شب قدر کیا کریں ؟ کیا نہ کریں ؟

17

محمد رضی الاسلام ندوی

رمضان المبارک کی راتوں میں عبادت کی بہت فضیلت آئی ہے _ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا ہے : “جس نے رمضان ( کی راتوں ) میں قیام کیا ( یعنی نوافل پڑھیں) ایمان کی حالت میں اور اللہ سے اجر کی طلب میں ، اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دیے جائیں گے _” (بخاری:37، مسلم:759 )
رمضان کی ایک رات ‘شبِ قدر’ کہلاتی ہے _ اس کی فضیلت میں قرآن کی پوری ایک سورت (سورۃ القدر) نازل ہوئی ہے _ اس میں کہا گیا ہے کہ “شبِ قدر میں قرآن کریم نازل ہوا _ یہ رات ایک ہزار مہینے (کی راتوں) سے افضل ہے _ پوری رات میں اللہ کی طرف سے سلامتی کا نزول ہوتا ہے _”
یہ کون سی رات ہے؟ اور اس میں کیا کرنا چاہیے؟ اس سلسلے میں بڑی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں ، اس لیے ذیل میں اس کی وضاحت کی جاتی ہے :
شب قدر کے بارے میں بہت سی احادیث مروی ہیں _ بعض میں کہا گیا ہے کہ اسے رمضان کی آخری 10 راتوں میں تلاش کرو _ بعض میں آخری 7 راتوں کا ذکر ہے _ بعض سے 27،25،23،21 والی راتوں میں سے کسی رات کے شبِ قدر ہونے کا اشارہ ملتا ہے _ لیکن بہت سی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ماہ رمضان کی آخری 10 راتوں میں سے طاق راتوں میں شبِ قدر کو تلاش کرنے کا حکم دیا ہے _
قدر کی راتوں میں درج ذیل کام کیے جاسکتے ہیں :
1 _ رمضان میں قیامِ لیل کی بڑی فضیلت آئی ہے _ آدمی کو قرآن کا جتنا حصہ یاد ہو ، اسے نفل نمازوں میں پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیے _
2 _ نماز کے علاوہ میں بھی، قرآن کی ، جتنی ممکن ہو ، تلاوت کرنی چاہیے _
3_ شب قدر میں دعا کا خاص اہتمام کرنا چاہیے _ ایک حدیث میں ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے سوال کیا : میں شبِ قدر پاؤں تو کیا کروں؟ آپ ص نے فرمایا :یہ دعا کیا کرو :
اللھم اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ العَفْوَ فَاعْفُ عَنّی (ترمذی :3513)
” اے اللہ! تو بہت زیادہ معاف کرنے والا ہے _ تو معاف کرنا پسند کرتا ہے _ میرے قصوروں سے درگزر فرما_”
اس سے معلوم ہوا کہ شبِ قدر میں آدمی اپنے گناہوں، لغزشوں اور کوتاہیوں کا استحضار کرکے توبہ و استغفار کرے تو امید ہے کہ اللہ تعالٰی اسے اپنی رحمت سے ڈھانپ لے گا _
4_ اجتماعی مطالعہ قرآن کا بھی نظم کیا جا سکتا ہے _ ایک حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم مسجد نبوی میں پہنچے تو دیکھا کہ کچھ لوگ انفرادی طور پر عبادت اور ذکر میں مشغول ہیں اور کچھ لوگ یکجا ہوکر قرآن پڑھنے پڑھانے میں لگے ہوئے ہیں _ آپ ان کے حلقے میں شامل ہوگئے اور فرمایا : “میں تو معلّم بناکر بھیجا گیا ہوں _” (ابن ماجہ :229، دارمی :361)کچھ صحابہ کے بارے میں مروی ہے کہ وہ دن بھر محنت مزدوری کرتے تھے اور رات میں مدینہ کے ایک گھر میں جمع ہوکر قرآن کا مطالعہ و مذاکرہ کرتے تھے _(مسلم :677)
مذکورہ دونوں واقعات کے زمانے کی صراحت حدیثوں میں نہیں ہے _ اگر وہ غیر رمضان کے ہوں تو بھی ان اعمال کو شبِ قدر میں بھی انجام دیا جا سکتا ہے _
5_آخری پہر میں تہجد کی نماز پڑھی جائے _ یہ اجتماعی طور پر بھی ادا کی جا سکتی ہے _
شبِ قدر کے بارے میں بعض غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں :
1_ بہت سے لوگ صرف 27 رمضان کی رات کو شبِ قدر سمجھتے ہیں _ یہ درست نہیں _ آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے کوئی بھی رات شبِ قدر ہو سکتی ہے ، اس لیے پانچوں راتوں میں عبادات کا اہتمام کرنا چاہیے _
2_ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ پوری رات جاگنا ضروری ہے _ اگر چند لمحات کے لیے بھی سو گئے تو ساری عبادت ضائع ہوجائے گی _ یہ خیال صحیح نہیں _ آدمی جتنی عبادت کرے گا اس کا اجر پائے شبِ قدر _____
_ کیا کریں؟ کیا نہ کریں؟

رمضان المبارک کی راتوں میں عبادت کی بہت فضیلت آئی ہے _ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا ہے : “جس نے رمضان ( کی راتوں ) میں قیام کیا ( یعنی نوافل پڑھیں) ایمان کی حالت میں اور اللہ سے اجر کی طلب میں ، اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دیے جائیں گے _” (بخاری:37، مسلم:759 )
رمضان کی ایک رات ‘شبِ قدر’ کہلاتی ہے _ اس کی فضیلت میں قرآن کی پوری ایک سورت نازل ہوئی ہے _ اس میں کہا گیا ہے کہ “شبِ قدر میں قرآن کریم نازل ہوا _ یہ رات ایک ہزار مہینے (کی راتوں) سے افضل ہے _ پوری رات میں اللہ کی طرف سے سلامتی کا نزول ہوتا ہے _” یہ کون سی رات ہے؟ اور اس میں کیا کرنا چاہیے؟ اس سلسلے میں بڑی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں ، اس لیے ذیل میں اس کی وضاحت کی جاتی ہے :
شب قدر کے بارے میں بہت سی احادیث مروی ہیں _ بعض میں کہا گیا ہے کہ اسے رمضان کی آخری 10 راتوں میں تلاش کرو _ بعض میں آخری 7 راتوں کا ذکر ہے _ بعض سے 27،25،23،21 والی شب کے شبِ قدر ہونے کا اشارہ ملتا ہے ، لیکن بہت سی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ماہ رمضان کی آخری 10 راتوں میں سے طاق راتوں میں شبِ قدر کو تلاش کرنے کا حکم دیا ہے _
شبِ قدر کی راتوں میں درج ذیل کام کیے جاسکتے ہیں :
1 _ رمضان میں قیامِ لیل کی بڑی فضیلت آئی ہے _ آدمی کو قرآن کا جتنا حصہ یاد ہو ، اسے نفل نمازوں میں پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیے _
2 _ نماز کے علاوہ میں بھی قرآن کی جتنی ممکن ہو تلاوت کرنی چاہیے _
3_ شب قدر کی راتوں میں دعا کا خاص اہتمام کرنا چاہیے _ایک حدیث میں ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے سوال کیا : میں شبِ قدر پاؤں تو کیا کروں؟ آپ ص نے فرمایا :یہ دعا کیا کرو :اللھم اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ العَفْوَ فَاعْفُ عَنّی (ترمذی :3513)
” اے اللہ! تو بہت زیادہ معاف کرنے والا ہے _ تو معاف کرنا پسند کرتا ہے تو میرے قصوروں سے درگزر فرما”
اس سے معلوم ہوا کہ شبِ قدر میں آدمی اپنے گناہوں، لغزشوں اور کوتاہیوں کا استحضار کرکے توبہ و استغفار کرے تو امید ہے کہ اللہ تعالٰی اسے اپنی رحمت سے ڈھانپ لے گا _
4_ اجتماعی مطالعہ قرآن کا بھی نظم کیا جا سکتا ہے _ ایک حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم مسجد نبوی میں پہنچے تو دیکھا کہ کچھ لوگ انفرادی طور پر عبادت اور ذکر میں مشغول ہیں اور کچھ لوگ یکجا ہوکر قرآن پڑھنے پڑھانے میں لگے ہوئے ہیں _آپ ان کے حلقے میں شامل ہوگئے اور فرمایا :میں تو معلّم بناکر بھیجا گیا ہوں _ (ابن ماجہ :229، دارمی :361)کچھ صحابہ کے بارے میں مروی ہے کہ وہ دن بھر محنت مزدوری کرتے تھے اور رات میں مدینہ کے ایک گھر میں جمع ہوکر قرآن کا مطالعہ و مذاکرہ کرتے تھے _(مسلم :677) مذکورہ دونوں واقعات کے زمانے کی صراحت حدیثوں میں نہیں ہے _اگر وہ غیر رمضان کے ہوں تو بھی ان اعمال کو شبِ قدر میں بھی انجام دیا جا سکتا ہے _
5_آخری پہر میں تھجد کی نماز پڑھی جائے _ یہ اجتماعی طور پر بھی ادا کی جا سکتی ہے _
شبِ قدر کے بارے میں بعض غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں :
1_ بہت سے لوگ صرف 27 رمضان کی رات کو شبِ قدر سمجھتے ہیں _ یہ درست نہیں _ آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے کوئی بھی رات شبِ قدر ہو سکتی ہے ، اس لیے پانچوں راتوں میں عبادات کا اہتمام کرنا چاہیے _
2_ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ پوری رات جاگنا ضروری ہے _اگر چند لمحات کے لیے بھی سو گئے تو ساری عبادت ضائع ہوجائے گی _ یہ خیال صحیح نہیں _ آدمی جتنی عبادت کرے گا اس کا اجر پائے گا _
3 _ بعض لوگ شبِ قدر میں محض جاگنے کو عبادت سمجھتے ہیں _ چنانچہ وہ اجتماعی طور پر کھانے پینے کا اہتمام کرتے ہیں اور خاصا وقت خوش گپیوں میں گزار دیتے ہیں _ یہ درست نہیں ہے _ جہاں تک ہو سکے ، شبِ قدر کے لمحات کو عبادت میں گزارنا چاہیے _
4_ بہت سے نوجوان شبِ قدر کو غول در غول گھوم ٹہل کر گزارتے ہیں _ کچھ نوجوان رات بھر اِدھر اُدھر موٹرسائیکل دوڑاتے ہیں _ ان سب ناشائستہ کاموں سے بچنا چاہیے _
5 _ بعض لوگ شبِ قدر کے آخری پہر قبرستان جاتے اور وہاں اپنے مرحوم رشتے داروں کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں _ ایسا کیا جا سکتا ہے ، لیکن اسے صرف اسی دن کے لیے خاص سمجھنا درست نہیں:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *