’’مستقبل کیلئے ہمارا بڑا عہد‘‘۔۔۔۔۔گیٹس کا سالانہ خط2015ء....( قسط نمبر 10)

بل اور ملنڈا گیٹسbilmalinda2

وہ کمپنیاں جو موبائل بینکاری میں پیش پیش ہیں، غریبوں کی مدد کو منفعت بخش پاتی ہیں کیونکہ رقم کی ڈجیٹل منتقلی پر آنے والی لاگت صفر کے برابر ہوتی ہے۔ اور جیسا کہ ترقی پذیر ممالک میں متعدد لوگوں کے پاس موبائل فونزموجود ہیں۔۔۔ترقی پذیر ممالک میں بالغ افراد میں سے 70فیصد اب موبائل فونزاستعمال کر رہے ہیں۔ ۔۔اس لئے موبائل فونز کے ذریعے رقوم کی منتقلی کا تناسب بہت زیادہ ہو سکتا ہے۔چھوٹے چھوٹے کمیشنز کے عوض لاکھوں کی تعداد میں رقوم کا انتقال کرکے موبائلز کے ذریعے رقوم فراہم کرنے والے غریب صارفین کو اپنا منافع محفوظ کرنے میں مدد فراہم کر سکتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے موبائل اور ڈجیٹل بینکس امیر لوگوں کیلئے کام کر رہے ہیں۔ ایک بار یہ سروسز کام شروع کر دیں تو پھر کاشتکاری یا تعلیم سے متعلق کریڈٹ کے منصوبوں یا خصوصی بچتوں جیسی خدمات میں تقابلی تخلیقات بھی ہوں گی۔
بنگلہ دیش میں، تیزترین رفتار سے پھیلتی ہوئی مالیاتی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی، ایک موبائل رقوم فراہم کرنے والی کمپنی ہی ہے، جو بی کاش کہلاتی ہے۔اس کے آغاز کو ابھی چار سال سے بھی کم عرصہ ہوا ہے مگر یہ اب روزانہ 2ملین رقوم منتقل کرتی ہے۔ اس کی منتقل کردہ رقوم کا ماہانہ حجم تقریباً1بلین ڈالر تک ہوتا ہے۔
مستقبل کا تصورخودبخود عملی شکل نہیں ڈھالے گا۔ وہاں کچھ رکاوٹیں ہیں، جن کو دور کرنے کیلئے مقامی سطح پر موجود لوگ بھرپور محنت کر رہے ہیں۔مثلاً موبائل فونز تک رسائی تاحال یکساں نہیں ہے۔ بنگلہ دیش کی صرف 46فیصد خواتین کے پاس اپنے موبائل فونز ہیں۔ جب کہ وہاں کے 76فیصد مردوں کے پاس اپنے موبائل فونز ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ خواتین بی کاش جیسی خدمات تک رسائی سے محروم ہیں اور یہی نہیں، وہ ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت سے بھی محروم ہیں جو ڈجیٹل معیشت بنگلہ دیشی معاشرے پر مرتب کر رہی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *