تحریک آزادی جموں کشمیر کا ہیرو

محمد عبداللہ

muhammad abdullah

قوموں اور تحریکوں کی تاریخ میں کچھ ایسے اشخاص بھی آتے ہیں جن کے کردار و عمل کی وجہ سے ان کا نام تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ کے لیے زندہ جاوید ہو جاتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے کردارسے آزادی کی تحریکوں کو جلا بخشتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں میں ایک روشن نام برہان مظفر وانی شہید کا ہے کہ جس نے تحریک آزادی جموں و کشمیر کی سلگتی چنگاری کو اپنے گرم لہو سے شعلہ جوالا میں تبدیل کردیا۔ جموں کشمیر کے قصبہ ترال میں ایک استاد کے گھر میں جنم لینے والے ہونہار بچے برہان مظفر وانی نے تحریک آزادی جموں کشمیر کو  اپنے خون جگر سے کچھ اس انداز سے سینچا کہ برہان کا نام تحریک سے وابستہ ہر فرد کے لیے ہیرو اور مقدس شخصیت کا درجہ حاصل کر چکا ہے۔ جموں وکشمیر کے لوگ اپنے بچوں کو آزادی کے اس مجاہد کی دیومالائی داستانیں سناتے نہیں تھکتے۔ اپنے اسکول کے ذہین طالب علم کا صرف پندرہ سال کی عمر میں  قلم  و قرطاس سے ناطہ توڑ کر گن اٹھا کر ظالم ہندو فوج کے سامنے برسر پیکار ہو جانا  ایک بہادری ، شجاعت اور سرفروشی کی ایک  ایسی داستان ہے جس نے جموں و کشمیر کے مظلوم مسلمانوں میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔  برہان نے اپنی  شہادت سے اپنی قوم کو ایک ایسا ولولہ تازہ دیا ہے جس نے پوری کشمیری قوم کو از سرنو بھارتی فوج کے ظلم و ستم کے سامنے سینہ سپر  بنا کر کھڑا کردیا ہے۔ 6 سال کی عمر کے بچے سے لے کر 70 سال کے ضعیف افراد تک ہر فرد  آج ظالم بھارتی افواج کے ٹینکوں ، بکتربند گاڑیوں، توپوں، پیلٹس اور شیلنگ کے سامنے پتھر ہاتھ میں پکڑ کر   گویاابابیلوں کی مانند ابرہہ کے ہاتھیوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ برہان مظفر وانی کہ جس کو بھارتی فوج کے مظالم نے اپنی تعلیم کو خیر آباد کہہ کر مجاہدین کی صفوں میں شامل ہونا پڑا  اس دور مین منظر میں عام پر آیا کہ جس میں بھارتی پروپیگنڈا عام تھا کہ کشمیر میں آزادی کی جنگ لڑنے والے مجاہدین سرحد پار سے  آیا کرتے ہیں۔ یوں بھارت  پاکستان کو بدنام کرنے کی سازشوں میں مصروف تھا کہ ایسے وقت ایک کشمیری نوجوان برہان مظفر وانی شہید کا ایک ویڈیو پیغام منظر عام پر آیا جس میں  وہ کشمیری نوجوانوں  کو مجاہدین  کی صفوں میں شامل ہونے کی ترغیب دے رہا تھا۔ یہ ویڈیو دیکھ کر بھارتی افواج کو تو  یقین مانو جیسے آگ لگ گئی ہو ، انہوں اس نوجوان برہان کو تلاش کرنے کے لیے اپنی پوری طاقت صرف کردی مگر  2011  سے لے کر 2015 تک یہ نوجوان مسلسل  بھارتی افواج افواج کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتا رہا اور ان پر کاری زخم لگاتا رہا، اسی دوران برہان دوسرے مجاہدین کے برعکس کھلم کھلا اپنی شانخت کرواتا اور سوشل میڈیا استعمال کرتے ہوئے اسلحہ کے ساتھ اپنی ویڈیوز اور تصویروں کے ساتھ کشمیری نوجوانوں کو آزادی کی جنگ لڑنے والے کشمیری مجاہدین کی صفوں میں شامل ہونے کی ترغیب دیتا رہا۔ اس کی یہ تصویریں اور ویڈیوز دنوں میں وائرل ہو جاتیں اور کشمیری نوجوانوں کے لیے ایک مہمیز کا کام کرتیں۔اس کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے بیسیوں کشمیری نوجوانوں نے اپنی تعلیمی مصروفیات کو ترک کرتے ہوئے  ظالم بھارتی افواج سے برسرپیکار ہونے کو ترجیح دی۔   2015 میں بھارتی افواج نے برہان مظفر وانی کے بھائی خالد مظفر کو اپنے دوستوں سمیت تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے شہید کردیا مگر یہ خبر برہان کے پایہ استقلال میں کوئی لغزش نہ لاسکی او ر وہ پہلے سے بھی زیادہ بھارتی افواج کے مقابلے پر ڈٹا رہا ۔ 8 جولائی 2016 کو بھارتی افواج نے ایک اطلاع پر اس گھر کا محاصرہ کیا جس میں برہان اپنے  ساتھیوں سمیت موجود تھا۔ بھارتی افواج نے ہزاروں کی تعداد میں اس گھر کو گھیرے میں لے لیا اور بمباری  کرکے برہان کو اپنے ساتھیوں سمیت شہید کردیا۔برہان کی شہادت کی اطلاع پورے کشمیر میں جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔لوگ جوق در جوق ترال میں اکٹھے ہونا شروع ہوگئے۔ جب برہان کا جنازہ اٹھا تو تین لاکھ سے زائد لوگ اس جنازے کے ہمراہ تھے۔ برہان کی میت کو کندھا دینے کی خاطر گھمسان کا رن پڑ رہا تھا۔  برہان کا جنازہ بھارت کے لیے نوشتہ دیوار تھا کہ ساری کشمیری قوم برہان کا جنازہ ادا کر رہی تھی اور برہان بنو گے ہاں بھئی ہاں کے نعرے لگاتے ہوئے برہان کے مشن کو آگے بڑھانے کا عزم کر رہی تھی۔ برہان کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفن کرکے اس کی پاکستان سے محبت کا ثبوت دیا گیا۔ برہان کے جنازے میں ہر سو پاکستان کے پرچم لہرا رہے تھے۔ اس کی شہادت کے بعد ایک  صحافی اس کے گھر پہنچی اور اس کے بوڑھے والد کا  انٹرویو لیا جو آج بھی سوشل سائٹس پر موجود ہے۔ اس  انٹرویو میں صحافی کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے برہان کے باشرع والد   کا کہنا تھا کہ آج ساری کشمیری قوم کا یہ نعرہ ہے کہ ہم برہان کے مشن کو آگے بڑھائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے ایک بیٹا شہید ہوا  اب برہان شہید ہوگیا اگر آزادی کی خاطر مجھے اپنی جان بھی قربان کرنا پری تو کروں گا اور میری ایک بیٹی ہے کشمیر کی آزادی کی خاطر وہ بیٹی بھی قربان۔ صحافی  ان سے پوچھ رہی تھی کہ آپ کا بیٹا بھارتی فوج نے شہید کردیا آپ کو دکھ تو ہوا ہوگا اس پر برہان شہید کے والد نے جو ایمان افروز جواب دیا اس نے ساری کشمیری قوم میں جزبہ ایمانی کو جگادیا، ان کا کہنا تھا کہ اللہ پہلے ہے بیتا بعد میں، نبیﷺ پہلے ہیں بیٹا بعد میں، قرآن پہلے ہے بیٹا بعد میں۔ برہان  مظفر کی  بھارتی افواج کے ہاتھوں ہاتھوں ماورائے عدالت شہادت نے پوری کشمیری قوم میں اک نئی جرات اور جذبہ پیدا کردیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری قوم  ہاتھوں میں پاکستانی پرچم لیے سڑکو ں پر آن موجود ہوئی اور آزادی کے حق میں  بھارتی افواج کے خلاف نعرے لگانے شروع کردیے۔یہ صورتحال  درندہ صفت بھارتی افواج کے لیے ناقابل برداشت تھی۔ انہوں نے ماضی کی روایات پر عمل کرتے ہوئے مظاہرین پر اپنی گنوں کے منہ کھول دیے، درندگی اور سفاکیت کی انتہا کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی افواج نے  برہان مظفر وانی شہید کی شہادت پر احتجاج کرنے والوں پر پیلٹس گنوں سے فائرنگ شروع کردی اور ہزاروں کشمیری بچوں، نوجوانوں، بوڑھوں اور عورتوں کے جسموں کو چھلنی چھلنی کردیا ۔ ایک سو سے زائد شہید ہوگئے۔

Image result for burhan wani shaheed

مگر یہ زخم اور شہادتیں کشمیریوں آزادی کی مانگ سے روک نہ سکیں بلکہ کشمیری ہر شہادت کے بعد پہلے سے بھی زیادہ آب و تاب کے ساتھ سڑکوں پر موجود ہوتے اور پاکستان کا پرچم لہراتے ہوئے بھارتی افواج کی گولیوں اور پیلٹس کے مقابلے میں پتھروں کے ساتھ ڈٹے رہے۔ ظالم و قابض بھارتی فوج نے اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے وادی میں تاریخ کا لمبا ترین کرفیو نافذ کردیا اور انٹرنیٹ تک کو بند کردیا۔ مگر کشمیری آج بھی جوش اور جذبے کے ساتھ بھارتی افواج کے مقابلے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ اور تحریک آزادی جموں و کشمیر آج جس انتہا اور عروج پر پہنچ چکی ہےخود بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھنا شروع ہوگئیں ہیں کہ کشمیر بھارت کے ہاتھ سے پھسلتا جا رہا ہے۔ آج برہان وانی کی شہادت کو ایک سال پورا ہو رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی کشمیریوں کی تحریک انتفاضہ کا بھی ایک سال مکمل ہو رہا ہے اور کشمیر کی کیفیت یہ ہے کہ اسکول ،کالجز اور یونیورسٹیز کےطلبا و طالبات ہاتھوں میں پاکستانی پرچم اور پتھر لیے سارا سارا دن بھارتی فوج پر پتھراؤ کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ بھارتی مسلح افواج کے سربراہ جنرل بپن راوت کو کشمیری نوجوانوں سے درخوست کرنا پڑی کہ کشمیری نوجوان پاکستان کا پرچم اٹھانا بند کردیں ۔برہان وانی کی شہادت پر پاکستان  کے وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اقوام متحدہ میں کھڑے ہوکر   برہان کو آزادی کا ہیرو کہا تھا جس سے کشمیری قوم کو بہت حوصلہ ملا۔ آج وزیر اعظم پاکستان کے ہیرو برہان مظفر وانی کی شہادت کو ایک سال مکمل ہو رہا تو پاکستان کو دیکھنا چاہیے کہ کشمیری تو آج بھی ڈٹے ہوئے اور پاکستان کی محبت اور پاکستانی پرچم اٹھانے کی پاداش میں اپنے پیاروں کی لاشوں کو اٹھانا پڑتا ہے مگر آج  کشمیریوں کا وکیل پاکستان کہاں کھڑا ہے۔ پاکستان کی انتظامیہ کو چاہیے کہ برہان مظفر وانی کی شہادت  کے ایک سال پورا ہونے اور کشمیر کی آزادی کی تحریک میں حالیہ عروج کو سپورٹ کرنے کے لیے پورے ملک میں ہفتہ کشمیر منایا جائے اور پورے ملک میں پروگرامز، ریلیاں اور تقریبات وغیرہ منعقد کی جائیں اور اس کے ساتھ ساتھ اقوام عالم میں کشمیر کے مقدمے کو زبردست انداز میں پیش کرکے بھارتی افواج کے مظالم کو اقوام عالم کے سامنے پیش کیا جائے اور کشمیر کی آزادی کی تحریک کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے حتی المقدور کوشش کی جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *