معروف ڈائریکٹر اور رائٹر شعیب منصور سے دلچسپ گفتگو

ناوید رشید

انٹرٹینمنٹ کے شعبہ کے بڑے اور نامور شخصیت شعیب منصور نے آج تک پاکستان کے سامعین کو نا قابل فراموش سامان تفریح مہیا کرنے کا اعزاز حاصل کر رکھا ہے ۔ ان کا ڈرامہ سیریل 'ان کہی'، شہرہ آفاق مزاحیہخاکوں کے پروگرام 'ففٹی ففٹی' اور 'سلور جوبلی' نے ملک بھر کے عوام کو ایک اچھی تفریح سے لطف اندوز ہونے کا موقع دیا۔ شعیب منصور نے ان تمام فلموں اور ڈراموں سے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ باقی ہدایتکاروں سے بہت مختلف ہیں۔ پچھلی کچھ دہائیوں میں منصور نے دو ڈرامہ سیریل پاکستانی فوج کے بارے میں بھی ڈائریکٹ کیے ہیں جن میں سے ایک کا نام 'سنہرے دن' تھا جو 1990 میں ٹی وی پر آن ائیر ہوا۔اب ان کا تازہ ترین پراجیکٹ 'الفا براوو چارلی' ہے جس کی ڈائریکشن کے علاوہ سکرپٹ لکھنے اور کیمرہ کاکام بھی انہوں نے خود کیا ہے۔ حال ہی میں انہوں نے ہیرالڈ سے بات کرتے ہوئے اپنی نئی فلم الفا براوو چارلی کی میکنگ پر گفتگو کرتے ہوئے چند ایسی خصوصیات پر روشنی ڈالی جو انہیں دوسرے ڈائریکٹر اور پروڈیوسر سے ممتاز کرتی ہیں۔ ذیل میں ان کی گفتگو قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔


Photo by Ather Shahzad

ناوید راشد: اب تک آپ نے فوجی کی زندگی پر دو ڈرامے تخلیق کیے ہیں۔ کیا اس کی کوئی خاص وجہ ہے کہ آپ اس تھیم سے زیادہ جڑنے لگے ہیں؟

شعیب : یہ اتفاق نہیں ہے۔ جب 1990 میں سنہرے دن ڈرامہ آیا تو عوام نے اسے بہت پسند کیا۔ اس لیے آئی ایس پی آر نے مجھے ایسا ہی ایک اور ڈرامہ پیش کرنے کا مشورہ دیا۔

راشد: آپ کو الفا براوو چارلی کا آئیڈیا کہاں سے ملا؟

منصور: یہ سنہرے دن ڈرامہ کی ایک سیکوئیل ہے۔ پاکستان ملٹری اکیڈمی کے جن کیڈٹس نے اس ڈرامہ میں شرکت کی تھی اب وہ کیپٹن اور لیفٹیننٹ بن چکے ہیں۔ ان کی تربیت مکمل ہو چکی ہے اور اب وہ پاکستان آرمی کا باقاعدہ حصہ ہیں۔ میں پہلے یہ ڈرامہ ایک یونٹ سے تعلق رکھنے والے فوجیوں پر بنانا چاہتا تھا لیکن جب میں سکرپٹ لکھ رہا تھا تو مجھے خیال آیا کہ اگر اس کو ایک سے زیادہ یونٹس تک وسیع کر دیا جائے تو یہ زیادہ دلچسپ ہو جائے گا۔ چونکہ پاکستانی فوجیوں کا اکثر اوورسیز بھیجا جاتا ہے اس لیے میں نے کچھ کرداروں کو غیر ملکی سیٹنگ میں بھی شامل کر لیا۔ اس لیے 'الفا براوو چارلی' کے ایک کیپٹن کو بوسنیا بھی بھیجا گیا ہے۔ پہلے ہم نے صومالیہ میں شوٹنگ کا فیصلہ کیا لیکن چونکہ پاکستانی فوجی وہاں سے پہلے ہی لوٹ آئے تھے اس لیے بوسنیا کا انتخاب کرنا پڑا۔ سیریل کا ابتدائی حصہ بوسنیا میں شوٹ کیا گیا۔ اس وقت ابھی سکرپٹ بھی مکمل نہیں ہوا تھا۔ میں نے باقی حصہ واپس پاکستان آ کر لکھا۔ اس سیریل میں بوسنیا کی جنگ کے ایسے حقائق پیش کیے گئے جن سے زیادہ تر لوگ واقف نہیں ہیں۔ جنگ کی اصل وجہ بھی بیان کی گئی ہے ۔

راشد: آرمی پر ڈرامہ لکھنا اور اسے ڈائریکٹ کرنا ایک حساس معاملہ ہے۔ آپ نے اس پر کیسے کام کیا؟

منصور: میں نے سیریل پر کام 1995 میں شروع کیا اور 1997 میں اس کا اختتام ہوا۔ پہلے 9 ماہ کا عرصہ تحقیق میں گزارا۔ اس دوران میرا قیام آرمی یونٹس میں رہا وہاں میں نے لاہوری فوجیوں کے ساتھ کئی شہریوں کی یونٹس کی سیر کی اور ان کی زندگی کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ میں سیریل میں حقیقت کا رنگ شامل کرنا چاہتا تھا۔ تاکہ جب کوئی ڈرامہ دیکھے تو اسے ایسا نہ لگے کہ یہ کسی سویلین نے لکھا ہے۔ میں نے فوجیوں کی زبان، نظام زندگی اور دوسری صورتحال کا بغور جائزہ لیا ہے۔

راشد: سنہرے دن کی طرح الفا براوو چارلی کو بھی آئی ایس پی آر نے سپانسر کیا ہے ۔ کیا آپ کو ان کے ساتھ کام کرنے میں مسائل پیش نہیں آتے؟

منصور: سنہرے دن ڈرامہ کے بعد سے میری آئی ایس پی آر کے ساتھ اچھی دوستی رہی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ آرمی کے لوگ زیادہ منظم ہوتے ہیں اس لیے ان کے ساتھ کام کرنا نسبتا آسان ہوتا ہے۔ اگر کوئی نیا شخص یہ سیریل بنا رہا ہوتا تو شاید اسے مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا تھا۔ لیکن چونکہ میں آئی ایس پی آر کے ساتھ کام کر چکا ہوں اس لیے مجھے مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ میں اپنے کام کے ساتھ مطمئن ہوں۔

راشد : جہاں تک ڈرامہ میں کام کرنے والے افسران کا تعلق ہے، آپ نے سنہرے دن کے ڈرامہ والی ٹیم کے ساتھ ہی کام کیا لیکن سلیم شیخ کو شامل نہیں کیا۔ اس کی کوئی خاص وجہ؟

منصور: میں فریش ٹیلنٹ کے ساتھ کام کرنا پسند کرتا ہوں۔ سلیم سنہرے دن میں نئے تھے لیکن وقت کے ساتھ وہ شہرت کی بلندیوں پر پہنچ چکے ہیں اور بہت سی فلموں میں کام کر چکے ہیں۔ اس لیے میں نے انہیں شامل نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے علاوہ کوئی خاص وجہ نہیں تھی۔ میرے ان سے بہت اچھے تعلقات ہیں۔

Shoaib Mansoor with Junaid Jamshed | Dawn.com

راشد: الفا براوو چارلی کے تین بڑے کردار ایسے لوگوں کو دیے گئے ہیں جو پروفیشنل طور پر ایکٹر نہیں ہیں اور نہ ہی سویلین ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے؟

منصور: سچ یہ ہے کہ ان تین کرداروں میں سے ایک ایسا ہے جو آرمی افسر نہیں ہے۔ وجہ یہ ہے کہ یہ ڈرامہ سنہرے دن کا ہی تسلسل ہے۔ اس لیے میں نے وہی ایکٹر کاسٹ کیے ہیں۔ اس کے ساتھ چونکہ میں ان کے ساتھ پہلے سے ہی کام کر چکا ہوں اور ان کی قابلیت سے واقف ہوں اس لیے انہیں کو منتخب کرنا بہتر سمجھا۔ اگر میں کسی پروفیشنل ایکٹر کو چنتا تو اسے بھی کوچنگ کی ضرورت ہوتی۔ مجھے اندازہ تھا کہ آرمی افسران یہ کردار زیادہ بہتر طریقے سے کر پائیں گے۔ جہاں تک سپورٹنگ کاسٹ کا تعلق ہے، جب میں لیڈ رول کے لیے کسی نئے چہرے کا انتخاب کروں گا تو یہ دیکھنا لازمی ہو گا کہ ڈرامہ پرانا نہ لگنے لگے۔ جو بھی ہو، میں اپنے ڈراموں کے لیے شہریت یافتہ کردار ڈھونڈنے کی بجائے نئے چہروں کو سٹار بنانے کو ترجیح دیتا ہوں۔ یہ بات لالچی یا مغرور شخص نہیں ہوں۔ بس مجھے یہ اچھا لگتا ہے کہ نئے چہروں کو سامنے لاوں۔ میں جب تک کام کروں گا ، نئے چہروں کے ساتھ کام کروں گا۔ فلم سٹار مجھے متاثر نہیں کرتے۔

راشد: آرمی افسران کو ایکٹنگ میں مشکلات پیش نہیں آئیں؟

منصور: آرمی افسران کی ایکٹنگ پر کام آسان بھی تھا اور مشکل بھی۔ آسان اس لیے کہ وہ اصلا ایکٹنگ نہیں کر رہے تھے بلکہ وہی کر رہے تھے جو ان کا معمول کا کام ہے۔ اس طرح کے کام کے لیے اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ اعتماد آرمی افسران میں بدرجہ اتم موجودہوتا ہے۔ وہ کیمرہ کے سامنے پر اعتماد تھے اس لیے ان کے ساتھ کام آسان تھا۔

کچھ جوانوں کے ساتھ کام کرنا مشکل اس لیے تھا کہ انہوں نے کیمرہ پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ پہلے چند دن تو ضائع ہوئے کیونک جوان سیدھے کیمرہ کے لینز پر دیکھنے لگتے تھے۔ انہیں یہ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ ایکٹر کو کیمرہ کی طرف نہیں دیکھنا ہوتا۔ بہت سے مناظر کی شوٹنگ دوبارہ کرنی پڑی۔ سیاچن میں خاص طور پر زیادہ مشکلات پیش آئیں۔ چونکہ جوان تعلیم یافتہ نہیں ہوتے اس لیے وہ سکرپٹ کو پڑھ نہیں پا رہے تھے۔ اس لیے انہیں لائنیں یاد کروانا پڑیں۔ کئی بار ہر جملے کی الگ الگ شوٹنگ کرنی پڑی۔ سیریل دیکھتے وقت شاید اس چیز کا اندازہ نہ ہو جس کی وجہ ایڈیٹنگ ہے۔ لیکن جب میں نئے لوگوں کے ساتھ کام کرتا ہوں تو میں اس طرح کی مشکلات کے لیے ذہنی طور پر تیار رہتا ہوں۔

Some members of the core Fifty-Fifty team with Shoaib Mansoor in 1979 | Dawn.com

راشد: منصوبہ کا سب سے مشکل پہلو کونسا تھا ؟

منصور: لوگ شاید سمجھتے ہوں کہ بوسنیا میں شوٹنگ مشکل کام ہو گا کیونکہ وہاں جنگ جاری تھی یا بھی سیاچن میں سب سے زیادہ مشکل موسم کی خرابی کی وجہ سے پیش آئی ہو گی۔ لیکن سچ یہ ہے کہ مجھے کہیں بھی کوئی مشکلات پیش نہیں آئیں کیو نکہ جب میں کام شروع کر دیتا ہوں تو کوئی رکاوٹ مجھے پریشان نہیں کرتی۔ جو تھوڑی پریشانی مجھے اٹھانی پڑی وہ جوانوں کے ساتھ کام میں پیش آئی جو میں پہلے بتا چکا ہوں۔ مجھے اپنی ریکارڈنگ یونٹ کو بھی محدود رکھنا پڑتا تھا اس لیے میں نے کیمرہ کا کام بھی سکرپٹ اور ڈائریکٹنگ کیے ساتھ خود ہی کیا۔ کئی جگہوں پر میرے ساتھ صرف ایک ساتھی ہوتا تھا جو سامان اٹھانے میں مدد کرتا تھا۔ کیمرہ کا کچھ کام کسی اور نے بھی کیا لیکن بوسنیا اور سیاچن کے زیادہ تر مناظر میں نے خود فلمائے اور نتائج بہت اچھے رہے۔ چونکہ میں پر اعتماد تھا کہ کیمرہ کے ساتھ میں ٹھیک کام کر پاوں گا اس لیے میں نے باقی مناظر میں بھی کیمرہ کا کام اپنے ذمہ لے لیا۔

راشد : آپ کو الفا براوو چارلی کا کیسا فیڈبیک مل رہا ہے؟

منصور: میں پرنٹ میڈیا سے فیڈ بیک حاصل کرتا ہوں کیونکہ میں تنہائی کی زندگی جی رہا ہوں۔ میں زیادہ تر وقت اپنے گھر پر گزارتا ہوں اور میری سماجی زندگی بہت محدود ہے۔ کئی بار میں ہفتوں گھر سے نہیں نکلتا۔ اس لیے مجھے عوامی رائے کا صحیح علم نہیں ہے۔ صرف انہی پریس شو سے مجھے معلوم ہوتا ہے جو میں سیریل کے لیے اٹینڈ کرتا ہوں۔ پی ٹی وی پر پیش کیے جانے سے قبل کچھ جرنیلوں نے اس ڈرامہ کو سینسر بورڈ کی حیثیت سے دیکھ کر منظور کیا اور پھر آرمی چیف نے اسے دیکھا اور منظوری دی۔ ان کا رد عمل بہت ہی مثبت اور حوصلہ افزا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ میں اپنے ڈراموں پر عوامی رائے کا انتطار نہیں کرتا۔ ایک ڈائریکٹر کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کر کیا رہا ہے۔ اس کا ٹارگٹ کون سی کلاس کے لوگ ہیں، عوام کےلیے اس میں دلچسپی کی کیا چیز ہے اور تھیم کو کیسے ہینڈل کرنا ہے۔ میں اپنے سامعین اور ناظرین سے پوری طرح واقف تھا۔

الفا براوو چارلی سیریز غیر تعلیم یافتہ طبقہ کے لیے نہیں ہے۔حقیقت یہ ہے کہ شاید غیر تعلیم یافتہ لوگ اس سیریل کو سمجھ ہی نہ پائیں کیونکہ بہت سے مناظر جو بوسنیا میں فلمائے گئے ہیں و ہ انگریزی میں ہیں۔ لیکن میں بوسنیا کے لوگوں کو اردو بولنے پر مجبور نہیں کر سکتا تھا اور ان کی آواز کی ڈبنگ پورے ایفیکٹ کو متاثر کر سکتی تھی۔ اس سیکشن کے ساتھ اردو ترجمہ پیش کیا گیا ہے لیکن اس کو پڑھنے کےلیے بھی تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے۔

اگرچہ کوئی بھی پسندیدہ چیز پروڈیوس کرنا بہت اہم ہوتا ہے لیکن کبھی کبھار کسی خاص کلاس پر بھی پروگرام ترتیب کرنا ضروری ہوتا ہے۔ میں نے یہ سیریل اسی چیز کو مد نظر رکھ کر بنائی ہے۔


courtesy:http://herald.dawn.com/news/1153795/i-dont-like-to-hire-stars-i-make-stars-shoaib-mansoor

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *