مرے وطن کے روشن خیالو!

سجاد میرsajjad mir

چلئے ہم بھی یہ رسم ادا کئے لیتے ہیں۔ رسم دنیا بھی ہے، موقع بھی ہے، دستور بھی ہے۔ ہم ہر سال اس دن کو بہت اہتمام سے مناتے ہیں۔ کشمیر سے یکجہتی کا اعلان کرتے ہیں۔ اہتمام یہ کرتے ہیں کہ میرے جیسے لکھنے والے ایک آدھ مضمون لکھ کر پر سکون ہوجاتے ہیں کہ چلو فرض ادا ہوا۔ پھر سارا سال مطمئن ہوکر بیٹھ جاتے ہیں۔ یا درمیان میں ایسا کوئی اور موقع آیا تو ایک آدھ مضمون اور جھاڑ دیا، اللہ اللہ خیر صلا۔
کیا اس سے کشمیر آزاد ہوجائے گا۔ یوم اقبال کے حوالے سے ضمیر جعفری نے کیا دلچسپ بات کی تھی کہ ہم دن مناتے ہیں۔ باقی سارا سال جو کرتے ہیں قوالی کرتے ہیں۔ کشمیر کے حوالے سے توقوالی بھی نہیں ہوتی ، حتی کہ جگالی بھی نہیں ہوتی۔جب نوابزادہ نصر اللہ کو کشمیر کمیٹی کا سربراہ بنایا گیا، تو وہ دورے پر نکل پڑے۔ پہلا پڑائو ترکی میں ڈالا کہ بہت ہی پیارا اور قابل اعتماد دوست ہے۔ غالباً ان کے وزیر خارجہ سے ملے۔ انہوں نے بڑی آئو بھگت کی۔ پھر ذرا خفت آمیز محبت سے کہا کہ آپ آئے ہیں تو ہم دوبارہ فائلیں نکالتے ہیں، وگرنہ ہم بھی بھول چکے تھے کہ یہ بھی کوئی مسئلہ ہے۔ سچی بات ہے، اسے از سر نو دیکھنا پڑے گا، دوبارہ تیاری کرنا پڑے گی۔ ہم نے کشمیر کو نظر انداز کئے رکھا۔ اسے دوسری بحثوں میں الجھا دیا۔ ہمارے دیکھتے دیکھتے ہی کشمیر کی جنگ آزادی کو دہشت گردی کا نام دیا جانے لگا۔ یا خدایا، یہ حریت پسند یکایک دہشت گرد کیسے ہوگئے۔ ہمیں یہ بتایا گیا کہ اب دنیا دوسرے ممالک میں کسی قسم کی دخل اندازی برداشت نہیں کرتی۔ ہم پوچھتے ہی رہ گئے، پھر یہ ریاستی دہشت گردی کو کیوں برداشت کرتی ہے۔ دنیا کے اصول حالات کے ساتھ ساتھ بدل جاتے ہیں۔ کتنا عرصہ مائوزے تنگ، یاسر عرفات، نیلسن منڈیلا دہشت گردی کی فہرست میں رہے، پھر ان کا پورا ’’پروفائل‘‘ ہی بدل ڈالا گیا۔ جی، ان کے بارے میں ’’بیانیہ‘‘ ہی مختلف ہوگیا۔
ایک بات مگر اب بھی نہیں ہوئی کہ کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے۔ اسے دنیا کو تسلیم کرنا پڑ رہا ہے۔ درمیان میں کوشش ہوئی تھی کہ ایسے نقشے چھاپے جائیں جس میں کشمیر کو بھارت کا حصہ دکھایا جائے، مگر یہ بات بھی چل نہ سکی۔ فی الحال تو ’’اصولی‘‘ طور پر ایک متنازع مسئلہ ہے۔ ہاں، اب دنیا یہ کہتی ہے کہ اسے عالمی مسئلہ نہ بنائو، آپس میں طے کرلو۔ مذاکرات سے کوئی راستہ نکالو۔ دوسری طرف جب بھارت سے بات چیت کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ کہتا ہے یہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے۔ یہ چدم پدم تو کئی بار کہہ چکے ہیں کہ ہندوستان کی کئی کلومیٹر سرحد افغانستان سے لگتی ہے۔ اس کا دوسرا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کشمیر ہمارا حصہ ہے اور اس کا اتنا حصہ افغانستان سے متصل ہے۔
ایسی نکتہ آفرینیوں سے کشمیر کا مسئلہ حل ہوگا نہ بات آگے بڑھے گی۔ آگرہ مذاکرات کے موقع پر کسی اخبار نویس نے مجھ سے پوچھ لیا کہ ’’کراس بارڈر دہشت گردی‘‘ یعنی سرحد پار سے دہشت گردی پر آپ کیا کہیں گے۔ عرض کیا، آپ کا مطلب؟ جواب آیا کہ یہ جو کشمیر میں سرحد پار سے دہشت گردی ہو رہی ہے۔ جواب دیا، کشمیر میں کوئی سرحد نہیں ہے، وہاں تو لائن آف کنٹرول ہے۔ کشمیری اس کے آر پار آتے جاتے ہیں تو انہیں کون روک سکتا ہے۔ ظاہر ہے، میں نے سوال پوچھنے والے کو لاجواب تو کر دیا مگر اس سے کشمیر کا مسئلہ تو حل نہیں ہوتا، بلکہ بنیادی بات کا جواب ہی نہیں ملتا۔ مجھے معلوم تھا کہ بھارتی کیا کہنا چاہتے تھے۔ زمینی حقائق بھی واضح تھے۔ سفارتی تقاضے بات کو الجھا کر، ڈھنگ سے بات کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں، مگر اس سے کشمیریوں کے دکھوں کا مداوا نہیں ہوتا۔ ہم برسہا برس سے بے معنی مذاکرات بھی کررہے ہیں۔ مجھے یاد ہے، ان دنوں دلی میں پاکستانی سفارت خانے میں حریت کے لیڈروں سے ہماری ہی نہیں، پاکستانی صدر کی ملاقات بھی ہوتی تھی۔ کوئی قیامت نہیں ٹوٹی تھی۔ اب کیا ہوا ہے کہ بھارت نے صرف ہائی کمشنرسے حریت رہنمائوں کی ملاقات کے بعد مذاکرات کا دروازہ کھلنے سے پہلے بند کردیا ہے۔ کر لو ، کیا کرو گے۔ کیا یہ حریت کے لیڈر، کیا یہ کشمیری رہنما بھارت کی نظر میں بھارتی نہیں ہیں۔ چلو ہم تو نہیں مانتے کیا بھارت بھی نہیں مانتا۔ کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ کہنے والا کیا کشمیریوں کی کسی سے بھی ملاقات کو سفارتی آداب کے منافی سمجھتا ہے۔ کہہ دو نا، یہ لوگ بھارت کے دشمن ہیں۔ تم ان سے رابطے رکھ رہے ہو۔
سچی بات ہے ہم نے کشمیر کو منافقت کی بھینٹ چڑھا رکھا ہے۔ ہم بھی کیا جھوٹ بولتے رہتے ہیں بھارت سے تعلقات معمول پر رکھنے کی خاطر اور امریکہ کو خوش کرنے کے لئے ہم کشمیر پر غلط بیانی کرتے رہتے ہیں۔ ہمیں بنیادی طور پر اس مؤقف سے انحراف نہیں کرنا چاہئے کہ کشمیر کے لوگوں کو حق خود اختیاری ملنا چاہئے اور اس مسئلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل ہونا چاہئے۔ بلاشبہ یہ ہماری ذمہ داری ہے۔ اس لئے کہ یہ برصغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ مجھے معلوم ہے، اس بات سے بہت سے لوگ چڑتے ہیں۔ طرح طرح کے لالچ دئیے جاتے ہیں۔ نئے نئے راستے سجھائے جاتے ہیں۔ ضرور تجارت کیجئے، ضرور سفری سہولتیں پیدا کیجئے، مگر اپنا مؤقف تو نہ بدلئے۔ بیسیوں مثالیں دی جاسکتی ہیں کہ دنیا کے ممالک کس طرح ایسی صورت حال کا مقابلہ کرتے ہیں۔
بھارت بلاشبہ اسرائیلی استادوں کے نقش قدم پر ہے۔ ہم ہنود و یہود کا ذکر ایک سانس میں کرتے ہیں، تو بہت سے لوگوں کا سانس رک جاتا ہے اور ان کا سینہ دھونکنی کی طرح جلنے لگتا ہے۔بھارت اسرائیل سے کس قدر متاثر ہے اب وہ غیر کشمیریوں کو کشمیر کی شہریت دے کر وہاں بسنے والوں کی ہیت بدلنا چاہتا ہے، ڈیمو گرافی تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ یہ پاکستان ہی کی تشویش نہیں، میری آج ہی صبح سری نگر میں ممتاز کشمیری رہنما یٰسین ملک سے بات ہوئی، وہ بھی اس پر اپنی تشویش کا اظہار کررہے تھے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ پاکستانی دانشور اپنے مخصوص مائنڈ سیٹ کے ساتھ شروع ہوجائیں گے اور ثابت کرنے لگیں کہ یہ سب جمہوری تقاضوں کے مطابق ہے۔ یہ برز جمہر کچھ بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ تو بابری مسجد کے سانحے کی بھی حمایت کردیتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ ہم تنگ نظری کا ثبوت دے رہے ہیں اور بھارت میں تو ہر طرف روشن خیالی ہی روشن خیالی ہے۔
میرے ملک کے روشن خیالو! تم دنیا بھر میں انسانیت پر ظلم و ستم پر ماتم کا ڈھونگ رچاتے ہو، تمہیں یہ سامنے کے دکھی لوگ نظر نہیں آتے، ایک قوم یا کسی فرد کا یہ محسوس کرنا کہ اسے جبراً کسی نے اپنے تسلط میں رکھ چھوڑا، ایک بہت بڑا عذاب ہے۔ کشمیر کے لوگ یقینا اس کرب سے گزر رہے ہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ہماری بات کو سچ سمجھ کر تسلیم کرلو، ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ ان مظلوموں سے پوچھ لو۔ آخر اس میں کون سی ایسی غلط بات ہے۔ کوئی ہے جو اس کا جواب دے سکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *