منشیات کے معاشرے پر تباہ کن اثرات

Dr. Ikram ul haq

26 جون منشیات کے تباہ کن اثرات اور اس کی سمگلنگ کے بارے میں آگاہی کا عالمی دن ہے ۔ 1987 ء میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اسے منانے کا فیصلہ کیا تاکہ عالمی برادری کو منشیات کے خطرات سے آگاہ کیا جاسکے ، اس کے پھیلاؤ کو روکا ، اور اس کے خلاف عالمی سطح پر لڑنے اور اس کا تدارک کرنے کی کوششوں کی حوصلہ افزائی کی جاسکے ۔
منشیات کی عادت کے بارے میں کیے جانے والے ملک گیر سروے ، نارکوٹس کنٹرول ڈویژن، پاکستان بیورو سٹیٹسٹکس اور اقوامِ متحدہ کے تعاون سے منشیات کے استعمال کے حوالے سے 2013 ء کی سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد 7.6 ملین ہے ۔ ان میں 78 فیصد آدمی اور 22 فیصد عورتیں ہیں۔ چرس ملک میں سب سے عام استعمال کی جانے والی نشہ آور چیز ہے ۔ اس کے عادی افراد کی تعداد چالیس لاکھ سے زائد ہے ۔ افیون اور ہیروئین استعمال کرنے والوں کی تعداد منشیات کے کل عادی افراد کا ایک ایک فیصد ہے ۔ ہیروئین کے عادی افراد کی تعداد 860,000 کے قریب ہے ۔
منشیات استعمال کرنے والے کم از کم بیس لاکھ افراد کو پروفیشنل علاج معالجے کی ضرورت ہے ، لیکن علاج کا دستیاب انفراسٹرکچر سالانہ صرف تیس ہزار متاثرہ افراد کا علاج کرسکتا ہے ۔ سروے سے سامنے آنے والی سب سے پریشان کن حقیقت یہ تھی کہ ملک میں ہیروئین کے عادی افراد کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے ، نیز ان کی اوسط عمر چوبیس سال سے کم ہے ۔ حال ہی میں دس کالجوں اور دو یونیورسٹیوں کے کیے گئے سروے سے طلبہ میں منشیات کے استعمال کے لرزہ خیز حقائق سامنے آئے ۔جن طلبہ سے سروے کیے گیا، اُن کی اکثریت (57 فیصد) نے اعتراف کیا کہ وہ ایک یا زیادہ اقسام کی منشیات استعمال کررہے ہیں۔ مزید لیے گئے بہت سے سرویز ظاہر کرتے ہیں کہ ملک میں منشیات کے عادی طلبہ کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے ۔
خوش قسمتی سے پچاسی سے نوے فیصد نشہ کرنے والے کیمیائی طور پر عادی نہیں ہیں۔ چنانچہ اگر اُنہیں ان کے نتائج سے آگاہ کیا جائے تو وہ نشہ ترک کرنے کے قابل ہوسکتے ہیں۔ معاشرے کا فرض ہے کہ اُنہیں منشیات کے خطرات سے آگاہ کرے اور اُن کا انسانی بنیادوں پر علاج کرے ۔ وہ افراد جو کیمیائی طور پر عادی ہوچکے ہوتے ہیں، وہ انہیں ترک کرنے یا منشیات سے خود کو پہنچنے والے نقصان کو سمجھنے کے قابل نہیں ہوتے ۔ منشیات کے استعمال سے اُن کی قوتِ فیصلہ تاریک ہوچکی ہوتی ہے اور وہ کسی بھی پیغام کو سننے یا سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ خوش قسمتی سے ہمارے ہاں ایسے عادی افراد کی تعداد دس سے پیدر ہ فیصد سے زیادہ نہیں ۔
بدقسمتی یہ ہے کہ منشیات کی فروخت اور سمگلنگ کا تدار ک کرنے والی ہماری کوئی بھی ایجنسی منشیات کے خطرات سے عوام کو آگاہ نہیں کرتی ۔ اس کے نتیجے میں جب بھی منشیات کے طور پر استعمال کی جانے والی ادویات کے خلاف مہم شروع کی جاتی ہے تو اسے یا تو غلط سمجھا جاتا ہے یا نظر انداز کردیا جاتا ہے ۔ ہمارے ملک میں نہ صرف ممنوعہ ادویات استعمال ہوتی ہیں بلکہ بہت سے قانونی طور پر جائز ادویات، جیسا کہ مسکن آور ادویات ، کا منفی استعمال کیا جاتا ہے ۔
چنانچہ یہ بات یاد رکھی جانی چاہیے کہ ایک قانونی طور پر جائز دوائی بھی اس کے منفی استعمال کی بنیاد پر ناجائز قرارپاتی ہے ۔ اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ اسے استعمال کس طرح کیا جارہا ہے ۔ عام طور پر ایسی ادویات کی معلوم ڈوز اور اجزا کا جائزہ لیا جاتا ہے ، لیکن ممنوعہ ادویات عام دستیاب ہوتی ہیں جو سروے یا جائزے کے دائرے میں نہیں آتیں۔ منشیات کے زیادہ تر عادی افراد خریدی گئی ڈرگز کے اجزا کی اصل کیمیائی ماہیت سے ناواقف ہوتے ہیں۔
چرس پاکستان میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی نشہ آور چیز ہے ۔ اسے عام طور پر ’’محفوط ‘‘ یا کم خطرناک سمجھا جاتا ہے ۔ ڈرگز کے منفی استعمال پر امریکی نیشنل انسٹی ٹیوٹ کی برس ہا برس سے کی جانے والی تحقیق اس تاثر کی نفی کرتی ہے ۔ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ چرس دو منفی اثرات کی حامل ہوتی ہے ۔ پہلا انتہائی مدہوشی کی کیفیت ہے جو نئے استعمال کرنے والوںُ پر طاری ہوتی ہے ، جو کئی گھنٹوں تک رہتی ہے ۔ دوسرا اثر انتہائی ذہنی تناؤ اور ہیجانی کیفیت کی صورت ظاہر ہوتا ہے ، جو زیادہ شدت کی ڈوز استعمال کرنے کا نتیجہ ہوتا ہے ۔
مسکن آور ادویات کا منفی استعمال عام ہے۔ ان کے نتیجے میں جسم پر لرزش کا طاری ہونا، بے خوابی، قے اور دل گھبرانے کی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ ان کے نتیجے میں مرگی اور فالج بھی ہوسکتا ہے۔ اگر اس کیفیت کا علاج نہ کیا جائے تو موت بھی واقع ہوسکتی ہے ۔ ان منشیات کے ابتدائی اثرات تمام اعصابی نظام کو سست کردیتے ہیں۔ ڈرگز کی مقدار بڑھانے سے اس کی فعالیت کم ہوتی جاتی ہے یہاں تک یہ نظام مکمل طور پر معطل ہوجاتا ہے اور متاثرہ شخص مر جاتا ہے ۔ ہمارے معاشرے میں کوکین اور amphetamines کو ہیجان خیز ڈرگز کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔ amphetamines کی زیادہ خوراک یا اس کا باقاعدہ استعمال بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن کو بڑھا دیتا ہے ۔ amphetaminesکو طویل عرصہ تک استعمال کرنے والا شخص ہیجان اور تشدد کی طرف مائل جاتا ہے ۔ اس کی وجہ سے نظام اخراج بھی متاثر ہوتا ہے اور خون کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں۔
افیون بھی نشہ آور اشیا میں شامل ہے ۔ اس کا استعمال شروع میں بے پناہ سکون اور سرشاری کی کیفیت دیتا ہے ۔ لیکن جسم بہت جلد اس کے اثر کا عادی ہوجاتا ہے ۔ اس کے بعد متاثرہ شخص کو وہ سرشاری حاصل کرنے کے لیے اس کی مقدار بڑھانی پڑتی ہے ۔افیون کی زیادہ مقدار جسم کا نظام مفلوج کرکے موت کا باعث بن جاتی ہے ۔ ہیروئین کے پاکستان میں کش لگائے جاتے ہیں، جبکہ مغرب میں اسے انجکشن کے ذریعے رگوں میں اتارا جاتا ہے ۔ اس سے حاصل ہونے والے لطف کا بھی جسم بہت جلد عادی ہوجاتا ہے ۔ حتیٰ کہ اس کی تھوڑی سی مقدار بھی عادی بنانے کے لیے کافی ہوتی ہے ۔ مطلوبہ سرشاری کے لیے اس کی ڈوز بڑھانی پڑتی ہے ، اور یہ بہت جلد ہلاکت کا باعث بنتی ہے ۔ اس کے اثرات میں شدید قبض، بھوک کا نہ لگنا اور جذباتی ردِ عمل کا فقدان شامل ہیں۔ مریض کا پسینہ بہنے لگتا ہے اوروہ قے کرتا ہے ۔
ضروری ہے کہ منشیات کے مضر اثرات سکول نصاب میں پڑھائے جائیں۔ آج کل الیکٹرانک میڈیا بے حد اثر رکھتا ہے ، چنانچہ منشیات کے خلاف اس پر مہم چلائی جائے ۔ ہمیں نوجوانوں کے منشیات استعمال کرنے کی وجوہ کا بھی تدارک کرنا ہوگا۔ کیا یہ سماجی روایات سے بغاوت یا فرار کا نتیجہ ہے یا موجود منافقانہ نظام کا شاخسانہ ؟ یہ نوجوان والدین اور اساتذہ کے آمرانہ رویوں کا شکار ہیں۔ سماجی گھٹن، شفقت اورمثبت افعال کے فقدان کی وجہ سے یہ نوجوان اس اندھیرے کی نذر ہورہے ہیں۔
بدقسمتی سے ان کے مسائل کو سمجھنے اور ان سے شفقت کا اظہار کرنے کے لیے کوئی
تیار نہیں ہے ۔ منشیات کے عادی بدقسمت افرادکو دھتکار کراجتماعی ذمہ داری سے پہلو تہی کی جاتی ہے ۔ ملک اور ادارے چلانے والوں کو احساس کرنا چاہیے کہ نوجوانوں کو رشوت، بدعنوانی اور اقربا پروری کے موجودہ نظام سے نفرت ہے ۔ وہ دولت کی چمک رکھنے والے جابرانہ نظام کا حصہ نہیں بننا چاہتے ۔ چونکہ اُن میں سے اکثر کے پاس کوئی متبادل نہیں ہوتا، اس لیے وہ منشیات کی تاریک دنیا کے وحشت ناک سائے میں پناہ تلاش کرتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *