Site icon DUNYA PAKISTAN

’غیر یقینی کا شکار‘ پی ٹی آئی، نواز شریف کی منتظر ن لیگ اور ’غیر متحرک‘ پیپلز پارٹی: پاکستان کی سیاسی جماعتیں اس وقت کہاں کھڑی ہیں؟

Share

الیکشن کمیشن کے اعلان کے مطابق پاکستان میں عام انتخابات جنوری کے آخری ہفتے میں ہوں گے تو ایسے میں یہ جاننا ضروری ہے کہ انتخابی مہم کے اعتبار سے بڑی سیاسی جماعتیں کہاں کھڑی ہیں۔

ہم نے اس حوالے سے بھی ماہرین کی رائے جاننے کی کوشش کی ہے کہ کون سی سیاسی جماعتیں کہاں مضبوط اور کہاں کمزور ہیں جبکہ کن کن کے درمیان اتحاد یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا امکان ہے۔

پنجاب

قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستوں والے صوبے پنجاب میں سیاسی سرگرمیوں کے اثرات دیگر صوبوں میں فوری طور پر محسوس کیے جاتے ہیں۔ پنجاب میں کیا ہو رہا ہے اور کیا ہونے والا ہے، آئیے اس پہلو کا احاطہ کرتے ہیں۔

مسلم لیگ ن: اعتماد کی بحالی ایک چیلنج

جماعت کے قائد اور تین بار منتخب وزیر اعظم میاں نواز شریف 21 اکتوبر کو لاہور آ رہے ہیں جس کے لیے مقامی ایم پی ایز اور ایم این ایز اپنے اپنے اہداف کی تکمیل کی خاطر ووٹرز سے ملاقاتیں شروع کر چکے ہیں۔ ن لیگ کی اعلیٰ قیادت بھی بعض شہروں میں اس ضمن میں مقامی قیادت سے ملاقاتیں کر رہی ہے۔

یہ کوئی انتخابی سرگرمی تو نہیں تاہم اس کا مقصد نواز شریف کی آمد پر مینارِ پاکستان کے پاور شو کو کامیاب ظاہر کرنا ہے۔ اس سب کے بیچ ن لیگ کی انتخابی مہم فی الحال کہاں کھڑی ہے؟

سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر رسول بخش رئیس کہتے ہیں کہ نواز شریف کا انحصار اپنی پارٹی کے امیدواروں پر ہے کہ وہ اُن کے استقبال کے لیے بندے لے کر آئیں۔ ’انھیں عوام پر اعتماد نہیں کہ وہ خود بہ خود استقبال کے لیے آ جائیں گے۔‘

تجزیہ کار سلمان غنی کہتے ہیں ’مسلم لیگ ن کی ساری تیاری میاں نواز شریف کی آمد کے حوالے سے دکھائی دیتی ہے۔ اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔ مجھے تو لاہور میں بھی، جو مسلم لیگ ن کا گڑھ ہے، کوئی بڑی تیاریاں نظر نہیں آ رہیں۔‘

اسی طرح تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کہتے ہیں کہ پنجاب میں جو سیاسی مقابلہ ہے وہ پاکستان مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کے مابین ہو گا۔ تاہم یہ الیکشن میں پی ٹی آئی کی پوزیشن اور حیثیت پر منحصر ہے۔‘

ڈاکٹر رسول بخش کی رائے میں ’جو الیکٹیبلز اکٹھے ہو رہے ہیں، اُن میں ن لیگ کا پلڑا بھاری ہے‘ جبکہ تجزیہ کار ضیغم خان کا خیال ہے کہ ن لیگ نے ’جس طرح گذشتہ ڈیڑھ سالوں میں اپنی مقبولیت کھوئی ہے، اس کو دوبارہ حاصل کرنا جتنا ناگزیر ہے اتنا ہی مشکل۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میاں صاحب آ کر کیا مقبولیت بحال کرواسکیں گے؟ یہ دیکھنا ہو گا۔‘

مگر یہ واضح ہے کہ معاشی چیلنجز سے بھرپور شہباز شریف کے مختصر دور کے بعد میاں نواز شریف کی واپسی، پی ایم ایل این کی سیاسی بقا سے مشروط ہو چکی ہے۔

پنجاب کے تمام اضلاع سے جو رپورٹس موصول ہوئی ہیں، اُن کے مطابق تمام مقامی قیادت میاں نوازشریف کے استقبال کے لیے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو لانے کی سعی کر رہی ہے۔

اس کی دو وجوہات سامنے آئی ہیں۔ مقامی اُمیدوار سمجھتے ہیں کہ یہ شو کامیاب رہا تو حلقے میں اُن کی سیاست میں جان پڑ سکتی ہے۔ دوسرا یہ کہ نواز شریف کی واپسی کو جس اُمید سے جوڑا جا رہا ہے، وہ اُمید اگر ثمر بار ہوتی ہے تو پارٹی پنجاب میں کھوئے اعتماد کو بحال کر سکتی ہے۔

پیپلز پارٹی ’اتنی متحرک نہیں‘

قومی اسمبلی کی تحلیل کے دنوں میں جنوبی پنجاب کی سطح پر پیپلز پارٹی متحرک دکھائی دی۔ مگر موجودہ لمحات میں اِن کی دوسرے درجہ کی قیادت میاں نواز شریف کی واپسی کو، بیانات کی حد تک، طنزیہ پیرائے میں دیکھ رہی ہے۔

پیپلز پارٹی کی سرگرمیوں اور ان کے بعض رہنماؤں کے بیانات سے یوں محسوس ہو رہا ہے کہ اِن کے لیے میدان کھلا نہیں چھوڑا جا رہا۔

ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کہتے ہیں کہ پیپلزپارٹی کی پوزیشن ’اُس وقت تک بہتر ہوسکتی ہے جب تک پی ٹی آئی زیرِ عتاب رہے گی اور خوف کی فضا طاری رہے گی۔‘

انتخابات کی تاریخ آنے پر کیا پیپلز پارٹی میں کچھ الیکٹیبلز بھی شمولیت اختیار کریں گے، اس پر ڈاکٹر رسول بخش رئیس کہتے ہیں کہ ’پی ٹی آئی سے جو لوگ نکل گئے یا آنے والے وقت میں چھوڑ کر جائیں گے، اُن میں سے زیادہ تر پیپلزپارٹی کے پاس نہیں جا رہے۔‘

جنوبی پنجاب میں پیپلزپارٹی سپیس لینے کی کوشش کرتی نظر آئی لیکن موجودہ لمحات میں وہاں کیا صورت حال ہے؟ جنوبی پنجاب اور پیپلزپارٹی کی سیاست پر نظر رکھنے والے صحافی شاکر حسین شاکر کہتے ہیں کہ ’جنوبی پنجاب میں پیپلز پارٹی متحرک نہیں، نہ ہی کوئی میٹنگ، نہ ہی کہیں کوئی جوڑ توڑ نظر آ رہا ہے۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ مخدوم احمد محمود ملتان کی طرف آتے ہیں مگر عوام کے اندر اُن کی روٹس بالکل نہیں ہیں۔ ’ملتان میں پیپلز پارٹی کے اہم رہنما اور سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی پارٹی کی نسبت اپنے بچوں اور خاندان کی سیاسی مہم پر لگے ہوئے ہیں۔ یہ اپنے بچوں اور خاندان سے باہر ہی نہیں نکل رہے۔‘

،تصویر کا کیپشننگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ ’عمران خان کی پارٹی کے ہزاروں لوگ، جو غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث نہیں، وہ سیاسی عمل اور انتخابات میں حصہ لیں گے۔‘

’غیر یقینی اور دباؤ‘ کا شکار پاکستان تحریکِ انصاف

پنجاب میں سیاسی ہلچل عمران خان اور اُن کی جماعت کی وجہ سے تھی مگر وہ اس وقت خود اڈیالہ جیل میں ہیں۔ اُن کے ساتھی جماعت چھوڑ چکے، چھوڑ رہے ہیں یا پھر غائب اور خاموش ہیں۔ استحکام پاکستان پارٹی بظاہر لاہور میں میٹنگز اور پوسٹروں سے آگے تحریک پیدا کرنے سے قاصر دکھائی دیتی ہے۔

ضیغم خان کہتے ہیں کہ ’پنجاب میں انتخابی صورتحال بے یقینی کا شکار ہے (کیونکہ) ملک کی سب سے نمایاں جماعت، پاکستان تحریک انصاف، بہت زیادہ دباؤ کا شکار ہے اور دانستہ طور پر پی ٹی آئی کے امکانات کو کم کرنے کی مسلسل کوشش کی جا رہی ہے۔‘

نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ خود بی بی سی ہارڈ ٹاک کو دیے انٹرویو میں یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو، تمام دستیاب قانونی چارہ جوئی کو بروئے کار لائے جانے کے بعد، عدالتوں کی جانب سے قانونی طور پر انتخابات سے روکا جاتا ہے تو یہ معاملہ نگراں حکومت کے اختیار میں نہیں ہو گا۔

اسی کے ساتھ انوار الحق کاکڑ نے اے پی پی کو دیے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا تھا کہ ’عمران خان کی پارٹی کے ہزاروں لوگ، جو غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث نہیں، وہ سیاسی عمل اور انتخابات میں حصہ لیں گے۔‘

کیا آنے والے وقت میں پی ٹی کی مقبولیت کا گراف نیچے آسکتا ہے؟ اس پر ضیغم خان کہتے ہیں کہ ’کیا پاکستان تحریک انصاف کی مقبولیت کو گرایا جاسکتا ہے؟ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے۔‘

استحکام پاکستان پارٹی: ’دھڑا یا سیاسی جماعت؟‘

عمران خان کے سابقہ دیرینہ ساتھی جہانگیر ترین کی نئی استحکام پاکستان پارٹی سے کیا توقعات وابستہ رکھی جاسکتی ہیں، اس پر ڈاکٹر حسن عسکری رضوی نے کہا کہ اس جماعت کی ’کوئی پالیسی واضح نہیں ہے اور نہ ہی اُن سے کسی پرفارمنس کی اُمید ہے۔‘

وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’پنجاب میں استحکام پاکستان پارٹی نے کوئی جلسہ نہیں کیا۔‘

اسی طرح ڈاکٹر رسول بخش رئیس کہتے ہیں کہ جنوبی پنجاب میں ممکن ہے چند لوگ اکٹھے کر کے ایسی پارٹی بنا لی جائے تاہم یہ ’ایک دھڑا تو بن سکتی ہے، سیاسی جماعت نہیں۔‘

جنوبی پنجاب، جو کہ جہانگیر خان ترین کا اپنا حلقہ اور مسکن بھی ہے، وہاں استحکامِ پاکستان پارٹی کہاں کھڑی ہے؟

شاکر حسین شاکر کے مطابق جنوبی پنجاب میں اس وقت استحکام پاکستان پارٹی میں کسی بڑی شخصیت نے شمولیت اختیار نہیں کی۔ ’نہ ہی اُن کی جانب سے اس طرح کی کوئی کوشش کی جا رہی ہے۔ جہانگیر ترین کا خیال ہے کہ الیکشن ابھی دُور ہے۔‘

،تصویر کا کیپشنبعض تجزیہ کاروں کے مطابق جنوبی پنجاب میں پیپلز پارٹی اس قدر متحرک نہیں

پنجاب کا ممکنہ سیاسی منظرنامہ کیا ہوگا؟

ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کہتے ہیں ’جب تک الیکشن کی تاریخ واضح نہیں ہوتی، اُس وقت تک سیاسی جماعتوں کی سطح پر کسی حکمت عملی کی وضاحت بھی نہیں ہو سکے گی۔‘

پروفیسر رسول بخش رئیس کہتے ہیں کہ ’اُن الیکٹیبلز کو اکٹھا کیا جا رہا ہے جن کا حلقۂ اثر ہے۔ مگر لوگ ایسی پارٹیوں کے خلاف ہو چکے ہیں۔ عمران کے پاس اب بھی مقبولیت ہے، باقیوں کے پاس نہیں ہے۔‘

اس سوال پر کہ جنوبی پنجاب کا کیسا منظرنامہ تشکیل پاسکتا ہے، شاکر حسین شاکر کہتے ہیں کہ ’جنوبی پنجاب مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے مابین اتحاد کی صورتحال نظر نہیں آرہی ہے ۔جبکہ استحکام پاکستان پارٹی مقبولیت حاصل کرنے کی پالیسی سے محروم ہے ۔ کسی بھی سیاسی جماعت کی جانب سے انتخابی لائحہ عمل سامنے نہیں آیا۔ملتان میں بعض مقامات پر ن لیگ کے اُمیدواروں کی جانب سے پوسٹر لگے ہوئے ہیں کہ 21 اکتوبر کو لاہور میں میاں نواز شریف کے استقبال کے لیے شرکت کریں اور ہم سے رابطہ کریں۔‘

سندھ

دوسرے سب سے بڑے صوبے سندھ میں سب سے پہلے کراچی کی سیاست کا جائزہ لیتے ہیں۔

کراچی کی شہری سیاست میں پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کا ذکر ضروری ہے۔ بلدیاتی الیکشن اور بعد ازاں نو مئی کے واقعات کے بعد کراچی میں پی ٹی آئی شدید دباؤ کا شکار رہی ہے۔ بلدیاتی انتخابات میں پیپلزپارٹی کی نمایاں کارکردگی عام انتخابات کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔

،تصویر کا کیپشنکراچی کی انتخابی سیاست کا دھارا کس رُخ بیٹھ سکتا ہے، اس پر صحافی و تجزیہ کار عبدالجبار ناصر کہتے ہیں کہ ’یہ بڑے وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ جماعتوں کا کسی بھی نشست پر اتحاد ہونا مشکل ہے‘

کراچی میں سیاسی جماعتیں ’کھڑی نہیں، پڑی ہوئی ہیں‘

کراچی کی سیاسی جماعتیں اس وقت کہاں کھڑی ہیں، اس پر تجزیہ کار ڈاکٹر سید جعفر احمد کہتے ہیں کہ زیادہ بہتر جملہ یہ ہے کہ ’جماعتیں کہاں پڑی ہیں۔ کھڑے ہونے میں اپنی مرضی شامل ہوتی ہے۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ’کراچی کی تمام سیاسی جماعتیں پڑی ہوئی ہیں، جب اور جہاں اُن کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے اُن کو وہاں رکھا جا رہا ہے۔

’پہلے ایم کیو ایم کو تقسیم در تقسیم کیا گیا۔ اب پچھے آٹھ، دس ماہ سے جو حکمتِ عملی اور سوچ سامنے آ رہی ہے، وہ یہ ہے کہ سب گروپس کو جوڑ دو۔‘

دریں اثنا ڈاکٹر سید جعفر احمد کہتے ہیں کہ کراچی میں جو حلقہ بندیاں ہوئی ہیں، اُن میں پپیلز پارٹی کی مرضی شامل رہی ہے۔ ’یوں وہ اپنے لیے بہتری کے حالات پیدا کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی بکھر چکی ہے۔ اب کہیں نظر نہیں آ رہی۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’بلدیاتی الیکشن میں پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی قریب آ رہی تھیں، ایک دوسرے کے ساتھ جڑ رہی تھیں (مگر) اُن کو الگ کر دیا گیا۔

’اس وقت ایم کیو ایم، جی ڈی اے اور جمیعت علمائے اسلام ف کو ایک جگہ پر بٹھایا جا رہا ہے۔ اس سے پیپلزپارٹی کی مشکلات بڑھیں گی۔ جماعت اسلامی قومی سیاست میں کسی کردار کے طور پر نظر نہیں آ رہی۔‘

کراچی کی انتخابی سیاست کا دھارا کس رُخ بیٹھ سکتا ہے، اس پر صحافی و تجزیہ کار عبدالجبار ناصر کہتے ہیں کہ ’یہ بڑے وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ جماعتوں کا کسی بھی نشست پر اتحاد ہونا مشکل ہے۔

’ہر جماعت اپنے ہی زورِ بازو پر الیکشن میں اڑان بھرے گی۔ تحریک ِ انصاف کا معاملہ تکنیکی نہیں بلکہ اپنے ووٹ بینک کی طرح جذباتی ہے اور ان کے ووٹر کبھی نہیں چاہیں گے کہ اتحاد ہو سکے۔‘

حیدر آباد میں جماعتیں متحرک ہونا شروع

صحافی جنید خانزادہ کہتے ہیں حیدر آباد میں ایم کیو ایم اور دیگر جماعتوں کے سیاسی دفتر متحرک ایکٹو ہو رہے ہیں۔ ’بعض شہروں میں مسلم لیگ ن کی اس حد تک سرگرمیاں ہیں ہے کہ 21 اکتوبر کو نواز شریف کے استقبال کے لیے دستے تیار کیے جا رہے ہیں۔‘

جے یو آئی سندھ میں سکھر سے کراچی تک لانگ مارچ کرے گی۔ یہ ووٹرز کو متحرک کرنے کا پلان ہے۔ پیپلزپارٹی نے کام شروع کر دیا ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’جی ڈی اے میں فہمیدہ مرزا کا اپنا ووٹ بینک ہے۔ یہ مرزا ووٹ بینک کہلاتا ہے۔‘

حیدر آباد سے تعلق رکھنے والے صحافی شیراز ڈیہڑی کہتے ہیں کہ یہاں نو اضلاع میں پاکستان پیپلز پارٹی ’قدرے مستحکم اور فعال نظر آتی ہے۔ جی ڈی اے میں فہمیدہ مرزا اور ڈاکٹر ذولفقار مرزا کا ہونا بہت اہمیت کا حامل ہے۔‘

خیبر پختونخوا

خیبر پختونخوا کی مذہبی و سیاسی جماعتوں کی بات کی جائے تو تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جماعت اسلامی لوئر اور اَپر دیر کے علاقے تک، مولانا سمیع الحق کی جماعت محض نوشہرہ کے ایک مخصوص علاقے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ جبکہ جے یوآئی ف بہتر پوزیشن میں ہے اور یہ پشتون بیلٹ میں بھی مضبوط ہے۔

پشاور کے صحافی و تجزیہ کار سیف اللہ گل کے مطابق ’گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی، جن کا تعلق جے یو آئی ف سے ہے، اپنی پارٹی کے لیے کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر الیکشن کی صورتحال کو دیکھیں تو یہ جماعت اُس طرح متحرک نظر نہیں آ رہی ہے۔ اِن کی جانب سے کچھ جگہوں پر ورکرز کنونشن کیے گئے ہیں۔‘

سیف اللہ گل کی رائے میں ’بلاول بھٹو زرداری یہاں پی پی پی کو ازسرنو منظم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر یہ کوششیں زیادہ سود مند نہیں۔‘

ان کا خیال ہے کہ ’ْمسلم لیگ نواز واضح اکثریت نہیں رکھتی اور مختلف گروپس میں تقسیم ہے۔ امیر مقام کی شانگلہ اور سوات میں موجودگی کا احساس ملتا ہے۔ اگر ہم پی ٹی آئی کی سطح پر دیکھیں تو اہم ترین آدمی، جن کا بنیادی کردار تھا، وہ پرویز خٹک تھے، جو الگ ہوچکے ہیں۔ شیرپاؤ چارسدہ کے علاقے تک محدود ہو کر رہ گئے۔ اے این پی بھی مسائل کا شکار ہے اور ایمل ولی خان، عمران خان کے خلاف ضمنی الیکشن بھی نہیں جیت سکے تھے۔‘

حالیہ عرصے میں نوجوان ووٹروں میں کافی اضافہ ہوا ہے اور سیف اللہ گل کے مطابق ہے ’یہ سب پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں۔‘

پشاور سے تعلق رکھنے والے صحافی محمد عرفان کہتے ہیں کہ ’پرویز خٹک، اے این پی، جے یو آئی ف اور پیپلزپارٹی کی سطح تک کچھ سرگرمیاں ہیں۔ مسلم لیگ ن کی جانب سے جو سرگرمی ہے وہ میاں نوازشریف کے استقبال کی تیاریوں کے ضمن میں ہے۔‘

خیبرپختونخوا میں پرویز خٹک متحرک

پنجاب میں جہانگیر خان ترین اور خیبرپختونخوا میں پرویز خٹک کی جماعت کو خصوصی دلچسپی سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ دونوں کا وجود، ایک بڑے وجود سے نکلا ہے۔

ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کہتے ہیں کہ ’اگر خیبر پختونخوا میں پرویز خٹک کی نئی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف پارلیمنٹیرین کو دیکھا جائے تو وہ جلسے وغیرہ کر رہے ہیں۔ یہ محض جلسوں کی حد تک ہی ہے، آگے دیکھیں کیا ہوتا ہے۔‘

تاہم سیف اللہ گل کہتے ہیں کہ ’پرویز خٹک ایسے لوگوں کو اپنی پارٹی میں لانے کی جدوجہد کر رہے ہیں جنھوں نے اپنے اپنے علاقے میں کام کروائے، جیسے محمود خان۔ اُنھوں نے سوات کے علاقے میں بہت ترقیاتی کام کروائے۔

’اگر محمود خان آزاد بھی اپنے حلقے میں کھڑے ہو جائیں تو سیٹ نکال سکتے ہے۔‘

بلوچستان

بلوچستان کی صوبائی سیاست عمومی طور پر وفاق میں حکومت کا پَر ہوتی ہے۔ بلوچستان کی مذہبی و قوم پرست سیاسی جماعتیں اگرچہ بلوچ اور پشتون بیلٹ میں جڑیں رکھتی ہیں تاہم اِن کا دائرہ وسیع نہیں۔

تجزیہ کاروں کی رائے میں بلوچستان کی سیاسی تاریخ میں ہمیشہ عام انتخابات سے قبل تجربات کیے جاتے ہیں۔ یوں بلوچستان میں ہمیشہ ایک کنٹرولڈ سیاست رہی ہے۔

سب سے پہلے قومی سطح کی تینوں بڑی جماعتیں پی ٹی آئی، پیپلزپارٹی اور پی ایم ایل این کی بات کرتے ہیں۔

حالیہ عرصے میں بلوچستان کے چند رہنماؤں نے پیپلزپارٹی کا رُخ کرنا شروع کیا تھا، شمولیت بھی اختیار کی جانے لگی مگر پھر اچانک سلسلہ رُک گیا۔ پیپلزپارٹی کی طرف رُخ کرنے والے رُک کیوں گئے؟

،تصویر کا کیپشنبلوچستان کی سیاست پر نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ جمیعت علمائے اسلام ف دیگر تمام سیاسی جماعتوں سے بہتر پوزیشن میں ہے اور انتخابات میں نمایاں کارکردگی دکھا سکتی ہے

’الیکٹیبلز اب ن لیگ کی طرف دیکھ رہے ہیں‘

صحافی شہزادہ ذوالفقار کہتے ہیں کہ ’کچھ لوگ پیپلزپارٹی میں شامل ہوئے۔ کچھ کو روک دیا گیا۔ شمولیت اختیار کرنے والوں کے مطابق ہمیں تو کہا گیا تھا کہ پیپلزپارٹی اقتدار میں آئے گی۔‘

کوئٹہ میں صحافی رضا الرحمٰن کہتے ہیں کہ پیپلزپارٹی کو شروع میں بلوچستان سے کافی پذیرائی ملی، بعد میں یہ تاثر ملا کہ پیپلزپارٹی کے بجائے ن لیگ کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے جس پر شمولیت کا ارادہ رکھنے والی سیاسی شخصیات نے ’خاموشی اختیار کر لی اور ن لیگ کی قیادت سے رابطے شروع کر دیے۔‘

صحافی عرفان سعید کا بھی یہی خیال ہے۔ ’ابتدا میں پیپلزپارٹی کی طرف رجحان دکھائی دیا تھا، اب لوگ ن لیگ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔‘

ادھر صحافی میر اسلام کہتے ہیں کہ ’پیپلزپارٹی میں لوگوں کی شمولیت کا سلسلہ تھم چکا ہے۔ آگے مزید شمولیت کا امکان کم ہے۔‘

مسلم لیگ ن کی حکمت عملی کے حوالے سے شہزادہ ذوالفقار کا کہنا ہے کہ ’اس وقت بلوچستان میں ٹرینڈ یہ ہے کہ وفاق اور پنجاب میں ن لیگ برسرِاقتدار آئے گی۔ میاں نوازشریف کے آنے کے بعد بننے والی فضا کا انتظار ہے۔‘

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے تجزیہ کار مسلم لیگ ن کو یہاں تقویت پکڑتا دیکھ رہے ہیں۔ رضا الرحمٰن کہتے ہیں کہ ’بلوچستان عوامی پارٹی کے بعض الیکٹیبلز، خاص طور پر جام کمال، اپنے ساتھیوں کے ساتھ ن لیگ کی قیادت سے رابطے میں ہیں۔

’اگر ان سیاسی شخصیات نے ن لیگ میں شمولیت اختیار کی تو یقیناً بلوچستان میں ن لیگ کی سیاسی پوزیشن مستحکم ہوجائے گی۔‘

عرفان سعید بھی سمجھتے ہیں کہ ’بلوچستان میں مسلم لیگ ن الیکٹیبلز کی طرف سرگرم اور انحصار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔‘

جے یو آئی ف کی پوزیشن ’مستحکم‘، پی ٹی آئی کا ’کوئی امکان نہیں‘

قومی سطح کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے برعکس پاکستان تحریکِ انصاف زوال کا شکار ہے اور بلوچستان میں اس کے مستقبل پر تجزیہ کار تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

شہزادہ ذوالفقار کے مطابق پی ٹی آئی کا ’اب یہاں کوئی امکان نہیں۔ پی ٹی آئی کے لوگ پارٹی چھوڑ چکے ہیں۔‘

جبکہ رضاالرحمٰن کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی موجودہ سیاسی صورتحال میں ’بمشکل یہاں سے کوئی قومی یا صوبائی اسمبلی کی نشست نکال پائے گی۔‘

عرفان سعید کا خیال بھی یہی ہے۔ ’پی ٹی آئی نو مئی کے بعد غیر متحرک ہے۔ اُس کی صوبائی قیادت چھوڑ چکی، خاموش یا غائب ہے۔

بلوچستان کی سیاست پر نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ جمیعت علمائے اسلام ف دیگر تمام سیاسی جماعتوں سے بہتر پوزیشن میں ہے اور انتخابات میں نمایاں کارکردگی دکھا سکتی ہے۔

شہزادہ ذوالفقار کی رائے میں 2018 کے الیکشن میں سب سے بڑی صوبائی جماعت بن کر سامنے آنے والی بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) میں ’سب الیکٹیبلز تھے۔ کچھ موجود ہیں، کچھ نکل چکے۔ کچھ نکلنے کی تیاری میں ہیں۔‘

عرفان سعید کہتے ہیں ’بلوچستان عوامی پارٹی بکھر چکی ہے۔ یہی تاثر دیا جا رہا ہے کہ اس کے پاس جو بچے کچے امیدوار رہ گئے ہیں، ان کے ساتھ یہ میدان میں اترے گی۔‘

اپریل 2022 میں وفاق میں پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمے کے بعد جمیعت علمائے اسلام ف نے بلوچستان میں اپنی سیاسی حکمت کو بہتر اور مؤثر بنانے میں متحرک دکھائی دی ہے۔

شہزادہ ذوالفقار کہتے ہیں کہ جے یو آئی کی پوزیشن ’زیادہ مستحکم ہے۔ بی این پی، نیشنل پارٹی اور دیگر جتنے چھوٹے گروپس ہیں اُن کے مقابلے میں جے یو آئی ف مضبوط ہے۔‘

تو اس سب کے بیچ بلوچستان کی قوم پرست جماعتیں کہاں کھڑی ہیں؟ بی این پی مینگل ہو یا نیشنل پارٹی، یہ بلوچ بیلٹ میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔

پشتون بیلٹ میں جمیعت علمائے اسلام ف اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا اثر و رسوخ زیادہ ہے مگر پشتونخوا ملی عوامی پارٹی منقسم ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس کا سب سے بڑا فائدہ جے یو آئی ف کو ہوگا۔

شہزادہ ذوالفقار کہتے ہیں کہ اس وقت تمام قوم پرست جماعتیں منقسم ہیں۔ ’پشتون بیلٹ کے جو گیارہ بارہ ضلعے ہیں، اُن میں اے این پی تنہا الیکشن لڑے گی، کسی کے ساتھ اتحاد نہیں کرے گی۔ پشتونخوا پارٹی کے دو گروپ ہوں گے، وہ بھی الگ الگ الیکشن لڑیں گے۔

’یوں لگ رہا ہے کہ محمود اچکزئی کا مخالف دھڑا اور اے این پی شاید اتحاد بنا لیں۔ یوں قوم پرست جماعتوں کے ووٹ تقسیم ہوں گے اور اس کا زیادہ فائدہ جے یو آئی ف کو ہو گا۔‘

رضا الرحمٰن کا بھی یہی خیال ہے کہ پشتون اور بلوچ علاقوں میں جے یو آئی ف سیاسی طور پر مستحکم نظر آتی ہے۔

جبکہ عرفان سعید کہتے ہیں کہ ’قوم پرست انتشار کا شکار ہیں۔۔۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی دو دھڑوں میں تقسیم ہے۔ پشتون علاقے میں اے این پی کا بھی کوئی اثر و رسوخ نہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ بلوچ بیلٹ میں ڈاکٹر مالک کی نیشنل پارٹی اور سردار اختر مینگل کی بی این پی اِن دونوں کو قریب لانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ بلوچ قوم پرست جماعتوں کا کوئی اتحاد بن سکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’لیکن بلوچ بیلٹ میں یہ دونوں جماعتیں جے یو آئی ف کے ساتھ اتحاد کی کوشش ضرور کریں گی۔ بی این پی مینگل اور جے یو آئی کے مابین سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی کوششیں دکھائی دے رہی ہیں۔‘

بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ محمود خان اچکزئی کی پارٹی متحد نہیں ہے۔

شہزادہ ذوالفقار نے کہا کہ ’اُن کی پارٹی دولخت ہوچکی ہے۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی کا زیادہ انحصار اس وقت جے یو آئی ف پر ہے۔‘

Exit mobile version