justice delayed is justice denied

shakeel-qamar

پاکستان میں انصاف مہیا کرنے کے نام پر جو بہت بڑی نا انصافی جاری و ساری ہے اس نے لاکھوں لوگوں کو دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر
مجبور کر رکھا ہے گذشتہ نصف صدی سے زیادہ عرصہ میں انصاف مہیا کرنے کے نام پر جو بھی قوانین بنائے گئے اور اُنہیں نافذالعمل کیا گیاوہ سب بے سود ثابت ہوئے ہیں اَب ایک مرتبہ پھر وہی بحث شروع ہو چکی ہے کہ انصاف مہیا کرنے کے لئے نئی قانون سازی کی جائے
ایسی بحثیں پہلے بھی متعدد مرتبہ جاری رہی ہیں اور آخر کار وہی ہوتا ہے کہ نئے قوانیں کے نام پر یا تو وقت ضائع کیا جاتا ہے یا پھر عوام کو کھلونے دے کر بہلانے کے مترادف ہلکی پھلکی اصلاحات نافذ کردی جاتی ہیں جن کا دراصل عوام کو آج تک کوئی خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں ہو سکا اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان کے کروڑوں عوام کو انصاف مہیا کرنے کے نام پر انتہائی ناانصافی کے معاملات درپیش
ہیں دوسری طرف ایسا لگتا ہے کہ عدلیہ کے نظام کو مفلوج کرنے کے لئے ایک منظم سازش کی جارہی ہے دیکھنے میں ایسے ایسے واقعات
سامنے آرہے ہیں کہ جس کا سارے کا سارا نقصان عوام کو برداشت کرنا پڑرہا ہے مثال کے طور پر مختلف اضلاع میں ہفتے کے صرف ایک یا دو دن عدالتیں کام کرتی ہیں باقی دنوں میں یا تو وکلاء کی ہڑتال ہوتی ہے یا پھر عدالتی عملہ اور جج صاحبان عدالتوں سے غائب ہوتے ہیں
ایسے میں عوام کو اُن کے مقدمات کے لئے لمبی لمبی تاریخیں دے کر ٹال دیا جاتا ہے ملک بھر میں رائج عدالتی نظام اس قدر ناکارہ ہو چکا ہےکہ ایک معمولی سے مقدمے کے لئے برس ہا برس عدالتوں کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں صرف یہی نہیں عام آدمی کو انصاف حاصل کرنے کی تگ و دو میں اپنی معاشی اور معاشرتی زندگی کو بھی داؤ پر لگانا پڑجاتا ہے اور پھر بھی عام آدمی انصاف حاصل نہیں کر پاتا ،انگریزی میں بہت مشہور ہے کہ انصاف میں تاخیر انصاف سے انحراف کے مترادف سمجھی جاتی ہے justice delayed is justice denied
عدالتی نظام میں بنیادی خامیوں کے ساتھ ساتھ عوام کو سستے اور فوری انصاف کی عدم دستیابی کی وجوہات میں کرپشن کا ایک بہت بڑا کردار ہے کرپشن مختلف صورتوں میں انصاف کی فراہمی کے راستے میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے رشوت ،سفارش ،اور اقرباء پروری کے ساتھساتھ کرپشن کی اور بھی بہت سی صورتیں ہیں جن کے خاتمے کے بغیر عام آدمی کو سستا اور فوری انصاف دستیاب ہونا ناممکن ہے ملک میںحکومت اور عدلیہ کاآپس میں عدم تعاون بھی عدالتی نظام کی خرابی کی ایک بہت بڑی وجہ ہے اور اُس کے ساتھ ساتھ عدالتی عملے اور جج صاحبان کے احتساب کے کسی غیر جانب دارانہ طریقہء کارکی عدم موجودگی بھی عام آدمی کو انصاف کی دستیابی کے راستے میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے ،موجودہ عدالتی نظام کو تبدیل کرنے یا کسی لمبی چوڑی بحث میں اُلجھنے کی بجائے اگر فوری طور پر ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے عدالتوں کو پابند کر دیا جائے کہ وہ چند ماہ کی مخصوص مدت میں مقدمات کو نمٹائیں تو اس سے عوام کا جلد انصاف مہیا کرنے کا دیرینہ مطالبہ بھی پورا ہو جائے گااور کرپٹ عناصر کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے عدالتوں اور عدالتی عملے کو ناجائز طور پر استعمال کرنے کی راہ بھی بند ہو جائے گی ۔عوام کو سستا انصاف مہیا کرنے کے راستے میں ایک اور بہت بڑی رکاوٹ ،وکلاء کی فیسوں کا طریقہء کار ہے اگر ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے تمام وکلاء صاحبان کو پابند کر دیا جائے کہ وہ ہر تاریخ پر اپنے سائل سے ایک مخصوص فیس وصول کر سکتے ہیں اور دوسری طرف ہر مقدمے کو چند ماہ کی مخصوص مدت میں نمٹادیا جائے تو اس سے سائلان پر بھی زیادہ مالی بوجھ نہیں پڑ سکے گا اور وکلاء صاحبان کو بھی باقاعدگی کے ساتھ معقول فیسیں ملتی رہیں گی ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *