لاہور کی فلم انڈسٹری بچائیے

attaullah ali
لاہور کی فلم انڈسٹری  بند ہونےسے سینکڑوں لوگ بیروزگار ہوے کچھ کی فوتیدگی کا اعلان ہو گیا  کچھ کا آہستہ آہستہ  ہو رہا ہے کچھ نے کام بدل لیا  ۔ کچھ ایسے بھی تھے جو ضد لگا کر بیٹھ گے  ۔ ۔ ۔ ۔ کوششوں  میں لگے رہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس وقت ڈرامہ بن رہا تھا ۔ ۔ ۔ ۔دس بیس اس فیلڈ ۔ میں آگئے  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کوششیں کرتے رہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اکثریت   ۔ ۔ یہی کہتی ۔ رہی ۔ ۔ ۔ ۔ جلد ہی کام ۔ لاہور میں واپس اے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آہستہ  آہستہ  یہ خوش فہمی بھی ۔ زائل ہو تی  جا رہی ۔ ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔بہت سے دوست  اس خوش فہمی میں اب ۔ بھی  مبتلا ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔بڑا زور دے کر کہتے ہیں ۔ ۔ کام واپس ۔ آئے گا ۔ ۔ ۔ جب ان سے پوچھا جائے  ۔ کہ ۔ کیسے اور کیوں واپس آئے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تووہ اپنی اس خواہش کی کسی مضبوط  دلیل سے وضاحت نہیں کر سکتے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پتہ نہیں یہ مثال بر محل ہے کہ۔نہیں ۔ مگر  اب تو لاہور انٹر ٹینمنٹ انڈسٹری  کے کار کن۔ مجھے شامی مہاجرین لگنے لگے ہیں ۔ ۔ ۔ جو اندرونی تباہی کا شکار بھی ہیں ۔ اور انھیں باہر بھی قبول نہیں کیا  جا رہا  ۔ لاہور کی انڈسٹری  کی تباہی ایک تھذیب اور کلچر کی تباہی ہے ۔ آنے والا مورخ جب یہ   المیہ لکھے گا تب  حقایق سامنے آئیں گے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سنا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ 60 کی دہائی میں کراچی کی فلم۔انڈسٹری  تباہ ہوئی تو وہاں کے لوگوں نے لاہور کا رخ کر لیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انھیں لوگوں نے لاہور کی انڈسٹری   کو۔بام عروج  تک ۔ پنچایا  اور انڈین فلموں کو  تف ٹائم دیا ۔ان دنوں۔ان  نمایش کی اجازت تھی ۔ ۔ ۔ 65 کی جنگ کے بعد پابندی لگا دی گی  یہاں ایک اور بات  ۔ ۔ ہم اسے بیشک پسند نا کریں ۔ مگر حقایق  بتاتے ہیں کہ جب جب انڈین موویز یہاں  چلیں  ۔ ۔ ہماری انڈسٹری کو بھی بہت سپورٹ ملی ۔ اب لاہور میں یہ کہا جاتا ہے کہ کراچی کی فلم ڈرامہ ہے انھیں فلم بنانی نہیں آتی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے یاد ہے جب کراچی میں ڈرامہ  بننا شرو ع ہوا تھا  تب  بھی ایسی باتیں ۔ سننے کو ملتی تھیں اس وقت لاہور میں ڈرامہ عروج پر تھا  ۔ ۔ ۔ ۔ جو وقت کے ساتھ ساتھ زوال کا شکار ہوتا چلا گیا اور کراچی ڈرامہ انڈسٹرآئی اور سینہ تان کر کھڑی ہو گئی اسی طرح  20 30 فلمیں اور بننے کے بعد کراچی فلم انڈسٹری انڈین انڈسٹری کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کےقابل ہو جائے گی  ۔ ۔ اب ۔ ۔لاہور کی انڈسٹری کے سامنے ایک ہی راستہ بچتا ہے کہ وہ ادھر ادھر دکھنے کے بجائے  بدلتے دور کے تقاضوں کو۔سمجھے  ۔ ۔ اور ۔ سب سے پہلے خود کو سلطان را ہی کے دور سے نکالے  اور یہ تسلیم کر لے کہ راہی صاحب انتقال کر گئے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔یہی انڈسٹری انڈین پنجابی فلموں کا مذاق بھی اڑاتی تھی  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب دیکھیں   لیں وہ کہان ہے  ۔ آنکھیں
کھول کر آج کے دور کی پنجابی فیمین بنائے  تو یہاں کی ادستری بھی انڈین پنجابی انڈسٹری کی طرح عالمیپہچان  بنا  سکتی ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بس ذرا خود کو بدلنے کی ضرورت ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پورنی وگوں  چولون   بد معاش ماحول سے باہر نکل کر آج کے دوڑ کی کہانیوں پر کام کرنا ہو گا  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سلطان رہی  ہیر رانجھا اور تھیٹر کے میراثی اب پنجابی فلم  نہیں چلا سکتے اسے نئے خون کی ضرورت ہے ۔ ۔ اگر یہنہ کیا  گیا   تو  ۔ فاقے   یونہی ناچتے  رہیں  گے اور موت بھی یونہی رقص کرتی رہے گی  ۔ ۔ ۔ !!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *