’’تشدد کرنا‘‘ایک قابل علاج ذہنی بیماری ہے: طبی ماہرین

شدید دباؤ کے ساتھ سخت،متشدد اور سرد ماحول، ذہن کو ایک زہریلا عصبی ہارمون خارج کرنے پر مجبور کر دیتا ہے ، یہ ہارمون کارٹیسولviolence کہلاتا ہے۔کارٹیسول حقیقتاً دماغ کے جذباتی باقاعدگی اور نبض کنٹرول سے متعلق علاقے میں موجود عصبی خلیوں کو تباہ کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں پری فرنٹل لوبز میں خرابی پیدا ہو جاتی ہے اور فرد پرتشدد کردار اپنا لیتا ہے جب کہ ایک محفوظ ماحول میں پیار بھرے اور متعاون تعلقات، دماغ کو آکسی ٹوکسن خارج کرنے پر مجبور کردیتے ہیں جو ہمدردی اور پیار کی صلاحیت کو پروان چڑھانے والے مراکز کی پرداخت کرتے ہیں۔ یہ مراکز امن اور سکون کیلئے نیورولوجیکل بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ تشدد ایک قابل علاج ذہنی بیماری بن گیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *