سب برا بھی نہیں ہے

یاسر پیر زادہYasir Pirzada

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تین مثبت اشاریے سامنے آئے ہیں۔
پہلا مثبت اشاریہ میڈیا کا رویہ ہے ٗ آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد ماسوائے اکا دکا موقعوں کے ٗ میڈیا نے مجموعی طور پر شدت پسند نقطہ نظر رکھنے والوں کو ٹی وی اور اخبارات میں ویسے کوریج نہیں دی جیسے پہلے زور و شور سے دی جاتی تھی ۔میڈیا کی منہ زور مگر انتخابی (selective) آزادی کے علاوہ شدت پسند نقطہ نظر کوتشہیر دینے کی جو وجہ بیان کی جاتی تھی وہ بہت دلچسپ تھی کہ جہاں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے حامیوں کا موقف سامنے آتا ہے وہاں مذاکرات کے حامیوں کو بھی اظہار رائے کا موقع ملنا چاہئے ٗ جہاں دہشت گردوں کے مخالفین ایک سخت گیر لائن اپنا رہے ہیں وہاں ان کے ہمدردوں کی بھی سنی جائے کہیں ان کی بات میں وزن نہ ہو !میڈیا کی اس غیراعلانیہ پالیسی میںدو جھول تھے ٗپہلا ٗجب آپ شدت پسندوں کو ٹی وی یا اخبارات میں بیان بازی کا موقع دیتے ہیں تو انہیں کھلی چھٹی ہوتی ہے کہ وہ اپنے موقف کے اظہار میں دین کی اپنی مرضی کی تشریح کریں اور اس سے اختلاف کرنے والے کے خلاف کھڑے کھڑے فتوی سنا دیں۔جن دنوں طالبان سے مذاکرات کا زور و شور تھا ان دنوں ہر ٹی وی چینل پر ان کے حامیوں نے ریاست پاکستان ٗ آئین اور جمہوریت کی دھجیاں اڑائیں ٗ ملک میں اپنی مرضی کے نظام کا مطالبہ کیا اور اس نظام کو بندوق کے زور پر نافذ کرنے کی کھلم کھلا تائید کی گئی ۔جب ان شدت پسندوں کے مخالفوں کا نقطہ نظر لیا جاتا تو ان کے پاس وہ سب کچھ کہنے کی لبرٹی نہ ہوتی کیونکہ ایک حد کے بعد انہیں اپنے خلاف فتوی سننے کا خوف لاحق ہو جاتا۔جن مغربی ممالک سے ہم نے میڈیا کی آزادی کا تصور مستعار لیا ہے وہاں ایسی رکاوٹیں نہیں ٗ وہاں آپ کھل کر اپنے موقف کا اظہار کر سکتے ہیں مگر اس کے باوجود نیویارک ٹائمز ٗ گارڈئین ٗ واشنگٹن پوسٹ یا انڈیپنڈینٹ کے ادارتی صفحات میں القاعدہ کے لیڈران کی مدح میں کوئی کالم شائع ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
دوسری خرابی اس پالیسی میں یہ تھی کہ ماسوائے گنتی کے چند اینکرز کے ٗ بیشتر نومولود اینکرز کے پاس مذہب ٗریاست یا دہشت گردی سے متعلق وہ بنیادی آگاہی نہیں تھی جس کے بل پر وہ شدت پسندوں کے حمایتیوں کے بیانئے پر ٹھوس سوالات اٹھاسکتے ٗ چنانچہ جب بھی کوئی مذاکرات کی حمایت میں آئر لینڈ ٗ فلپائن یا دوسری جنگ عظیم کی مثالیں دیتا تو جواب میں اینکر بس سر ہلا دیتا اور یوں ایک ایسے بیانئے کی راہ ہموار ہوئی جس کا بالآخر 132معصوم بچوں کا خون پی کر زور ٹوٹا۔ان بچوں کی شہادت کے بعد شدت پسند نقطہ نظر رکھنے والوں کے لئے اپنے پرانے موقف کو دہرانا مشکل ہو گیا ہے (مگر انہیں شرم اب بھی نہیں آئی) اور یوں میڈیا کو بھی ایک موقع مل گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں مثبت کردار ادا کرے اور ان کے موقف کو ٹی وی اور اخبارات میں تشہیر نہ کرے ۔دریں اثنا ء ریاست بھی ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی ہے اورایک قانون نافذ کیا گیا ہے جس کی رو سے دہشت گردی کی حمایت اب ایک جرم ہوگا ۔کیا یہ سادہ بات جاننے کے لئے ہمیں پچاس ہزار جانیں گنوانے کی ضرورت تھی ؟
اس جنگ کا دوسرا مثبت اشاریہ عدلیہ کا کردارہے۔ ایک عرصے تک ہم یہ سمجھتے رہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردوں کو پکڑتے ہیں مگر عدلیہ عدم ثبوت کا بہانہ بنا کر خوف کی وجہ سے انہیں چھوڑ دیتی ہے ٗ اس ضمن میں اخبارات میں خبریں بھی شائع ہوتی رہیں کہ کیسے علی الاعلان اعتراف قتل کرنے کے باوجود ایک کالعدم تنظیم کے سرغنہ کو رہا کر دیا گیا !یہ اور اس طرح کی دیگر مثالیں درست ہوں گی مگر تصویر کا دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ یہی عدلیہ آٹھ ہزار مجرموں کو پھانسی کی سزا دے چکی ہے جن میں سے کم از کم آٹھ سو مجرمان دہشت گردی کے مقدمات میں ملوث ہیں ٗ جن مجرموں کو پھانسی کا حکم دینے کی حکمرانوں میں ہمت نہیں تھی وہ ہمت سیشن ججز نے دکھائی ٗعدالت عالیہ اور عدالت عظمی کے جج صاحبان نے دکھائی اور جان ہتھیلی پر رکھ کر پاکستان جیسے ملک میں یہ تمام فیصلے کئے جہاں عدالت کے احاطے میں مقدمے کی پیروی کرنے والا وکیل اور کیس سننے والا جج دونوں قتل کر دیئے جاتے ہیں۔ جن بائیس مجرمان کواب تک پھانسی پر چڑھایا گیا ہے ان کے مقدمات کے فیصلے انہی جج صاحبان نے کئے ہیں جن کو ہم تنقید کا نشانہ بناتے ہیں ۔سخی سرور مزار پر حملے کے مجرمان سے لے کر کراچی میں ٹارگٹ کلر ز کے مقدمے تک یہی عدلیہ ہے جس نے بہادری اور جرات کی داستان رقم کی مگر ہمیں اب تک توفیق نہیں ہوئی کہ ان جج صاحبان کے لئے کوئی ایسا نظام بنا دیں جس کے تحت دہشت گردی کے مقدمات میں جج ٗ گواہان اور وکلا کی شناخت ممکن نہ ہو ٗ یہ مقدمے کسی قلعے نما عمارت میں ویڈیو لنک کے ذریعے سنے جائیں ٗ ججوں کے نام نہ ہوں صرف نمبر ہوں ٗ وکلا اور گواہوں کو بھی کسی عدالت میں آنے کی ضرورت نہ ہو ٗ تمام جرح ویڈیو کانفرنس کے ذریعے سے ہو ۔جن ممالک میں مافیا گروہوں کا راج تھا انہوں نے کئی دہائیاں قبل ایسا نظام وضع کرکے اپنے ملک میں امن قائم کر لیا تھا جبکہ ٹیکنالوجی کی یہ شکلیں بھی ایجاد نہیں ہوئیں تھی۔اس ملک پر نہ جانے کس آسیب کا سایہ ہے ٗ کوئی کام شروع کرنے کا وژ ن ہے نہ حوصلہ !
اس جنگ کا تیسرا مثبت اشاریہ پولیس ٗ فوج اور قانون نافذ کرنے والوں کا کردار ہے ۔اٹھارہ کروڑ آبادی کے اس ملک میں جہاں ہر شخص سسٹم کو شکست دینے کے درپے ہو ٗ جھوٹی ایف آئی آر درج کروانا جہاں لوگوں کا محبوب مشغلہ ہو ٗ قانون پر عمل کرنے والے کو احمق سمجھا جائے ٗ وہاںپولیس سے اسکاٹ لینڈ یارڈ کے معیار کی کارکردگی کی امید رکھنے کو خوش فہمی کی معراج ہی سمجھا جائے گا ۔اس کے باوجود پولیس نے دہشت گردی کے کم و بیش تمام چھوٹے بڑے واقعات کے مجرمان پکڑے جو کسی معجزے سے کم نہیں ٗآئے روز پولیس اور ایف سی کے قافلوں پر حملے ہوتے ہیں جن میں ہمارے افسر اور جوان شہید ہوتے ہیں ٗ اس کے باوجود ان کی جرأت اور بہادری میں کمی نہیں آئی، صفوت غیور سے لے کر چوہدری اسلم تک سرفروشوں کی ایک طویل فہرست ہے جاں نثاروں کی۔دوسری طرف فوج ہے جو اس آپریشن میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے ٗ سلام ہے ان فوجیوں کو جو دشمن کو اس کے کمین گاہوں سے نکال کر ختم کر رہے ہیں ٗ یقینا یہ آپریشن آرمی پبلک اسکول پر حملے سے پہلے بھی جاری تھا مگر بچوں کی شہادت کے بعد جس طرح پوری قوم فوج کے ساتھ کھڑی ہوئی ہے وہ بے حد مثبت اشاریہ ہے ۔
لیکن اس جنگ میں مثبت ہی نہیں کچھ منفی اشاریے بھی سامنے آئے ہیں ٗ آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعددہشت گردی کے خلاف قوم کی یکسوئی سے حاصل ہونے والا موقع نمائشی اقدامات کی بھینٹ چڑھنے کا اندیشہ ہے ٗایسے منفی اشاریوں کا ذکر پھر کبھی!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *