عورت کا دشمن معاشرہ نہیں، خودعورت ہے

میرال حبیب

miraal habib

میں جانتی ہوں کہ پاکستان میں ایسے بہت سے معاملات ہیں جن پر لکھا جا سکتا ہے لیکن جس پر میں تحریر کر رہی ہوں یہ میرے لیے خاص توجہ کا متقاضی ہے۔ میں خوش قسمتی سے ایسے خاندان میں پیدا ہوئی جہاں مجھے محبت اور آزادی ملی اور جو میں نے مانگا مجھے مل گیا۔ ابتدائی سطح پر مجھے کوئی شکایت نہیں ہے اور میرے زیادہ تر دوستوں کی بھی یہی کیفیت ہے۔ ہم اچھی یونیورسٹیوں میں پڑھتے ہیں، مہنگے ہوٹلوں میں جاتے ہیں اور آزادی سے سوشل میڈیا پر مواد شئیر کرتے اور دیکھتے ہیں۔ ہم اپنے آپ کو ترقی پذیر اور ماڈرن کہتے ہیں۔ اسی وجہ سے ہمیں اس وقت پریشانی ہوتی ہے جب کوئی خاندان کا بڑا شخص کھانا کھاتے وقت کسی شخص کے ناک کی شکل کے بارے میں بات کرنے لگتا ہے۔

لیکن اس ترقی کے دوران بھی ہماری خواتین ساتھی خواتین پر جملے کسنے میں باز نہیں آتیں۔ شاید اس کسی وجہ یہ ہے کہ جس گھر میں ہم پلے بڑھے ہیں وہاں ایک دوسرے کو بے عزت کرنا ایک معمول بن چکا ہے۔ سب سے پہلا بے عزتی کا طریقہ ان خواتین کی طرف سے آتا ہے جن کو اہم محبت اور پیار سے بلاتے ہیں اور جو ہمیں پالتی ہیں۔ ہمارے والدین، دادی اور دوسری گپ شپ لگانے والی آنٹیاں ہی اس مسئلے کی جڑ ثابت ہوتی ہیں۔ یہ لوگ اس دور کے ہیں جب ان کا حلیہ ان کی اقدار کا عکاس ہوا کرتا تھا۔ اس وقت لڑکیوں کو بتایا جاتا تھا کہ اگر ہم اچھی طرح لباس نہیں پہنو گی تو اور اچھا رویہ نہیں دکھاو گی تو کوئی تم سے شادی نہیں کرے گا۔ اگر عاجزانہ رویہ نہیں ہو گا تو کوئی جاب نہیں دے گا وغیر ہ وغیرہ۔ اس طرح پرانی نسلوں کی خواتین کے لیے ان کا اپنا حلیہ ہی ان کی شخصیت کا عکاس بن جاتا ہے۔

اصل مسئلہ اب یہ ہے کہ اتنی زیادہ لڑکیاں اور خواتین جن کو تعلق ہماری جنریشن سے ہے نے بھی ان پرانی اقدار کو اپنا لیا ہے اور اب وہ اپنے آپ کو دوسروں پر رعب دار ثابت کرنے کی کوشش میں رہتی ہیں۔ لڑکیوں کو میرا پیغام ہے کہ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے والدین کی طرح نہ بنیں۔ پہلے ہی خواتین کےلیے سامنے اتنی رکاوٹیں ہیں تو اس لیے خواتین کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک دوسرے پر انگلی اٹھانا اور آوازیں کسنا بند کریں اور اتحاد کا مظاہرہ کریں۔ میرا مسئلہ ان لوگوں سے نہیں ہیں جو گستاخانہ لہجہ اختیار کرتے ہیں اور دوسروں کے ہر معاملے پر تبصرہ کرنا پسند کرتے ہیں۔

ہماری زندگی میں بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی یہ عادت ہوتی ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ابتدائی سطح پر جو مائنڈ سیٹ قائم ہوتا ہے وہ نفرت انگیز اور خطرناک نہیں ہونا چاہیے۔ ہمارے والدین اور دادا دادی بھی اسی مائنڈ سیٹ کے حامل تھے اور اس مائنڈ سیٹ کا خاتمہ ہمارا بنیادی فرض بن چکا ہے۔ میرا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ کوئی مجھے موٹا نہ کہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ میرا موٹا ہونا یا لباس کسی دوسرے کی توجہ کا مرکز ہی کیوں بنے۔

ہمارے خوبصورتی کے معیارات بہت عجیب ہیں۔ کسی کا حلیہ اور بناوٹ ہمارے لیے پریشانی کا باعث نہیں ہونا چاہیے۔ ہمارے لیے ان کا بول چال کا طریقہ، ان کا رویہ اور ان کا دلچسپ ہونا ان کی خوبصورتی کا مظہر نہیں ہونا چاہیے۔ میں زندگی میں کئی بار شیشے کے سامنے کھڑی ہو کر روئی ، اپنے سے بڑے سائز کی ٹی شرٹ پہنی اور کئی لباس پہن کر دیکھے لیکن کسی چیز سے تسلی نہ ہوئی۔ یہی مسئلے کا سب سے اہم حصہ ہے۔ ہم ان چیزوں کو اپنی شخصیت کا حصہ بنا کر اسی کو اپنی خوبصورتی کا معیار بنا لیتے ہیں۔

ایسا لگتا ہے کہ ہمارا مقصد ہی یہی ہے کہ لوگوں کو وہی دکھائیں جو وہ دیکھنا چاہتے ہیں ۔ سوسائٹی لڑکیوں کو شرمیلا، با ادب، اور خاموش دیکھنا چاہتی ہے ۔ معاشرے کے مطابق لڑکی کو چاہے جو بھی کہا جائے اور کتنی ہی بے عزتی کی جائے وہ خاموشی سے برداشت کرے اور کسی صورت منہ نہ کھول سکے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارا دشمن معاشرہ نہیں بلکہ ہم خود ہیں۔

اگر میں سچ بول رہی ہوں تو میری زندگی میں ایسے مواقع بھی آئے جب مجھے لگا کہ مجھ سے اور کوئی اتنی نفرت نہیں کرتا ہو گا جتنی میں خود سے کرتی ہوں۔ یہی اپنے آپ سے نفرت ہمیں دوسرون کے بیچ نفرت کے بیج بونے کےلیے تیار کرتی ہے۔ ہر کوئی ہمیں بتائے چلا جاتا ہے کہ ہمارا وزن بڑھ گیا ہے، دھوپ سے بچنا چاہیے ، منہ بند رکھنا چاہیے وغیرہ وغیرہ اور ہم خاموشی سے سہتے رہتے ہیں۔

اس زہریلے ماحول میں ڈھلنے کے بعد ہم بھی یہی خاصیتیں اپنے اندر پال لیتی ہیں اور دوسری لڑکیوں کے ساتھ نفر ت انگیز رویہ اپنا لیتی ہیں۔ کیونکہ ہم سوچتے ہیں کہ اگر ہمارے ساتھ ایسا ہوتا ہے تو ہم دوسروں کے ساتھ ایسا کیوں نہ کریں۔ جب ہم اپنے دوستوں سے ایک عرصہ بعدملتے ہیں تو سب سے پہلے ان کے قد، رنگت وغیرہ پر نظر ڈالتے ہیں کیونکہ آنٹیاں بھی شادی پر جب کسی کو ملتی ہیں تو اس کی شکل، لباس، قد پر تبصرہ کرنے کا موقع ضائع نہیں جانے دیتیں۔

ایسی لڑکیوں کو جنہیں یہ یقین دلا دیا گیا ہے کہ وہ مکمل اور پرفیکٹ نہیں ہیں میرا پیغام یہ ہے کہ اگرچہ ہمارے لیے یہ اچھی بات نہیں کہ بڑوں کی بات کو دو ٹوک جواب دیں اور اقدار کو قبول کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے لیکن میں آپ کو یقین دلاتی ہوں کہ آپ والدین سے اختلاف کر سکتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ وہ ہر معاملے میں ٹھیک ہوں۔ وہ انسان ہی ہوتے ہیں اور غلطی ہر انسان سے ہوتی ہے۔

آپ کو دوسروں کو خوش کرنے کےلیے اپنے جسم کو بدلنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر کوئی آپ سے ایسی عادت بدلنے کا کہتا ہے جس پر آپ فخر محسوس کرتی ہیں تو آپ ان کی بات پر دھیان مت دیں۔ کہنا آسان ہوتا ہے اور کرنا مشکل۔ آپ بس اتنا ضرور کریں کہ اپنا رویہ بہتر کرنے کی کوشش کرتی رہیں۔ ہمیں اپنے خاندان کے بڑوں سے شکایات رہتی ہیں اور وہ ہمارے لیے مشکلات کھڑی کرتے رہتے ہیں، لیکن بہت سے معاملات میں ہم ان جیسے ہی بنتے جا رہے ہیں اور ہمیں اس سے بچنا ہو گا۔

میں یقین دلاتی ہوں کہ آپ کو دوسری لڑکی کے لباس پر یا وہ کس کے ساتھ گھوم رہی ہے اس پر تبصرہ کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ آپ مختلف سکینڈل کے بارے میں دوستوں سے گپ شپ لگانے سے باز رہیں کیونکہ یہ آپ کا مسئلہ نہیں ہے۔ آپ کے پاس گپ شپ کے لیے اور بہت سے ایسے موضوعات بھی ہوتے ہیں جو کسی طرح نقصان دہ نہیں ہوتے۔ بہت سی دوسری چیزوں پر آپ اپنی طاقت اور وقت صرف کر سکتے ہیں۔ لوگوں اور مسائل پر بات کیجیے جو توجہ کے متقاضی ہیں ۔

دوسری خواتین اور لڑکیوں کے بیچ نفرت کی دیواریں کھڑی کرنے کی بجائے انہیں طاقت دیں ااور انہیں ایک دوسرے کے قریب لائیں۔ ان کی تعریف کریں۔ انہیں خوبصورت کہیں کیونکہ وہ واقعی خوبصورت ہیں۔ اگر ہر لڑکی با اعتماد ہو گی، اپنے آپ پر فخر کرتی ہو گی اور اپنے آپ سے پیار کرے گی تو آپ کی ترقی کا عمل زیادہ آسان ہو جائے گا۔ اگر آپ اپنی ساتھی خواتین کو ہی گرانے پر لگی رہیں گی تو ترقی کا خواب خواب ہی رہ جائے گا۔

میں نے زندگی کے زیادہ تر سال اپنے جسم کے بارے میں سوچتے ہوئے صرف کیے ہیں۔ اگلے ماہ میں 20 سال کی ہو جاوں گی اور اتنی عمر کے بعد میں سمجھ پائی ہوں کہ میرے جسم میں پریشانی والی کوئی بات ہی نہیں ہے جسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہو۔ ہمیں صرف ٹاکسِک مائنڈ سیٹ کو بدلنے کی ضرورت ہے جو ہماری توجہ کے بغیر ہماری شخصیت کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ نفرت سے نفرت ہی جنم لیتی ہے اور یہ پریشانی کا باعث بنتی ہے۔

اگر آپ حقیقی خوشی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہر منفی سوچ کو مثبت سے بدل دیجیئے۔ لوگوں کو مختلف نظر آنے پر ان کی تعریف کریں اور ان پر منفی تبصرے کرنے سے باز رہیں۔ اگر اچھی بات نہیں کر سکتے تو خاموش رہیے۔ دوسری عورتوں کی طاقت بنیں اور انہیں توڑنے کی کوشش نہ کریں۔ خواتین کے علاوہ دوسرے لوگ اس معاملے میں بہت بہتر رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں جو ایک حوصلہ افزا بات ہے۔


courtesy:http://blogs.tribune.com.pk/story/52251/society-is-no-longer-womens-worst-enemy-other-women-are/

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *