غریبوں سے ہی ٹیکس کیوں؟

ڈاکٹر اکرام الحقikram

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈولپمنٹ اکنامکس(PIDE) کے وائس چانسلر ڈاکٹر اسد زمان کا کہنا ...’’حکومت کا مقصد عوام کی خدمت نہیں بلکہ عوام کا استیصال ہوتا ہے‘‘۔ موجودہ حکومت اپنی ٹیکس مشینری کی نااہلی پر پردہ ڈالنے کے لیے غریب عوام پر مسلسل ٹیکس کا بوجھ ڈال رہی ہے۔ یہ ٹیکس عوام کے فائدے کے لیے نہیں بلکہ ریاستی اشرافیہ(جو سیاسی کاروباریوں، فوجی اورسول کمپلیکس، پر مشتمل ہے ) کے غیر معمولی عشائیوں کے لیے ہے۔
یکم فروری 2015ء کو حکومت نے پٹرولیم کی مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس کو ستائیس فیصد تک بڑھا دیا حالانکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہورہی تھیں ۔ سیلز ٹیکس میں یہ اضافہ SRO 83(I)/2015 میں مقرر کردہ سترہ فیصد سیلز ٹیکس کی شرح کی خلاف ورزی ہے۔ یہ ملکی تاریخ میں کسی بھی چیز پر عائد کردہ بلند ترین ٹیکس ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ریاستی اشرافیہ غریبوں کو کچلنے اور امیروں کو نوازنے کی پالیسی پر کاربند ہے۔ یہ بات پاکستان کے لیے سانحے سے کم نہیں کہ یہاں پندرہ ملین افراد جن کی آمدن قابلِ ٹیکس ہے، ٹیکس ریٹرن فائلز جمع نہیں کراتے، یا وہ اپنے آمدن اور اثاثوں کے لحاظ سے ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ اس کے نتیجے میں غریب عوام پر بھاری ٹیکس لگایا جاتا ہے اور اس سے حاصل ہونے والی رقم سے ریاستی اشرافیہ کو فوائد پہنچائے جاتے ہیں۔ اس وقت ہمارے ریاستی نظام کی سب سے بڑی خامی یہی ہے کہ اشرافیہ عوام کے پیسے پر پل رہی ہے .... عوام جو ٹیکس ادا کرتے ہیں ، کے لیے کوئی سہولت نہیں لیکن اشرافیہ جو کچھ ادا نہیں کرتی، عوام کے خون پسینے کی کمائی پر عیش کرتی ہے۔
حکومت مزید ٹیکس عائد کرنے خواہش رکھتی ہے ، لیکن ستم یہ ہے کہ اس کے عوض شہریوں کو کچھ دینے کے لیے تیار نہیں۔ ان کی زندگی ابتلا اور کسمپرسی کا شکار ہے... نہ اُن کے لیے تعلیمی ادارے ہیں یہ شفاخانے، نہ ٹرانسپورٹ اور نہ ہاؤسنگ۔ اس لیے اُن پر مزید ٹیکس کا بوجھ لادنے سے پہلے حکومت کا فرض ہے کہ وہ عوام کو کم از جان و مال کا تحفظ تو فراہم کرے۔ اس کے علاوہ ضروری ہے کہ وزیرِ ا عظم ، وزرا، گورنر، وزرائے اعلیٰ، اعلی عہدے رکھنے والے سول اور دفاعی اداروں کے افسران کے ہاتھوں وسائل کے زیاں کو روکے۔ یہ طبقہ بھاری مالی فوائد سمیٹتا ہے لیکن ریاست کو کچھ نہیں دیتا۔ حکومت کا فرض ہے کہ اب غریب آدمی کا سوچے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے۔ خود انحصاری کی پسندیدہ منزل حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان معاشی ترقی نمو کے پروگراموں کو بڑھائے۔ ہر سال جاب مارکیٹ میں 1.7 ملین افراد کا اضافہ ہوتا ہے۔ ان کو ملازمت فراہم کرنے کے لیے کم از کم سات فیصد ترقی کی شرح درکار ہے۔ جب تک ریاست صحت، تعلیم، ٹرانسپورٹ، ہاؤسنگ اور دیگر شہری سہولیات کی فراہمی کی ذمہ داری ادا نہیں کرتی، یہ عوام کو ٹیکس ادا کرنے پر راضی نہیں کرسکتی۔ غیر منطقی انداز میں ٹیکس لگانے کا منفی نتیجہ نکلتا ہے۔ حقائق اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ تمام تر سختی کرنے کے باوجود آیف بی آر ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح بڑھانے میں ناکام رہا ہے۔ یہ شرح مسلسل زوال پذیر ہے...2013-14میں 8.9 فیصد جبکہ 2007-08 میں یہ 9.2 فیصد تھی۔ 2013-14 میں ڈیمانڈپیدا کرنے کے باوجود انکم ٹیکس 80.58بلین روپے تھا۔ اس سے پہلے، 2012-13 میں یہ 89.4بلین روپے تھا۔ اس تنزلی سے ایف بی آرکی کارکردگی کا پول کھل جاتا ہے۔ 2014 میں ایف بی آر نے نولاکھ سے بھی کم انکم ٹیکس فائلز وصول کیں ، حالانکہ 3.2 ملین افراد نیشنل انکم ٹیکس نمبر رکھتے ہیں۔ ناردا کے مطابق تیس لاکھ ایسے انتہائی امیر افراد ہیں جن کے پاس نیشنل ٹیکس نمبر نہیں ہے،حالانکہ وہ مہنگے علاقوں میں رہتے ہیں، کئی ایک بنک اکاؤنٹس رکھتے ہیں اور تواتر سے غیر ملکی دورے کرتے ہیں۔یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکرہے کہ 2009ء میں1,282,118 افراد نے انکم ٹیکس فائلز جمع کرائیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ٹیکس ادا کرنے والوں میں اوسط سالانہ سات فیصد کی کمی واقع ہورہی ہے ۔ سیلز ٹیکس کے شعبے کی حالت بھی بہت پتلی ہے۔ ایف بی آر کے پاس ایک لاکھ کے قریب رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان ہیں، لیکن ان میں سے صرف تیس ہزار سے بھی کم ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ ملک میں پچیس لاکھ سے زائد رٹیل اشیا فروخت کرنے والے ہیں لیکن ایف بی آر ان میں سے صرف اٹھ ہزار کو رجسٹرڈ کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ اس کے باوجود ایف بی آر کا دعویٰ ہوتا ہے کہ وہ حیرت انگیز کارکردگی دکھارہا ہے۔
تیس جون2014ء کو ملک میں ساٹھ ملین موبائل فون صارفین تھے۔ ان میں سے کم از کم ایک ملین بھاری بھرکم بل ادا کرتے ہیں۔ ان میں سے اکثر ٹیکس فائلز جمع نہیں کرتے۔ یہ افراد بھاری اثاثوں کے بھی مالک ہیں۔ ان سے ٹیکس وصول نہ کرنا ایف بی آر کی نااہلی نہیں تو اور کیا ہے؟دوسری طرف یہ کریڈٹ لے رہا ہے کہ اس نے کم و بیش تین لاکھ افراد کو نوٹس بھیج کر چند ملین روپے نکلوائے ہیں، لیکن یہ تمام قابلِ ٹیکس آمدنی رکھنے والے افراد سے ٹیکس وصول نہ کرپانے کی ناکامی کا اعتراف نہیں کرتا۔یہ بات میں نے پہلے شائع ہونے والے کالموں میں بھی کہی تھی کہ ایف بی آر آسانی سے اٹھ ٹریلین روپے جمع کرسکتا ہے اور اگر ایسا ہوجائے تو ہمیں بیرونی قرضے حاصل کرنے کی بھی حاجت نہ رہے ، بلکہ حکومت کے پاس اتنے وسائل ہوں کہ وہ عوام کو شہری سہولیات فراہم کرسکے۔
ہمارے رہنما جمہوریت کی باتیں کرتے ہیں لیکن ٹیکسز سے اجتناب کرتے ہیں۔ ملک میں دولت مند افراد سے ٹیکس وصول کرنے کی بجائے عام محنت کش شہری کو ٹیکس کے بوجھ تلے لاددیا جاتا ہے ۔ عوام کے خون پیسے پر پلنے والی اشرافیہ اس کے مفاد کے تحفظ کی دعویدار بھی ہے۔ عوام پر اس بات کا احسان بھی جتایا جاتا ہے کہ وہ ان کی خاطر رات دن ایک کیے ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ریاستی اشرافیہ کے اخراجات کی وجہ سے ریاست کا خزانہ خالی رہتا ہے۔ اب تک ہمارا کل قرضہ اٹھارہ ٹریلین روپے سے تجاوز کرچکا ہے، لیکن نہ تو دولت مند افراد سے ٹیکس وصول کرنے کی کوئی کوشش دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی اشرافیہ اپنے اخراجات کم کرنے کے لیے تیار ہے۔اس کے علاوہ غیر ضروری منصوبوں پر بھی بھاری رقوم خرچ کرنے کی روایت جاری ہے۔ اسی کی بنیاد پر انتخابات میں ووٹ لیے جائیں گے۔ حکومت اور اپوزیشن کے اہم رہنماؤں کے اربوں ڈالر بیرونی ممالک میں ہیں، لیکن وہ پاکستان میں ایک پائی بھی ٹیکس ادا نہیں کرتے، اس کے باوجوود وہ انتخابات جیتنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ اس صورتِ حال کی بہترین وضاحت پرنسٹن یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانس سٹیڈیز کے پروفیسر دانی روڈرک(Dani Rodrik) نے ان الفاظ میں کی ہے...’’دولت مندکیسے حکومت کرتے ہیں‘‘۔
چیئرمین ایف بی آر کے لیے لازم ہے کہ وہ قوم کو بتائے کہ ارکانِ پارلیمنٹ کی مہنگی گاڑیوں اور رہائش گاہوں کے بارے میں مطلق تحقیق نہیں کی جاتی، صرف ان کی طرف سے ظاہر کیے گئے معمولی سے اثاثوں کو ہی کافی سمجھ لیا جاتا ہے۔ بتایا جائے کہ کتنے ڈاکٹر، وکیل اور دیگر پیشہ ور افراد اپنی آمدنی کے مطابق ٹیکس فائل جمع کراتے ہیں؟ٹی وی ٹاک شوز میں جمہوریت کو اپنااوڑنا بچھونا قرار دینے والوں کی طرف سے جمہوریت کا اہم ترین پہلو، ٹیکس کی ادائیگی، کا بھانڈا بھی بیچ چوراہے (یعنی اُسی پروگرام کے دوران) میں پھوٹ جائے تو یقین کرلیں بہت جلد اس شور شرابے سے قوم کی جان چھوٹ جائے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اُس وقت تک ایک فلاحی ریاست نہیں بن سکتا جب تک ریاستی اشرافیہ سے ٹیکس وصول نہیں کیا جاتا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *