ہانگ کانگ اور چین : بدلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے

khalid mehmood rasool

ہانگ کانگ کے بیچ بازار میں نعرہ ء حیدری ! سن کر ہم چونگ گئے۔ ایک لمحے کو لگا کہ ہم نے بے دھیانی میں سنا ہو گا۔ کہاں ہانگ کانگ اور کہاں ایک ٹھیٹھ مسلم نعرہ۔ ہمارے ایک دوست سلیم ملک نے ہمیں 1932 کا ریکارڈ کیا ہوا ایک ویڈیو کلپ بھیجا ۔ اس بلیک اینڈ وائٹ ویڈیو میں قطار اندر قطار فوجی اپنے کاندھوں پر بندوقیں لٹکائے ہانگ کانگ کے بازار میں مارچ پاسٹ کرتے جا رہے ہیں۔ بازار کے دونوں جانب عوام کا ہجوم انہیں دیکھنے کے لئے موجود ہے بلکہ ایک جمِ غفیر ساتھ ساتھ چل رہا ہے ۔ بالکونیوں میں سے بھی ایک بڑی تعداد اس مارچ کو دیکھنے امڈ آئی ہے۔ کئی بازاروں میں مارچ کرنے کے بعد ایک مرکزی جگہ پہنچ کر ہدایات دینے والا آفیسر پریڈ کو ر کنے کا حکم دیتا ہے، جونہی پریڈ رکتی ہے،بندوقیں اپنے بدن کے ساتھ لگا کر جوانوں کے اٹین شین ہوتے ہی آفیسر نے نعرہ بلند کیا ، نعرہ ء حیدری، جواب میں پوری شدت سے جوانوں نے نعرے کا جواب دیا۔
ویڈیو کو بار بار دیکھا تو ایک صدی کی تاریخ گویا آنکھوں کے سامنے گھوم گئی۔ انیسویں صدی کے دوران یورپی ممالک ایشیاء میں جگہ جگہ اپنی نو آبادیاں بسا کر یہاں سے خام مال اور دولت سمیٹ کر اپنے اپنے ملکوں کولے جا رہے تھے۔ ہندوستان پر ان کا قبضہ مکمل ہو چکا تھا۔ چین کی حکومت اپنے کمزور ترین دور سے گذر رہی تھی۔ انہی دنوں میں برطانیہ نے چین کی حکومت سے تین مختلف معاہدوں کے ذریعے سے ہانگ کانگ کے صورت میں تین جزیرے زبردستی لیز پر لکھوا لئے۔ آج کا ہانگ کانگ تین جزائر پر مشتمل ہے، ہانگ کانگ، کولون اور نئے علاقہ جات یعنی New Territories ۔ برطانیہ نے 1842 میں ایک معاہدے کے تحت ہانگ کانگ کا قبضہ حاصل کر لیا۔ 1860 میں دوسرا جزیرہ کولون بھی اسی طرح ہتھیا لیا۔ بعد ازاں 1898 میں نیو ٹیری ٹریز کا علاقہ بھی ننانوے سال کی لیز پر حاصل کر لیا۔ جس زمانے میں یہ جزائر برطانوی قبضے میں آئے ، ان کی اہمیت سراسر عسکری نکتہ نظر سے تھی۔ اس آبی گذر گاہ میں ہانگ کانگ کے جزائر اہم فوجی پوسٹ کے کام آئے۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں ہندوستان سے عیاری اور چالاکی سے اپنے حامی جاگیر داروں اور زمینداروں کی مدد سے برطانیہ نے ہزاروں فوجی بھرتی کئے اور انہیں دنیا کے مختلف محاذوں پر تاج برطانیہ کی حفاظت کے لئے جنگ میں جھونک دیا۔ یہ ویڈیو انہی دنوں کی یادگار تھی جب ہزاروں مسلم فوجی تاج برطانیہ کی حفاظت پر مامور سمندر پار مختلف محاذوں پر بھیجے گئے، سادہ لوح فوجی اسی نعرے سے اپنے جذبے کو جگا کر خود کو زندہ رکھنے کے کوشش کرتے۔ یہ بلیک ایند وائٹ ویڈیو انہی دنوں کی گواہی دے رہی تھی۔
دوسری جنگ عظیم ختم ہوئی تو زیادہ تر نوآبادیاں برطانیہ کے ہاتھ سے نکل گئیں۔ جو نو آبادیاں بچیں ان میں ہانگ کانگ نمایاں اور قیمتی اثاثہ ثابت ہوا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد چین میں کمیونسٹ انقلاب آ گیا۔ بادشاہت کا خاتمہ ہو گیا۔ کمیونزم اور خانہ جنگی سے خوف زدہ لاکھوں لوگوں نے چین سے راہِ فرار اختیار کی۔ چین کے قریب ترین علاقے سے لاکھوں لوگ ہجرت کر ہانگ کانگ آگئے۔ خوابیدہ سی ایک عسکری آبی پوسٹ میں یکایک آبادی کا سیلاب آگیا۔ دوسری جنگ عظیم ختم ہوئی تو ہانگ کانگ کے ساتھ ساتھ تائیوان میں بھی چینیوں کی بڑی تعداد آ کر بس گئی۔ تائیوان میں تو چیانگ کائی شیک نے اپنی حکومت کے قیام کا اعلان کر دیا لیکن ہانگ کانگ برطانوی تسلط میں تھا اس لئے یہاں آزاد حکومت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔دوسری جنگِ عظیم کے بعد کمیونزم اور سوشلزم کے مقابلے میں سرمایہ داری یعنی کیپٹلزم نظام نے اپنے آپ کو بر تر نظام ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔
ہانگ کانگ کو چین کے دہانے پر سرمایہ داری نظام کا ایک نمونہ بنانے کا ایک انمول موقع برطانیہ اور اسکے اتحادیوں کے ہاتھ آ گیا۔ ہانگ کانگ میں دیکھتے ہی دیکھتے چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کا جال بچھنا شروع ہو گیا۔ تیار مال امریکہ اور یورپ کی منڈیوں میں دھڑا دھڑ برآمد ہونے لگا۔ دوسری جنگِ عظیم اور کوریا جنگ کے بعد اشیاء اور مصنوعات کی شدید قلت نے ہانگ کانگ کی صنعتی پوزیشن کو مظبوط کر دیا۔ ترقی کا عمل تیز سے تیز تر ہوتا گیا۔ کمیونسٹ چین کے عین بازو میں ہانگ کانگ ایک کامیاب سرمایہ دارانہ علاقے کے طور دنیا بھر میں نمایاں ہو تا گیا۔
چین پر تا دیر آہنی پردہ پڑا رہا۔ 1971 میں چین نے اقوامِ متحدہ میں اپنی نشست سنبھالی تو اس نے ہانگ کانگ اور اس کے نزدیک ایک اور جزیرے مکاؤ کو نوآبادتی قبضے سے واگزار کرانے کی سفارتی اور قانونی کوششیں شروع کر دیں۔ ہانگ کانگ کو بھی قانونی پیچیدگیوں کا اندازہ تھا۔ ہانگ کانگ کی تیز تر ترقی میں زیر زمین مہنگی ٹرین، پورٹ منصوبے اور ائرپورٹ منصوبے کے لئے بھاری بھر کم طویل مدت قرضوں کی ضرورت تھی۔ پراپرٹی کی ملکیت میں بھی قانونی تقاضوں کی پیچیدگیاں نوشتہ دیوار بننے لگیں۔ ایسے میں پہلی بار ہانگ کانگ کے اس وقت کے گورنر بیجنگ حکومت سے جا کر ملے اور اس وقت چین کے عہد ساز لیڈر ڈینگ ژیاؤ پنگ سے ان معاملات کو اٹھایا اور ان جزائر پر بدستور برطانیہ کی عملداری کی خواہش ظاہر کی۔ تین سال بعد مارگریٹ تھیچر حکومت نے اپنی اس خواہش کے حصول کے لئے کوششیں تیز کر دیں لیکن چین بضد رہا کہ اسے اپنے علاقے ننانوے سال کی لیز کے بعد واپس چاہییں۔
کافی ردو کد اور سیاسی و سفارتی کھینچا تانی کے بعد یہی طے پایا کہ برطانیہ یہ تینوں جزائر چین کو واپس دے دے گا۔ جواب میں چین نے وہاں کے رہائشی عوام اور کاروبار کے لئے یہ یقین دِہانی کروائی کہ ایک ملک دو نظام کے نئے اصول کی تحت چین ہانگ کانگ کے سرمایہ دارانہ نظام کو برقرار رکھے گا۔ ہانگ کانگ کے گورنر کی بجائے ایک چیف ایگزیکٹو کا ادارہ قائم کیا گیا جس کا انتخاب ایک کمیٹی کرتی ہے۔ ایک قانون اسمبلی کا ادارہ بھی قائم کیا گیا جو براہِ راست عوامی ووٹوں سے منتخب کی جاتی ہے۔ ڈینگ ژیاؤ پنگ نے اس دوران چین کی معیشت کو دھیرے دھیرے کھول کر دنیا کو اپنا دیوانہ بنا دیا۔ ایسے میں ہانگ کانگ چین کے لئے ایک دروازہ بھی ثابت ہوا اور سرمائے اور تجربے کا ایک انمول خزانہ بھی۔ برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک اس انتظار میں رہے کہ چین اور ہانگ کانگ کے درمیان مسائل پیدا ہوں اور وہ جواز پا کر مداخلت کی کوشش کریں لیکن چین اور ہانگ کانگ کی انتظامیہ نے انتہائی مہارت اور خوش اسلوبی سے تمام کوششوں کو ٹال دیا۔ لے دے کر اب کئی سالوں سے ہانگ کانگ میں مکمل جمہوریت کے لئے محدود پیمانے پر وقفے وقفے سے مظاہرے ہوتے رہتے ہیں۔ ان مظاہروں کی لگاتار اور بڑھا چڑھا کر عالمی میڈیا میں رپورٹنگ سے مغربی طاقتوں کی بے قراری ظاہر ہوتی رہتی ہے۔
گذشتہ ہفتے ہانگ کانگ کو چین سے ساتھ دوبارہ منسلک ہوئے بیس سال مکمل ہوئے، اس موقعے پر ایک شاندار ملٹری پریڈ بھی ہوئی اور چین کے صدر نے ہانگ کانگ کی نئی چیف ایگزیکٹو کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی۔ بیس سال قبل ہانگ کانگ کو چین کو واپس کئے جانے کے موقع پر تقریبات کا ایک عظیم الشّان سلسلہ منعقد ہوا۔ خوش قسمتی سے ہم اس وقت ایک کاروباری سلسلے میں ہانک کانگ میں تھے، ایک عام آدمی کی طرح ہم نے ان تقاریب کو دیکھا۔ ایک حکومت سے دوسری حکومت کے پاس جانے کے عمل کی سرسراہٹ اور عوام میں ایک بے یقینی اور تذبذب کو محسوس کیا ۔ اکثر کو اعتبار نہ تھا کہ چین ایک ملک دو سسٹم کے وعدے پر تا دیر قائم رہے گا۔ برطانیہ کے آخری گورنر کرس پیٹرن اور ان کا خاندان آبدیدہ حالت میں یہاں سے روانہ ہوئے۔ کرس پیٹرن نے بار بار ان خدشات کا اظہار کیا کہ برطانیہ کی کامیاب قیادت کے بغیر ہانگ کانگ وہ والا ہانگ کانگ نہ رہ سکے گا لیکن وقت نے سب خدشات غلط ثابت کر دئے۔ چین کی اپنی سیاست اور معیشت بعد ازاں سرمایہ دارانہ نظام کو اپنانے میں مغرب کے سرمایہ دار ملکوں سے بھی کہیں تیز نکلی۔
چین اب صرف ہانگ کانگ کے جزائر کی واپسی پر قانع نہیں بلکہ دنیا بھر میں ایک نئے دور کے آغاز کے لئے کوشاں ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت چین سینکڑوں ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری سے سلک روٹ کے تاریخی راستوں کی دریافتِ نو پر کمر بستہ ہے۔ سی پیک بھی اسی منصوبے کا حصہ ہے۔ ایک وقت تھا کہ برطانوی راج میں ایک نعرہ 1932 میں متحدہ ہندوستان سے آئے مسلمان فوجیوں نے بلند کیا اور اب ایک وقت ہے کہ دنیا بھر میں چین اپنی برتری کا نعرہ لگا رہا ہے۔ آج کے ہانگ کانگ میں پاکستانیوں کی ایک کثیر تعداد کاروبار، تعلیم اور مستقل رہائش کی صورت مقیم ہے۔ ہمیں ہانگ کانگ کے لگ بھگ دو درجن سفروں کے دوران مغل ، کشمیر اور اسلام آباد کے نام سے منسوب سمیت کئی اور ریستورانوں کے لذیذ کھانے یاد ہیں۔ ہانگ کانگ بھر میں پھیلے ہوئے ، بالخصوص ہانگ کانگ کے دل چِم شا چأوئی میں پاکستانیوں کی ایک کثیر تعداد اور شاندار مسجد تک لگ بھگ ایک صدری کا سفر ہے جو ان فوجیوں کے مارچ پاسٹ سے ہی جڑا ہوا ہے۔ بدلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *