجوان سیاست دان، جب تک کہ وہ اسی جماعت کے رہنماؤں کی اولاد نہ ہوں، اس جماعت کی طرف رغبت محسوس کرتے ہیں۔ اس جماعت میں ایسے افراد ، جن کے نہ کوئی نظریات ہوں اور نہ ہی کوئی اخلاقی بنیاد، بھی رہنما کے طور پر سامنے آئے... گزشتہ دور میں اس سے تعلق رکھنے والے ایک بلوچ رکنِ اسمبلی نے کئی ایک عورتوں کو زندہ دفن کردینے کے اندوہناک واقعہ میں ملوث افراد کا دفاع کیا، جبکہ ایک اور جیالے نے ٹی وی پر کہا کہ اب ، انتخابات جیتنے کے بعد، پیسہ کمانے کی پی پی پی کی باری ہے۔
2007 میں بے نظیر بھٹو کے قتل کے تک ، بھٹو کا نام باعثِ کشش تھا۔ کون نہیں جانتا کہ یہ محترمہ کی شہادت تھی کہ پی پی پی 2008 میں حکومت بنانے کے قابل ہوگئی۔ تاہم اب جبکہ اس خاندان کا کوئی بھی نام سامنے موجودنہیں ہے، اس جماعت کو اپنے قدموں پر کھڑا کرنا دشوار عمل ہوگا۔ افسوس، اس وقت مجھے ایسا کوئی شخص ، کوئی سینئر سیاسی رہنما، نظر نہیںآتا جو راکھ سے آشیانہ تعمیر کرنے کا ہنر جانتا ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس جماعت کے ساتھ آج بھی مخلص لوگ، جیسا کہ رضاربانی، شیری رحمان، قمرالزماں قائرہ ، موجود ہیں۔ ہو سکتا کہ یہ لوگ اس جہاز کے تیرنے کا سامان کر لیں، لیکن اگر زرداری صاحب نے دوبئی بیٹھ کر پارٹی کی قیادت کرنا چاہی تو پھر سمجھ لیں کہ اس جہاز کو غرقاب ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ چناچہ پارٹی کے کارکنوں کو اس بات کی سختی سے مزاحمت کرنی ہوگی کہ اسے فاصلاتی قیادت کی ضرورت نہیں ہے۔
اس وقت پی پی پی کے سامنے سب سے مشکل سوال پنجاب میں قدم رکھنے کی جگہ تلاش کرنا ہے جبکہ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ بھی ان کے ہاتھوں سے نکل چکے ہیں۔ یقیناًاب ’روٹی ،کپڑا اورمکان‘‘ کا منتر کام نہیں دے گا، اب پاکستان آگے بڑھ چکا ہے اور اس کے مسائل بھی اور ہیں۔ باقی جماعتیں پاکستان کی تعمیر کرنے کے دعوے کررہی ہیں، پی پی پی نے خود کوتعمیرکرنا ہے۔ اس نے ایک ایسی جماعت ، جو غریب اور مظلوم طبقوں کی آواز بن جائے، کے طور پر سامنے آنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسے جاگیردارانہ ذہنیت سے بلند ہوتے ہوئے عصرِ حاضر کے تقاضوں کا بھی ادارک کرنا ہے۔ یہ ایک مشکل کام ہے، تاہم امید کی جانی چاہیے کہ پی پی پی اپنی خامیوں پر قابو پالے گی اورقومی سیاست میں فعال کردار ادا کرے گی۔

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں reproduction کی اجازت نہیں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *