اجتماعی بے حسی

Muhammad Asif
بےحسی ایک ردِعمل ہے جو ایسےواقعات کے پہ در پہ وقوع پذیر ہونےپر سامنے آتا ہے جو ہمارے احساس سے جُڑےہوں۔  یہ ایک فطری عمل ہے کہ آپ اگر بنیادی زمہ داریوں سے پہلو تہی کریں گےتو یہ ہمارےسامنے کسی اورسانحے کی صورت میں ظہورپذیر ہونا شروع ہوجائیں گی۔  المیہ یہ ہے کہ ہم مجموعی طورپر ہر چیز اور زمہ داری کا شعوررکھنے کے باوجود تجاہلِ عارفانہ سے کام لینے پر بضد ہیں۔
اس کی دوسری شکل یہ بھی ہے کہ ان عوامل پر توجہ دینی شروع کردی جائے تو معاشرے یا فرد کی زمہ داری میں نہیں آتےمگر یہ حساس اور سوچ اس طرح سے اذہان میں پیدا کی جائے کہ گویا معاشرہ اسی زمہ داری کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔
تمہید کا ایک مقصد قاری کو ایک خاص ذہنی کیفیت میں بھی لانا ہوتا ہے جس کے بعد اس کے سامنے لکھاری اپنا مافی الضمیر بیان کرنےاور پیغام پہنچانے میں سہولت محسوس کرتا ہے۔کچھ دن قبل کی ایک خبرنگاہ سے گزری جس میں ایک ماں نے اپنے بچوں کو عید کے کپڑے میسر نہ ہونےپر اپنے بچوں سمیت خودکشی کرلی۔ عید تو گزرگئی مگر کیسے گزری یہ ہمارا سردرد نہیں.
جیسے کہ عرض کیا جب یہ واقعات تسلسل سے ہوں تو معاشرے کی توجہ کی سطح اور شدت وہ نہیں رہتی جو رہنی چاہیے، یہ خبر آئی اور گزرگئی جزوقتی بےچینی اور پشیمانی محسوس کی جاسکتی ہے مگر ایسا ممکن نہیں کہ اس پر رک کر افسوس کیا جاسکے۔
یہ جورویہ ہے یہ کس سوچ کا شاخسانہ ہے؟ ایسے واقعات میں معاشرہ کس حد تک زمہ دارہے؟  میری رائے میں اس کا زمہ دار پہلے قدم پر معاشرہ ہی ہے اور معاشرے کی اس بےحسی کے پیچھے کہیں نہ کہیں مذہب بھی کارفرما ہے۔ جب مذہب کہتاہے کہ وہ مکمل نظامِ حیات ہے تو اس صورت میں معاشرے کے کسی بھی بگاڑ کی صورت میں مذہب کی طرف ضرور نگاہ جائگی۔
گزارش کی تھی کہ بعض اوقات ہماری توجہ غیر ضروری عوامل کی جانب موڑدی جاتی ہے۔
جس سوسائٹی میں افراد صحت، تعلیم، اور بنیادی سہولیات دینے کی بجائے فرد کے لیے مذہبی شعائر کی ادائیگی پر توجہ فوکس کرلیں تواس کا نیتجہ ابتلا ہی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مذہبی پیشواء کسی فرد کے لیے حج عمرے کی زمہ داری لینے پرجلد راضی ہیں مگر کسی ایک انسان کی تعلیم کا زمہ لینے کارواج اور اس کی حوصلہ افزائی قدرے کم ہے۔ دی گئی مثال میں یہی وہ ناسور ہے جو ایک انفرادی عمل یعنی حج اور عمرے کو معاشرے کی زمہ داری بنا کر ہمارے سامنے پیش کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں ہم اپنی اصل زمہ داری کو پسِ پُشت ڈال دیتےہیں۔دوسری طرف عوام میں یہ سوچ کئی صدیوں سے رائج ہوچکی ہے کہ استطاعت نہ ہونے کے باوجود ہم حج عمرے کے لیے توپیسے جمع کرتےہیں لیکن صحت و تعلیم صفائی وغیرہ کے لیے ہماری کوشش کی وہ سطح نہیں ہے۔
کہیں پڑھا تھا کہ ایک بوڑھی عورت غلام اسحاق خان سے ملی اور عرض کی کہ اسے حج پر بھیج دیا جائے وہ اس کی استطاعت نہیں رکھتی مگر خواہش ضرور رکھتی ہے۔ غلام اسحاق خان نے جو جملہ بوڑھی عورت سے کہا وہ توجہ کے قابل ہے۔
آپ نے کہا اماں آپ پر حج فرض نہیں ہے آپ گھر جائیں اور خدا کو یاد کریں۔
ہماری مجموعی حالت ایسی ہی ہے ہم نے ان عوامل کو زمہ داری کا نام دےدیا جو ہمارے نصاب میں نہیں ہیں نتیجہ وہی ابتری اور معاشی پسماندگی نکلتا ہے جو روزبروز بڑھ رہا ہے۔ اہلِ ثروت اور معاشی طور پر مظبوط لوگ بھی ان کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتےہیں لیکن کسی غریب کے گھر کا چولہا ٹھنڈا ہے یا گرم اس طرف دھیان نہیں ہے۔معاشرے میں خودکشی کے بڑھتے واقعات اور وہ بھی خاص کر ماوں اور بچوں کے حوالے سے جن میں وہ بنیادی ضروریات مہیا کرنے سے قاصر ہورہےہیں، ہماری خاص توجہ چاہتےہیں۔ ہماری اصل زمہ داری یہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے چالیس گھروں تک کو ہمسایہ قراردیا ہے اور یہ ہمسائے ہماری ایسی ہی توجہ کے حقدارہیں کہ آیا کہیں وہ بھوکےتونہیں سورہے آیا کہیں ان کو ہماری ضرورت تو نہیں ہے۔
معاشرے تعاون اور ایک دوسرے کی مدد کے جذبے سے تعمیر ہوتے ہیں۔ مادہ پرستی کی اس دوڑمیں یہ خیال رہے کہ آخر کارآدمی ہی آدمی کا دارو ہے۔ جہاں تک ہوسکے ایک دوسرے کا خیال رکھیے، "گھروں کو مکان" ہونے سے بچائیے۔ غریب اور نادار لوگ ہماری زمہ داری ہیں، کل کو خدا کی طرف سے ان کے متعلق ہم سے پوچھا جائیگا۔
ایک واقعہ تحریر کرکے اجازت چاہوں گا جوبڑے بھائی کےساتھ پیش آیا.
محلے میں ایک خاندان سے قریبی تعلقات ہیں آنا جانابھی تھا۔ کچھ عرصہ قبل اچانک خبر ملی کہ ان کا جواں سال بیٹا جو کچھ دن قبل ایک پیارے سے بیٹے کا باپ بنا ہے، انتقال کرگیا ہے۔ خبر نے ایک لمحے کو افسوس زدہ کردیا.وہاں پہنچے تو ایک اور خبر ہمارے معاشرے کے سفاک چہرے پر سے ایک اور نقاب اتارنے کو تیار تھی.
فوت ہوجانےوالے کے بڑےبھائی نےکس کرب تکلیف اور اپنی انا وخودداری کو مار کر  قریب آکربس اتنا کہا۔
گھر میں چھوٹے لاڈلے بھائی کی میت پڑی ہے اور اس کی جیب میں ساری کل کمائی بس پانچ سو روپے ہے، ""اگر یہ آج نہ جاتا تو کتنے ہزار بچ جاتے""۔ یہ الفاظ نہ تھے ..مگر کیاتھے میں نہیں جان سکا اور حیرت سے ان محلے داروں عزیز اقربا کو دیکھنے لگا جو ٹینٹ پر بیٹھے ایک دوسرے سے باتوں میں مصروف تھے، حیران ہوا یہ کیسے ممکن ہے کہ اس قدر بیگانگی ہوجائے؟ کہ قریبی تعلق داروں کو بھی علم نہ ہو کہ کسی پر کیسی قیامت گزرتی جارہی ہے؟ مرنے کےبعد بھی  زمین کےاندر جانے پر بھی انسان دوسروں پر اتنا ہی انحصار کرنےپرمجبور ہے.بھاگم بھاگ گھر جاکر جتنے پیسے جمع ہوسکے جا کر شرمندہ اور نیچی نگاہوں کےساتھ کفن دفن کا انتظام کیا گیا.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *