چیں بہ چیں

Yasir Pirzadaکسی غیر ملک کے سفر کی روداد لکھنے کے دو مروجہ طریقے ہیں اور دونوں ہی ہٹ ہیں۔پہلے طریقے میں غیرملک کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملائے جاتے ہیں اور ہم عوام کو یہ باور کروایا جاتا ہے کہ دنیا کا تھکا ہوا ترین ملک بھی پاکستان سے بہتر نظام مملکت چلا رہا ہے ، جبکہ دوسرے طریقے میں سفر کی داستان لکھنے والا اپنے قاری کوبتاتا ہے کہ وہ” لیڈی کلر“ ٹائپ کی کوئی مخلوق ہے جس پر دنیا کی ہر لڑکی عاشق ہونے میں زیادہ سے زیادہ پندرہ منٹ لگاتی ہے ( غالباً پندرہ منٹ کے بعدلڑکی کو عقل آ جاتی ہوگی )میں آج کل بیجنگ میں ہوں سو اگر مجھے ان دونوں فارمولوں کی مدد سے اپنے قیام کا احوال لکھنا پڑ جائے تو اصولاً وہ کچھ اس قسم کا ہونا چاہئے :”چین میں قدم رکھتے ہی یوں لگا جیسے جنت میں اتر آیا ہوں ، صاف ستھرا شہر، مثالی آب و ہوا ، لوگ خوش اخلاقی اور ملنساری کا منبع ، صفائی ستھرائی کا پیکر ،کوئی اپنے گھر کے باہر کوڑا نہیں پھینکتا ، اگر کوئی ایسی حرکت کرتا ہے تو اسے فوراً پھانسی دیدی جاتی ہے، اشارہ کاٹنے والے کو درّے لگائے جاتے ہیں ،ہارن بجانے والے کو جرمانہ کر دیا جاتا ہے، جھوٹ بولنے والے کو جیل میں ڈال دیا جاتا ہے ، چین نے دنیا کو نکیل ڈال دی ہے ، امریکہ لرز رہا ہے ، یورپ پناہ مانگ رہا ہے ، روس کانپ رہا ہے ، ہمیں چینیوں سے سیکھنا چاہئے ، ہم بہت گندے ہیں جبکہ چینی بہت اعلیٰ اور ارفع قوم ہیں ، وغیرہ وغیرہ۔“
دوسرے طریقے کے تحت مجھے یوں لکھنا چاہئے :”میں نے راستہ پوچھنے کے لئے ایک لڑکی کو روکا تو پتہ چلا کہ وہ لڑکا ہے (بقول شفیق الرحمان ، دوبارہ غور سے دیکھا تو پتہ چلا کہ لڑکی ہی ہے)، اس نے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا ، تم یقینا پاکستان سے ہو ، مجھے پاکستانی مرد بہت پسند ہیں، کہاں جاوٴ گے اس حسین شام میں تم اکیلے ،بیجنگ میں کھو جاوٴ گے ، میں بھی اکیلی ہوں ، کیوں نہ ہم ساتھ ہو لیں …کالی آنکھوں والی اس عفیفہ نے کچھ ایسے ادائے دلبرانہ سے یہ بات کی کہ مجھ پتھر کا دل بھی پگھل گیا (حالانکہ میں پگھلنے کے لیے ہر وقت تیار ہوتاہوں)، میرے دل کے تار بج اٹھے ، اس قاتل حسینہ نے میرا ہاتھ تھاما اور ہم بیجنگ کی گلیوں میں گم ہو گئے۔“
دوسرے طریقے میں کوئی مصنف اس کے بعد کا احوال نہیں بتاتا ، اس کے بعد عموما ً یہ عفیفائیں بیجنگ جیسے شہرکی گلیوں میں مصنف کی جیب صاف کرکے اسی پتلی گلی سے نکل جاتی ہیں جبکہ ہمارا لیڈی کلر کسی شریف آدمی سے فون ادھار مانگ کر پاکستانی سفارت خانے کا نمبر ملانے کی ناکام کوشش کرتا ہوا پایا جا تا ہے۔بیجنگ میں میری مایوسی کا پہلا سبب تو یہی ہوا کہ ایئر پورٹ سے باہر آنے تک کسی اجنبی حسینہ نے میرا ہاتھ تھام کر میرا رستہ نہیں روکا۔ ہر پاکستانی کی طرح ہالی وڈ کی فلمیں دیکھ دیکھ کر مجھے بھی یہ خوش فہمی ہے (جو کئی غیر ممالک کے سفر کرنے کے باوجود اب تک رفع نہیں ہو سکی ) کہ چونکہ باہر کے ملکوں کی عورتیں نہایت روشن خیال ہوتی ہیں اور اپنی اس روشن خیالی کاعملی مظاہرہ مختصر ترین لباس زیب تن فرما کے کرتی ہیں لہٰذا جونہی ہم پاکستان سے باہر کسی بھی ملک ،خاص طور پر امریکہ اور یورپ میں لینڈ کریں گے ، تو ہمیں ہوائی اڈے پر ہی منی سکرٹ میں ملبوس کوئی میم بازو سے پکڑ کر سیدھا اپنے اپارٹمنٹ میں لے جائے گی ، اور اگر خدا نخواستہ ایسا نہ ہو سکے تو ہمیں پوری آزادی ہے کسی بھی راہ چلتی گوری کا ہاتھ پکڑ کر اسے کہیں بھی گھسیٹ لیں ، آفٹر آل وہ کافر ہیں اور ان کے مذہب میں سب ”حلال“ ہے جبکہ ہم ٹھہرے گھبرو جوان !
اگر انگریزی کے مقولے"First Impression is the last Impression" کو درست مان لیا جائے تو بیجنگ کا پہلا تاثر کم از کم میرے لئے خاصا مایوس کن تھا۔ حسیناوٴں کو ہی لے لیجیے ، دو کروڑ سے زائد آبادی کے اس شہر میں اس جنس کی قلت ہی محسوس ہوئی، سب کی شکلیں تو ایک جیسی ہیں ہی عمریں بھی ایک جتنی لگتی ہیں ، اندازہ ہی نہیں ہو پاتا کسے بیٹی کہہ کر بلانا ہے ، کسے باجی اور کسے خالہ جی !ساری مائیں بہنیں لگتی ہیں …سوائے ان کے جو ضرورت سے زیادہ چھوٹی نکریں پہن کر بیجنگ کے بازاروں میں بھاگتی پھرتی ہیں۔دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں بیجنگ کا ایک خاص مقام ہے ، یہاں کی فضائی آلودگی کا یہ عالم ہے کہ اکثر اوقات شہر پر گرد کی ایک چادر سی تن جاتی ہے او ر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دھند چھائی ہو۔ بیجنگ ڈاوٴن ٹاوٴن میں پھرتے ہوئے یکدم اگر کوئی بدبو آپ کے نتھنوں سے ٹکرائے تو پریشانی کی بات نہیں ، سمجھ لیں بیجنگ کے گٹروں نے آپ کا سواگت کیا ہے۔ آج کل یہاں نہایت منحوس قسم کی گرمی ہے جس نے میرے چہرے کی نازک جلد پر نشان ڈال دئیے ہیں ( غالباً اسی لیے کوئی حسینہ پاس نہیں پھٹکی ) جبکہ بیجنگ کے باسی اس موسم میں بھنگڑے ڈالتے ہوئے نظر آتے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ یہ موسم کسی نعمت سے کم نہیں کیونکہ مارچ کے مہینے میں بیجنگ میں بسا اوقات ایسا ریت کا طوفان اٹھتا ہے کہ طبیعت بشاش ہو جاتی ہے۔ آبادی کا عالم یہ ہے کہ بیجنگ کی میٹرو ٹرین میں چینی یوں گھستے ہیں کہ ٹرین کا دروازہ بند ہونا مشکل ہو جاتا ہے ، یوں لگتا ہے جیسے کسی نے ایک کمرے میں ہزاروں روبوٹ قید کر دیئے ہوں۔میٹرو کا ٹکٹ صرف دو یوآن (تقریباً تینتیس پاکستانی روپے ) ہے جس میں آپ پورے بیجنگ میں کہیں بھی جا سکتے ہیں ، حکومت اس ضمن میں سالانہ چار ارب یو آن کی سبسڈی بیجنگ کی ٹرانسپورٹ پر خرچ کرتی ہے جس میں شہر میں چلنے والی بسیں بھی شامل ہیں جن کا ٹکٹ صرف ایک یوآن کا ہے۔ذاتی گاڑیاں زیادہ تر متمول افراد ، سرکاری افسران یا کاروباری لوگ استعمال کرتے ہیں۔ٹریفک کے اشاروں پر لوگ بے صبری سے ہارن بھی بجاتے ہیں اورخوفناک بیماریوں میں مبتلا لوگ بازاروں میں بھیک بھی مانگتے ہیں۔مردوں کی ایک عجیب عادت یہ ہے کہ ان میں سے اکثر اپنی ٹی شرٹ اوپر اٹھا کر پھرتے ہیں، نہ جانے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں !
باقی دنیا کی طرح ہم پاکستانی بھی چین کی معاشی ترقی کے متاثرین میں شامل ہیں ، چین کا عالمی تجارت میں حصہ ، اس کا ریکارڈ جی ڈی پی او ر چین کی اربوں کھربوں ڈالر کی معیشت کے بارے میں سن سن کر ہمارے کان پک چکے ہیں۔معاشی ترقی کے یہ تمام اعشارئیے درست مگر کسی قوم کی ترقی کا یہ محض ایک پہلو ہے۔ پانچ ہزار سال پرانی اس تہذیب کی کم از کم اس جدید دور میں اپنی ایسی کوئی تخلیق نہیں جس کے بارے میں یہ چھاتی ٹھونک کر کہہ سکیں کہ ”جملہ حقوق بحق چین محفوظ ہیں۔“ہر ایجاد کا آئیڈیا امریکہ اور یورپ کی ملکیت ہے جبکہ مینو فیکچرنگ چین میں کی جاتی ہے کیونکہ لیبر سستی ہے۔یہی وجہ ہے کہ چینی ، مغرب اور امریکہ کو استحصالی قوتیں کا طعنہ دیتے ہیں بلکہ سچ پوچھیں تو جو عوام آپ کو سڑکوں اور دکانوں میں نظر آتی ہے انہیں سوائے اس پروڈکٹ کی قیمت کے جو انہیں بیچنی ہے کسی بات کا کچھ نہیں پتہ۔اپنے ہاں تو چھابڑی والے سے بات کر کے دیکھیں وہ بھی آپ کو بتائے گا کہ ریمنڈ ڈیوس کو امریکہ کیسے چھڑوا کر لے گیا ، عالمی استعماری قوتیں کس طرح پاکستان کا بازو مروڑتی ہیں ، دہشت گردوں کا نیٹ کیسے تباہ کیا جا سکتا ہے اور مصر اور شام کے حالات کا ذمہ دار کون ہے!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *