ہیکر زشامی حکومت کی مدد پر کمربستہ!

hacker ایک نوجوان شامی باغی جنگجو کیلئے، دسمبر 2013ء کے شروع میں لبنان میں موجود ایک خاتون ، جس کا نام ایمان المصری تھا، نے سکایپ پر ایک پیغام بھیجا کہ وہ اس کے مشن میں دلچسپی رکھتی ہے۔ ایک چھوٹے سے آئیکون میں، اس کے نام کے ساتھ اس کی تصویربھی ظاہر ہوئی ، جس سے ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ شفاف جلد والی ایک بیس سالہ خاتون تھی جس نے اپنے سر پر ایک سیاہ حجاب اوڑھ رکھا تھااور دھوپ سے بچنے کیلئے سیاہ شیشوں والی عینک بھی لگائی ہوئی تھی۔
ان دونوں نے تقریباًدو گھنٹے آن لائن بات کی۔یوں لگتا تھا کہ وہ دونوں 200000سے زائد لوگوں کی زندگیوں کے خاتمے کا سبب بننے والی خانہ جنگی کے باوجود تاحال برسراقتدار شامی رہنما، بشارالاسد کی حکومت کی مخالفت کے مؤقف پر باہم متفق تھے۔
بلآخر خاتون نے نوجوان جنگجو کوبتایا کہ وہ بیروت میں ایک پروگرامنگ کمپنی میں کام کر تی ہے۔پھر اس نے جنگجو سے پوچھا کہ کیا وہ اس سے اپنے سمارٹ فون کے ذریعہ بات کر رہا ہے یاکمپیوٹر کے ذریعے؟اس پرنوجوان نے اسے اپنی ایک تصویربھیجی اور جواب میں اس سے اس کی تصویر کا تقاضا کیا۔خاتون نے فوری طور پر نوجوان کو اپنی ایک تصویر بھجوا دی، ساتھ ہی اس نے یہ بتاتے ہوئے معذرت بھی کی کہ یہ چند برس پرانی ہے۔
نوجوان نے ردعمل ظاہرکرتے ہوئے لکھا، ’’واہ! تم تو بالکل فرشتوں کی سی ہو۔تم نے تو مجھے دیوانہ بنا دیا ہے۔‘‘
جو بات جنگجو نہیں جانتا تھا، وہ ایک دوسری تصویر میں چھپا ہوا کوڈ تھاجو بالخصوص ایک مہلک سافٹ ویئر کامؤثرجزو تھا جو جنگجو کے کمپیوٹر سے فائلز کاپی کرتا تھا، بشمول تکنیکی جنگی منصوبوں اور نوجوان کے جنگجوساتھیوں کے متعلق دیگر معلومات کے۔ دراصل وہ خاتون نوجوان کی کوئی دوست یا ہم خیال شریک گفتگو نہیں تھی بلکہ ایک اسد حکومت کی حمایتی ہیکر تھی۔۔۔اس کی بھیجی ہوئی وہ تصاویر، جنہوں نے نوجوان کو مسحور کیا، وہ بھی انٹرنیٹ سے اٹھائی ہوئی تھیں!
امریکی انٹیلی جینس ایجنسیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ شامی حکومت کی مدد کرنے والی یہ کوئی اکلوتی ہیکر نہیں بلکہ ان کی ایک بہت بڑی تعداد ہیکنگ کے ذریعے مختلف طریقوں سے شامی حکومت کی مدد کر رہی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *