وہ پاکستانی سیاستدان جنہیں "غیب" کا علم ہے

syed tallat hussain

اس قدر اعتماد، تفاصیل، اشکال اور یہاں تک کہ تاریخ اور نہ تبدیل ہونے والے شیڈول۔ یہ ساری چیزیں امیجینیشن کے لیے کوئی گنجائش نہیں چھوڑتیں۔ یہ ملک بھر میں خبروں کے ذریعے جوش پیدا کرتی ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کل کا علم رکھنے کا دعوی کرتے ہیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ان لوگوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ اب ہم ان لوگوں کو نظر انداز کرنے کا رسک نہیں اٹھا سکتے۔ ہم ان لوگوں سے ڈیل کر رہے ہیں جو نئے سیاسی منظر نامے کا علم اور اس کی وجوہات جاننے کا دعوی کرتے ہیں۔ ان کی بات سننا ہی بہت ہی دلچسپی کا حامل ہے۔

کچھ دن قبل عمران خان نے کہا: یہ کیس نئے پاکستان کے خواب کی طرح ہے۔ آج اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے میں پوری قوم کو آنے والے فیصلے پر مبارکباد دیتا ہوں جو ملک کو ایک نئی سطح پر لے جائے گا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ ملک میں ایک تبدیلی آئے گی کیونکہ پہلی بار کسی طاقتور انسان کو قانون کے سامنے جھکنا پڑے گا۔ اگلے ہی دن شیخ رشید نے بھی ن لیگ کو مشورہ دیتے ہوئے کہا: میں نے انہیں بتا دیا ہے کہ اگلے آٹھ ہفتوں میں ان کے برے دن آنے والے ہیں۔ نواز شریف، وہ دن آنے والا ہے جب آپ کے ہاتھ بندھے ہوں گے اور میں تمہارے لیے آواز اٹھا رہا ہوں گا۔ انشااللہ آٹھ ہفتے بعد شریفوں سے ہر چیز واپس لے لی جائے گی۔ ایک اور انٹرویو میں انہوں نے آنے والے دنوں میں متوقع چیزوں پر اپنی رائے دی اور بتایا کہ کیا ہونے والا ہے۔ اس میں انہوں نے بتایا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کیا ہو گی اور یہ کیسے نواز شریف کی نا اہلی کا باعث بنے گی۔

اس سے کچھ دن بعد ہم نے چوہدری شجاعت حسین نے اپنی پیشین گوئیاں دینے کی کوشش کی اور کہا: "اب معاملہ پانامہ سے آگے نکل گیا ہے۔ تاریخ لکھی جا رہی ہے۔ فیصلہ تاریخی ہو گا اور ہر چیز صاف ہو کر سامنے آئے گی۔ دو ماہ قبل میں سوچ رہا تھا کہ بیچ کا کوئی راستہ نکل آئے گا لیکن اب ایسا نہیں لگتا۔ دو ججوں نے صرف اختلافی نوٹ نہیں دیا بلکہ شریف خاندان کے خلاف فیصلہ دیا ہے۔ باقی تین ججوں نے کہا کہ شریفوں کو مزید موقع دیا جائے اور مزید تحقیقات ہونی چاہیے۔ اگر یہ کچھ ثابت کر پاتے ہیں تو فیصلہ ان کے حق میں کیا جا سکتا ہے اور اگر نہیں کر سکتے تو تین ججز بھی ان کے خلاف فیصلہ دیں گے۔ مجھے لگتا ہے کہ سپریم کورٹ نہ صرف ان کے خلاف فیصلہ دے گا بلکہ یہ بھی بتائے گا کہ ملک کیسے چلایا جا سکتا ہے۔ " چوہدی شجاعت کی اس کہانی نے مجھے 11 اپریل کا واقعہ یاد دلا دیا جب انہوں نے کہا تھا کہ یہ فیصلہ ایک شخص کے خلاف نہیں بلکہ ایک قانون کی حیثیت رکھے گا اور صدیوں یاد رکھا جائے گا۔ اس کےبعد بابر اعوان بھی سامنے آئے اور اعلان کیا: شریف اب بچ نہیں سکتے۔

یہی بیان نعیم بخاری نے بھی دیا تھا جنہوں نے کہا تھا کہ جب میں نے فائل دیکھی تو مجھے اندازہ ہو گیاکہ اب شریفوں کی خوش قسمتی ختم ہو چکی ہے۔ اب شریف برادارن تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ میاں نواز شریف اب لندن میں نہیں رہ پائیں گے۔ نہ ہی وہ جدہ جا پائیں گے۔ مکہ اور مدینہ میں لوگ ان کا مذاق اڑائیں گے۔ ان تجزیات کو دیکھنے کے بعد آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ شریف خاندان کس مخمصے میں پھنسا ہوا ہے اور اس کے ساتھ ججز کی طرف سے اختلافی نوٹ آنا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ لیکن یہ سب باتیں سیاست سے تعلق نہیں رکھتیں۔ یہ ان فیصلوں کے بارے میں فیصلے ہیں جو ابھی ججز نے نہیں دیے۔ یہ متوقع نتائج بتائے جا رہے ہیں ۔ یہ آراء اس تفتیش کے بارے میں دی گئی ہیں جو ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے۔

اگر یہ آراء حیران کن ہیں تو کچھ چیزیں بہت ہی شاندار بھی ہیں۔ جے آئی ٹی رپورٹ کو ہی دیکھ لیں جو سپریم کورٹ کے سامنے پیش کی گئی جس میں بتایا گیا کہ میڈیا سپریم کورٹ اور جے آئی ٹی کو دباو میں ڈالنے کی کوشش میں ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جے آئی ٹی 5 مئی 2017 کو بنائی گئی اس وقت سے 20 اپریل تک کے تمام میڈیا رپورٹس تک رسائی دی گئی ۔ جس کو مونیٹرنگ کا علم ہو اسے معلوم ہو گا کہ اس کا کیا مطلب ہے۔ نیوز پیپر کی سکیننگ، پیرا گراف مارکنگ، اور تحقیقات ایک بہت بڑی اور مشکل ذمہ داری ہے۔ یہ چینل پر خبریں دیکھنے سے کہیں زیادہ مختلف ہے۔

ٹیکنیکل سہولیات کے علاوہ سینکڑوں آدمیوں کی ضرورت ریکارڈ کیے ہوئے مواد کو جانچنے ، ضرورت کے حصوں کو کاپی کرنے اور ٹرانسکریپٹ تیار کرنے کےلیے پیش آتی ہے ۔ ہر شخص اگر ایک منٹ میں 150 الفاظ ادا کرتا ہے اور روزانہ 100 شو ہوتے ہیں اور ہر شو میں تین سے چار تجزیہ کار موجود ہوتے ہیں تو اس طرح مانیٹرنگ کتنا مشکل ٹاسک بن جاتا ہے۔ اگر جے آئی ٹی اس قدر مشکل کام خود کر بھی لیتی ہے تو بھی میڈیا کی اس معاملے میں خدمات بہت زیادہ قابل قدر ہیں۔ لیکن جے آئی ٹی نے اس ناممکن جاب کو ممکن کر دکھایا اور اپنی پیدائش سے قبل ہی اپنے پاوں پر چلنے کا معجزہ کر دکھایا۔

دوسرے واقعات بھی ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ صرف الفاظ اور رپورٹس ہی نہیں سامنے آ رہیں۔ پی پی پی رہنماوں کی بھی پی ٹی آئی میں شمولیت کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ عملی پیشین گوئی ہے۔ عملی طور پر یہ دکھایا جا رہا ہے کہ شریف خاندان کا وقت اب ختم ہے۔ پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرنے والے لوگ ہواوں کا رخ دیکھ کر فیصلہ کر رہے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ جے آئی ٹی رپورٹ اور ججز کا بینچ ن لیگ کی قیادت کو تاریخ کا حصہ بنا دے گا۔ انہوں نے اپنے سیاسی فیصلے ایسے وقت میں کیے ہیں جب جے آئی ٹی ابھی گواہوں کے بیانات لے رہی ہے۔

یہ کیسے ممکن ہوا کہ ہمارے بہت سے سیاستدانوں نے فیصلے کوسنائے جانے سے پہلے پڑھ لیا اور کل آنے سے قبل کل کو دیکھ لیا؟ یہ کیسے ممکن ہوا کہ جے آئی ٹی نے اپنی فارمیشن سے قبل میڈیا کی مانیٹرنگ شروع کر دی۔ سیاستدان عوام کو فیصلے آنے سے قبل کیوں مبارکباد دینے کا سلسلہ شروع کر چکے ہیں؟ ہم بہت جلد دیکھ لیں گے کہ کیا کل کو دیکھ لینے کا دعوی کرنے والے صرف سہانے خواب دیکھ رہے ہیں یا وہ اصل حقائق سے واقف ہو چکے ہیں؟ جب جے آئی ٹی اپنی رپورٹ جمع کروائے گی اور جج فیصلہ سنائیں گے تب معلوم ہو گا کہ اصل کیا چیز ہے اور آیا یہ فیصلہ حکومت کے لیے قہر ثابت ہو گا یا اسے اپنے پاوں پر کھڑا رہنے کا موقع ملے گا۔

ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ سب پیشین گوئیاں صرف خوش فہمی پر مبنی ہیں، کئی بار انہونی چیزیں بھی واقع ہوتی ہیں۔ اتفاقی واقعات بھی وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ حادثات بھی ہوتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ عدالت واقعی تحقیقات کے بعد شریف خاندان کو نا اہل قرار دے۔ لیکن جب فیصلہ عوام کے سامنے میچ سے قبل سنایا جانے لگے اور نتیجہ اس فیصلے کے عین مطابق نکلے تو سامعین کو یہ منوانا آسان نہیں رہتا کہ یہ میچ فکسنگ کے بغیر کھیلا گیا تھا ۔


courtesy:https://www.thenews.com.pk/print/214006-Men-who-have-seen-tomorrow

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *