مناپن کے مہربان لوگ اور سرخ چیریاں

MHTجب ہم ہنزہ کے ناصر آباد کی بلندی سے راکا پوشی پر غروب ہوتے سورج کے نظارے کر کے مناپن نگر لوٹ رہے تھے تو اس برف پوش چوٹی کے قدموں میں پہنچ کر میں نے لیاقت صاحب سے پوچھا تھا اس کے بیس کیمپ راستہ کدھر سے جاتا ہے تو انہوں نے بل کھاتی بلند ہوتی اس پگڈنڈی کی جانب اشارہ کیا تھا جو کہیں آسمانوں میں گم ہو رہی تھی اور میں جان گیا تھا کہ میرے ساتھ ہاتھ ہو گیا ہے۔ میں مارا گیا تھا۔ ڈاکٹر احسن اینڈ کمپنی نے میری محبت میں مبتلا ہو کر مجھ سے فریب کیا تھا۔ بھلا اس عمر میں مجھ میں اتنی سکت ہے یہ کُتّی چڑھائی چڑھ سکوں۔۔۔ یقیناًمیرا مرقد پر انوار راکا پوشی کی برفوں میں بنے گا اور کم از کم جمیل عباسی ہر برس حیدر آباد سے وہاں پہنچ کر میرا عرس منعقد کرے گا بلکہ عین ممکن ہے مجاور بن کر وہیں دما دم مست قلندر کرتا رہے۔۔۔ ڈاکٹر احسن اور بقیہ تین فوٹو گرافر حضرات وہیں ناصر آباد میں ٹھہر گئے تھے کہ وہ راکا پوشی کو چاندنی میں شوٹ کرنا چاہتے تھے اور مجھے یہاں یقیناًاب تک مرحومہ ہو چکی جپسی یاد آ گئی جو مجھ پر کیمرہ مرکوز کر کے کہا کرتی تھی کہ مستنصر کیا تمہیں شوٹ کر دوں تو میں مسکراتے ہوئے کہا کرتا تھا کہ پہلے ہی اتنے تیر دل اور جگر وغیرہ کے پار کر چکی ہو تو اب شوٹ بھی کر دو۔۔۔ جپسی نہ ہوئی فائرنگ سکواڈ ہو گئی۔
اس شب سرور نے دیگر خوراکوں کے علاوہ میری پسندیدہ ایک چینی ڈش بھی تیار کر رکھی تھی، میں نے حیرت سے دریافت کیا کہ تم کیسے جانتے ہو کہ مجھے چکن چاؤ مین بے حد پسند ہے۔ سرور کہنے لگا تارڑ صاحب آپ کی تحریروں کے ناتے میں آپ کے بارے میں بہت کچھ جانتا ہوں۔ مجھے فکر مندی سی ہو گئی کہ ظالم جانے اور کیا کیا کچھ جانتا ہے۔ کھانے کے بعد میں نے ڈاکٹر احسن اور کامران کو اپنے کمرے میں طلب کر کے ان کی مناسب گوشمالی کی کہ راکا پوشی بیس کیمپ تک جانے والا راستہ کم از کم میری عمر کے بندے کے لیے تو ناممکن لگتا ہے تو جھوٹ بولتے تھے۔ اس پر کامران جس کا تن و توش ایک میڈیم نوعیت کے جن جتنا ہے اٹھا اور فرش پر بیٹھ کر میری پنڈلیاں دبانے لگا کہ سر۔۔۔ اتنے، وہ پگڈنڈی نہیں ایک جیپ روڈ ہے اور جب آپ اس پر چلیں گے تو چڑھائی محسوس ہی نہیں کریں گے۔ یوں جیسے ہموار میدان میں چل رہے ہیں اور اس کے بعد تارڑ صاحب ندیاں، جنگل، آبشاریں آپ خوش ہو جائیں گے۔ بہت آسان ہے۔۔۔ میں پھر ورغلایا گیا تھا۔۔۔ یوں بھی وہ اتنے کمال کے مالشیے انداز میں پنڈلیاں دبا رہا تھا کہ مجھ پر غنودگی سی طاری ہو گئی اور ایک حماقت آمیز مسکراہٹ میرے لبوں پر پھیل گئی۔۔۔ اور میں نے اُن کا اعتبار کر لیا۔
اس دوران مجھے لاہور سے ایکسپریس چینل کے پروڈیوسر وقار ملک کا فون آگیا اور وہ بے حد ہیجان میں تھا۔ تارڑ صاحب مجھے کہیں سے خبر ملی ہے کہ آپ راکاپوشی بیس کیمپ تک جانے کے لیے نگر پہنچ گئے ہیں۔ پلیز میرا انتظار کیجیے میں آپ کی کوہ نوروی کی ڈاکو منٹری بنانے کے لیے پہنچ رہا ہوں۔ میں نے سوچا یہ غریب کہاں لاہور سے چل کر شاہراہ قراقرم پر دھکے کھاتا نگر تک آئے گا تو میں نے اُسے بتایا کہ ہم لوگ تو کل صبح روانہ ہو رہے ہیں۔ تم تردد نہ کرو زندگی رہی تو ڈاکومنٹری پھر سہی تو وہ کہنے لگا۔۔۔ سر میں تو اپنی کارمیں بشام کے قریب پہنچ چکا ہوں۔ وہاں اپنی کار پارک کر یس کے ذریعے کل شام تک مناپن پہنچ چاؤں گا۔۔۔ پلیز میرا انتظار کیجیے اور اگر نہیں رک سکتے تو میں تنہا آپ کے تعاقب میں نکل کھڑا ہوں گا۔ وقار اس سے پیشتر شمال کے بارے میں ’’سفر ہے شرط‘‘ نام کا پاپولر پروگرام پیش کر چکا تھا۔ چنانچہ ہم نے اپنی روانگی ایک روز کے لیے مؤخر کر دی اور اگلے روز دیران ریسٹ ہاؤس میں قلانچیں بھرتے رہے۔ کچے سیب کھائے، چیریاں نوش کیں، پرندہ جات جو مسلسل باغوں میں چہچہاتے تھے اُن کے سریلے گیت سنے، پچھلے پہر ریسٹ ہاؤس کے مختصر لان میں جو ایک مختصر بچہ سومنگ پول تھا اس میں میرے علاوہ سب نے ڈبکیاں لگائیں۔ البتہ جب کامران نے اس میں چھلانگ لگائی تو پول کا نصف سے زیادہ پانی کناروں سے بہہ نکلا اور پول تقریباً خالی ہو گیا۔ کامران کو خوب لعن طعن ہوئی۔۔۔ بعد ازاں سب حضرات گھوڑے تو نہیں خرگوش وغیرہ بیچ کر سو گئے۔
اس شام ہم مناپن گاؤں میں نکل گئے، یہ کچھ ایسا خوش نظر تو نہ تھا لیکن راکاپوشی کے پس منظر نے اسے پر کشش بنا دیا تھا۔ امام بارگاہ میں خوب روشنی اور رونق تھی۔ ہم دیکھ سکتے تھے کہ زمین کی زرخیزی اس گاؤں کی خوشحالی کے سبب تھی یہاں تک کہ شاید زعفران بھی کاشت کیا جاتا ہے۔ ہم سب کی جانب اپنائیت اور محبت کی نظریں اٹھتی تھیں۔ ہم گاؤں سے باہر کچھ دور اس راستے پر چلے جس کے آخر میں درے کے دامن سے ہمارے سفر کا آغاز ہونا تھا۔ راستہ اتنا آسان ہرگز نہ تھا لیکن اب کشتیاں بادبان کھول کر پانیوں میں اتر چکی تھیں، میں اپنا ارادہ بدل نہیں سکتا تھا۔ راستے کے پہلو میں چیری کے درختوں کا ایک جھنڈ تھا۔ ایک جھونپڑا تھا۔ ایک مہربان شکل کا نگری دہقان ہمارے لیے سرخ چیریوں سے لبریز ایک طشتری لیے آتا تھا۔ ہم نے باغ کی منڈیر پر بیٹھ کر ان چیریوں کا کام تمام کیا۔ راکاپوشی کی برفیں تاریکی میں اتر رہی تھیں۔ رات گئے تھکا ماندہ لیکن مسکراتا ہوا وقار ملک بھی پہنچ گیا اور آرام کیے بغیر شوٹنگ میں مشغول ہو گیا۔ اگلی سویردیران ریسٹ ہاؤس کے برآمدوں میں ہمارے سفری بیگ بندھے پڑے تھے۔ سب لوگ کوہ نوردی کے لباس میں تھے۔ سفر کے آغاز کے لمحوں میں ہمیشہ ایک اداسی دامن گیر ہوتی ہے۔۔۔ سب چپ ہوتے ہیں۔۔۔ پچھلے برس کچھ دوستوں کے ہمراہ ایورسٹ کے بیس کیمپ تک جانے کا پروگرام طے ہوا تھا۔ میں نے سوچ رکھا تھا کہ دو تین منزلوں کے بعد میں نامچے بازار نامی قصبے میں رک جاؤں گا اور بقیہ ٹیم ممبر جو سب مجھ سے ڈھیر چھوٹے ہیں ایورسٹ کو نکل جائیں گے۔ اس مہم کے لیے میں خصوصی طور پرٹمبر لینڈ کے ہائکنگ بوٹ اور نارتھ فیس کے شہور زمانہ برانڈ کی جیکٹ خرید کر لایا تھا۔ چند ناگزیر وجوہات کی بنا پر ایورسٹ کی مہم ڈراپ ہو گئی اور اب میں وہی بوٹ پہنے راکاپوشی کے دامن تک جانے کا ارادہ رکھتا تھا۔ بوٹ مجھے تھوڑے سے تنگ محسوس ہوئے اور بعد میں انہوں نے مجھے ذلیل کیا۔۔۔ میرے اندر بھی ایک اداسی تھی۔ میں جانتا تھا کہ اس کوہ نوردی کے بعد میری کوہ نوردی کے دن اختتام کو پہنچ جائیں گے۔ میں پہاڑوں میں یوں سارا سارا دن پیدل نہ چلوں گا۔ ہاں گئے دنوں کی یاد میں ایک مختصر سی کوہ نوردی کر لی اور پھر آرام کیا۔ اس کے علاوہ میرے اندر ایک عجیب مسرت بھی پھوٹتی تھی۔ جیسے کسی من موہنی نے مڑ کر ایک نظر دیکھ لیا ہو تو جوانی میں ایسی ہی مسرت دل سے پھوٹتی تھی۔ اللہ تعالیٰ کے کرم سے میں چوہتر برس کی عمر میں کوہ نوردی کے لیے کمر بستہ تھا۔ مجھ میں ڈرتو تھا لیکن اس سے کہیں زیادہ مستحکم یہ یقین تھا کہ آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میں نے کوئی بلند برفانی سفر اختیار کیا ہو اور راستے میں کوئی حادثہ ہو گیا ہو۔ موسم شدید ہو گئے ہوں یا میرے بیمار پڑنے سے مہم ناکام ہو گئی ہو، تو اس بار بھی میں منزل تک پہنچ جاؤں گا۔ مجھ پر میرے رب کی خاص عنایت تھی۔ مجھے یقین تھا۔ چاہے گرتا پڑتا نیم اپاہج ہو کر پہنچوں لیکن پہنچ میں نے جانا ہے۔ ابھی مناپن گاؤں کے گھروندے اور کھیت سائے میں تھے جب ہم ایک ویگن پر سوار اس زِگ زیگ راستے کے آغاز میں پہنچ گئے جو کہیں آسمانوں میں گم ہوتا تھا۔ برابر میں ایک برفانی نالہ راکاپوشی کے کسی گلیشیئر میں سے جنم لیتا ایک چینی اژدہے کی مانند پھنکارتا نیچے آ رہا تھا۔ جیسا کہ میرا دستور تھا سفر کے آغاز میں پہلا قدم اٹھانے سے پہلے سب ٹیم ممبروں نے ایک نیم دائرے میں کھڑے ہو کر سفر کی دعا پڑھی۔ میں نے آہستہ آہستہ چلنا اور چڑھنا شروع کر دیا۔ سفر کا آغا زتھا سب لوگ ایک دوسرے سے چہلیں کر رہے تھے۔ منزل تک پہنچتے وہ ایک دوسرے سے بیزار ہو چکے ہوں گے۔ فہد ایک کھلنڈرا نوجوان اپنی واکنگ سٹک سے کرکٹ کھیل رہا تھا۔ میں محسوس کر رہا تھا کہ اب عناصر میں اعتدال کہاں، توازن قائم رکھنا ذرا دشوار ہو رہا تھا لیکن میں چل سکتا تھا۔ صرف مجھے یہ احتیاط کرنی تھی کہ اوپر اس بلندی کو نہیں دیکھنا جس میں یہ راستہ گم ہوتا تھا۔ اپنے اگلے قدم کو دیکھنا ہے۔ سیاچن جنگلی گلابوں کی ایک جھاڑی دکھائی دی تو جی خوش ہو گیا۔ آس پاس جو بوٹیاں اور پودے تھے ان میں سے ایک خاص بلندی کی خمار آلود مہک آتی تھی اور حسب معمول جھیل میرا گارڈین اینجل یعنی حفاظتی فرشتہ میرے ساتھ ساتھ قدم رکھتا تھا۔ راکاپوشی بیس کیمپ کا سفر شروع ہو چکا تھا، میرا دل خوشی سے بھر گیا اور آنکھوں میں تشکر کی نمی تیرنے لگی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *