ماسی پھتے کی ہٹی اور سوتیلی اولاد

baba-jevna
حوالدار تابعدار ۔ ماسی السلام و علیکم ،
ماسی پھتے ۔ و علیکم السلا م ۔کیسا ہے تو پتر تابعدار
 حوالدار تابعدار ۔ ماسی میں ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں ماسی ؟زرا ماچس پکڑائیں ماسی (سگریٹ کا پیکٹ جیب سے نکالتے ہوئے)
ماسی پھتے ۔(ماچس کی ڈیبیہ پکڑاتے ہوئے) پُتر میں بھی بس ٹھیک ہوں مجھے کیا ہو نا ہے اللہ اللہ کر رہی ہوں بس ۔پر آج تو مجھے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا تیر ا یہ سوہنی مونچھوں والا منہ کیو ں اُترا ہو ا ہے کَہر (گھر) میں تو سب ٹھیک ہے ناں ؟کیوں سویرے سویرے منہ لٹکا کہ آگیا ہے ؟تیری کَہر والی(بیوی) کا کیا حال ہے ؟ اب اس کی طبیعت کیسی ہے ؟
 حوالدار تابعدار ۔ ماسی بس اللہ کا شکر ہے سب ٹھیک ہے ۔
ماسی پھتے ۔ تو پھر تیرے منہ پہ باراں کیوں وجے ہوئے ہیں بتا اپنی ماسی کو کیا پریشانی ہے :؟
حوالدار تابعدار ۔ ماسی تجھے تو پتہ ہے کہ میری بیوی سخت بیمار رہتی ہے لیکن میں کبھی حوصلہ نہیں ہارتا اس کا بڑا خیال رکھتا ہوں اپنی اوقات کے مطابق اس کا علاج معالجہ بھی کرواتا ہوں،پر اس کی طبیعت سنبھلتی ہی کہا ں ہے ۔گرمیوں میں اس کی صحت زیادہ بگڑ جاتی ہے اب جیسے ہی گرمی شروع ہوئی ہے تو اس کی بیماری زور کر گئی ہے ۔
ماسی پھتے ۔ ہا ں پُتر مجھے اندازہ ہے تیری پریشانیوں کا اور تو جس طرح اپنی ٹبری (بیوی) کا خیال رکھتا ہے ناں دیکھ لئیں اللہ تیرے اوپر بڑا راضی ہوگا محلے میں جب کبھی کسی میاں بیوی کی لڑائی ہوجائے تو میں ان کو تیری مثال دیتی ہوں تیرے حوصلے کو بڑی داد دیتی ہوں سارے محلے والے تیری بڑی تریف (تعریف) کرتے ہیں پُتر ۔ ویسے پُتر ایک بات تو بتا تو اپنی بیوی کو کسی اچھے ڈاکٹر کو کیوں نہیں دکھاتا پُتر ؟
 حوالدار تابعدار ۔ ماسی اس بار یہ ہی پروگرام بنایا تھا کہ مہینے ڈیڑھ کی چھٹی لے کے اسے لاہور یا کسی دوسرے بڑے شہر لے جاﺅں لیکن ماسی
ماسی پھتے ۔ لیکن کی پُتر؟چھٹی نئیں ملی تجھے ؟تیرے افسر تیری بات نئیں مانتے ؟ کیا ہو ا ہے ؟
حوالدار تابعدار ۔ اوہ نئیں ماسی ایسی بات نہیں چھٹی تو مجھے مل گئی ہے بڑے اچھے اچھے افسران بھی ہیں ہمارے محکمے میں جو میری پریشانی کو سمجھتے ہیں ۔اب اگلی بات نے پریشان کیا ہوا ہے
masi
ماسی پھتے ۔ چھٹی بھی تجھے مل گئی ہے تیرے افسر وی تیری بات کو مانتے اور تیری پریشانی کو سمجھتے ہیں
 پھر تجھے کیا ہوا ہے ؟تیری آواز کیوں بھری بھری لگتی ہے تو ،تو ایسے پریشان ہے جیسے کسی چھوٹے سے (بال) بچے کا اکلوتا کھڈونا (کھلونا) ٹُٹ جائے یا گواچ (گم) جائے اور دوبارہ اسے وہ کھلونا واپس ملنے کی امید ہی نہ ہو ۔پُتر تجھے چھٹی مل گئی ہے تو جا ! جا کے اپنی ٹبری کا علاج کروا میرا پُتر۔
حوالدار تابعدار ۔ ماسی چھٹی ضرور مل گئی ہے پر تنخواہ ساری کٹ جائے گی ،
ماسی پھتے ۔ ہیں۔ہیں کی مطلب تنخواہ کٹ جائے گی ؟تجھے اب تنخواہ نہیں ملے گی ؟تو کسی فیکٹری کا مزدور ہے یا کارخانے کا چوکیدار کہ چھٹی لے گا تو تنخواہ نہیں ملے گی
حوالدار تابعدار ۔ ماسی تنخواہ ملے گی لیکن پوری نہیں ملے گی جو پولیس ملازم 10 دن سے زیادہ چھٹی لیتا ہے اس کی وہ رخصت ،رخصت کلا ں تصور ہوتی ہے اور ہر رخصت کلا ں لینے والے کی تنخواہ سے تقریباََ آٹھ ہزار روپے کٹوتی ہو جاتی ہے
ماسی پھتے ۔ ہا ،،،، ہائے پتر یہ تیر ی بات میری سمجھ سے تو بار (باہر ) ہے بس ۔
حوالدار تابعدار ۔ ہا ں ماسی یہ بات تو میر ی بھی سمجھ سے باہر ہے اب دیکھ ناں ماسی تو محکمہ تعلیم کا ہی حساب لگا لے ماسی وہ رکھا (اللہ رکھا ) نہیں ہے وہ پرائمری سکول کا چپڑاسی ہے اس کے ٹھاٹ باٹھ دیکھ ذرا،،،، سکول جاتا ہے اپنی ڈیوٹی کرتا ہے اور گھر میں اس نے کریانے کی دکان بنائی ہوئی ہے تین بھینسیں رکھی ہوئی ہیں جن کا دودھ بیچتا ہے سکول سے واپس آکر کتتی خوش اسلوبی سے اپنا کاروبار کرتا ہے اور امیرانہ زندگی گزار رہا ہے سال میں تین ماہ گرمیوں کی چھٹیاں گزارتا ہے اس کی تو کبھی تنخواہ نہیں کاٹی گئی ہر اتوار اور ہر سرکاری چھٹی اسے محمکے کی طرف سے وراثت میں ملی ہوئی ہے ،اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس نے کبھی بھی ڈیوٹی کی غرض سے کسی دوسرے شہر یا ضلع میں بھی نہیں جانا ٹیچروں کے بھی مزے ہوتے ہیں چھٹیاں اضافی الاﺅنسز اساتذہ کے بچوں کے تعلیمی اخراجات گورنمنٹ برداشت کرتی ہے ، واپڈا والوں کے گھر بجلی مفت ہوتی ہے واپڈا والے بھی زیادہ تر اپنے شہر اور گھر کے آس پاس ہی ڈیوٹیاں کرتے ہیں اور ہم پولیس والے کبھی پنجاب کانسٹیبلری میں کبھی پولیس ٹریننگ کالجز اور سکول کی سیکیورٹی ڈیوٹی میں کبھی ڈیپوٹیشن پہ دوسرے اضلاع میں ہم پورا پنجاب گھومتے ہیں ماسی کبھی کبھی تو ہم زیادہ کشیدگی کے پیش نظر اسلام آباد تک بھی جاتے ہیں اور کئی کئی دن وہیں ڈیوٹی کرتے رہتے ہیں اضافی اخراجات کے ساتھ ساتھ ہمیں گھر بیوی بچوں سے دور رہنا پڑتا ہے گرمی سردی دھوپ چھاﺅں موسمی حالات جیسے بھی ہوں ہیلمٹ جیکٹ لانگ شوز بھاری اسلحہ اٹھائے پولیس ملازمین سڑکوں چوراہوں پہ کھڑے نظر آئیں گے بیسیوﺅں ایجنسیاں اور افسران ہمیں چیک کرتے ہیں ہمیں اپنے یونیفارم اور ٹرن آﺅٹ کا بھی خیال رکھنا ہوتا ہے ملکی حالات اور دہشت گردی کی مکروہ کاروائیوں مقابلہ ہم کرتے ہیں  ، ہم نوکری کے ساتھ کوئی اپنا کارو بار بھی نہیں کر سکتے ہمیں بس اپنی تنخواہ پہ ہی گزارا کرنا ہوتا ہے اور اگر کسی ضرورت یا پریشانی کے سبب چھٹی لے لیں تو ہماری تنخواہ سے کٹوتی ہو جاتی ہے بس ماسی کچھ سمجھ میں نہیں آتا کیا کروں ۔
ماسی پھتے ۔ ہاں پتر یہ تو واقعی نا انصافی ہے ۔وہ لطیف نہیں ہے ؟ وے وہ سغراں کا بندہ (خاوند)
حوالدار تابعدار ۔ ہاں ماسی وہ فوجی لطیف کیا ہوا اسے ؟
ماسی پھتے ۔ پتر اسے کیا ہونا ہے اللہ اسے سلامت رکھے ۔
حوالدار تابعدار ۔ پھر ماسی کیا ہوا ؟
ماسی پھتے ۔ تابعدار پتر وہ پچھلے دنوں تِن (تین) مہینے کی چھٹی آیا ہوا تھا ۔ میرے پاس اکثر آتا رہتا تھا کوئی نا کوئی سودا ،،، چینی پتی لینے اس نے تو کبھی ایسی کوئی بات نہیں کی تھی یہ تنخواہ شنخواہ کی کٹوتی والی بلکہ وہ تو بتا رہا تھا کہ اس کے افسروں نے اسے ریل گڈی (ریل گاڑی ) کا ٹکٹ بھی سرکاری دیا ہے اس کے بچے کتنے اچھے سکولوں میں پڑھ رہے ہیں لطیف کے امی ابو یا اس کی ٹبری جب بیمار ہوتے ہیں تو فوجیوں کے وڈے ہسپتال سے مفتی علاج کرواتے ہیں ،پھر تیری تنخواہ کیوں کاٹ لیں گے تیرے افسر ؟دکان کا ادھار نئیں دینا تو نہ دے اگلے مہینے دے دینا پر پتر اپنی پوہلی (بھولی ) ماسی کو چکر تو نہ دے
(حوالدار تابعدار ہنستے ہوئے )
اوہ نہیں ماسی تجھے کیا چکر دینا ہے مجھے تو خود چکر آئے ہوئے ہیں، پولیس والوں کے بچوں کے لیے پورے پنجاب میں کوئی ایک بھی سکول نہیں کوئی ایسا ہسپتال نہیں جہاں ہمارے بیوی بچے یا والدین علاج کروا سکیں  پولیس والوں کی بیواﺅں اور پولیس شہداء کی بیٹیوں اور بیویوں کے لیے کوئی دستکاری سکول نہیں ہم اپنے گھر کے قریبی تھانے میں ڈیوٹی نہیں کر سکتے ماسی کیا کیا پریشانیا ں گِنواﺅں اوپر سے اس سوچ نے پریشان کیا ہوا ہے کہ کیا بنے گا ساری تنخواہ کا بیڑہ غرق ہو جائے گا ۔
ماسی پھتے ۔ انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے اچھا اچھا اب میری سمجھ میں آئی ہے ساری بات کہ پُلس والوں کی تنخواہ سے پیسے کیوں کاٹ لیتے ہیں تیرے وڈے افسر ؟
حوالدار تابعدار ۔ اچھا ماسی مجھے بھی بتا ذرا کہ کیوں کاٹ لیتے ہیں ہماری تنخواہ جب ہم دس دن سے زیادہ چھٹی لیں تو؟
ماسی پھتے ۔ پتر یہ جو پُلس والے ہوتے ہیں ناں وہ بڑ ے چالاک ہوتے ہیں اور تمھارے وڈے افسر وی پُلس والے ای ہوتے ہیں تو پھر وہ ایک دوسرے کی چالاکیو ں کو جانتے ہیں انھیں پتہ ہوتا ہے کہ اگر ہم نے ان کی تنخواہ نا ں کاٹی تو یہ پھر ہر دو مہینے بعد کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر آجائیں گے درخواست لیے کہ ہمیں لمی (لمبی ) چھٹی چاہیے اس لیے یہ تمھاری تنخواہ کاٹ لیتے ہیں ۔
حوالدار تابعدار ۔ ہاں ماسی میں تیری یہ بات مانتا ہوں ۔میں کب کہتا ہوں کہ رخصت کلاں لینے والے کی تنخواہ نہ کاٹیں ۔
ماسی پھتے ۔ ہیں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ابھی تو کچھ دیر پہلے تو روہنی شکل بنا ئے ہوئے تھا کہ میری تنخواہ کاٹ لی جائے گی اب کہہ رہا ہے کہ میں کب کہتا ہوں کہ تنخواہ نا کاٹیں ،،، پُتر مجھے لگتا ہے تو شدائی (پاگل ) ہو گیا ہے ۔
حوالدار تابعدار ۔ اوہ نہیں ماسی میر ی پوری بات تو سُن لے ۔ میں کہتا ہوں کہ جو بندہ سال میں ایک بار کسی پریشانی یا ضرورت کے پیش نظر چھٹی لے اس کی تنخواہ سے کٹوتی نہیں ہونی چاہیے اور جو بندہ ایک سے زیادہ بار رخصت کلاں مانگے اس کی تنخواہ بے شک کاٹ لیں عادی لوگوں کو ہرگز معافی نہیں ملنی چاہیے پر ماسی جو بندہ کسی پریشانی کی وجہ سے چھٹی لیتا ہے اس کی تو امدار کر نی چاہیے نا کہ اس کی تنخواہ سے کٹوتی کر کے اس کی پریشانی بڑھا دینی چاہیے ۔
ماسی پھتے ۔ بالکل پتر یہ تیری بات بالکل ٹھیک ہے جو بندہ چھٹیوں کا عادی مجرم ہو اس کی تنخواہ تو ضرور کاٹ لینی چاہیے مگر ضرورت مند کی تو مدد کرنی چاہیے یہ تیر ی بات مجھے بڑی پسند آئی ہے ۔۔
حوالدار تابعدار ۔ ماسی تیرے پسند آنے سے یا نہ آنے سے کیا فرق پڑتا ہے مزہ تو تب ہے کہ میری یہ بات افسران بالا تک پہنچ جائے اور باقی سرکاری محکموں کی طرح ہمارے حقوق کا بھی خیال رکھا جائے نہ کہ ہمارے ساتھ سوتیلی اولاد والا سلوک کیا جائے ۔
ماسی پھتے ۔ اچھا پُتر میں تیرے محکمے کے لیے دعا کروں گی اور افسران کے لیے بھی دعا کروں گی کہ وہ اپنے تھلے (ماتحت ) کام کرنے والوں کے حقوق کا خیال رکھیں اور حکمرانوں کے لیے بھی دعا کروں گی کہ وہ پُلس کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھیں عید ورہینے پہ بھی ڈیوٹیوں پہ کھڑے جوانوں کو نہ بھولیں ۔ دیکھ لینا پُتر تیری ما سی کی دعا جرور(ضرور) قبول ہو گی اچھا جا میرا پُتر اپنی ٹبری کو کسی اچھے ڈاکٹر کو دکھا اور پریشان نہ ہوئیں پُتر اللہ کوئی چنگا راستہ کھول دے گا ۔کسی چیز کی جرورت ہو تو اپنی ماسی کو بتانا ۔جا میرا پُتر تیرا رب راکھا ۔جیندا رہ سنیں ساتھیاں ۔
حوالدار تابعدار ۔ مسکراتا ہوا شکریے کے ساتھ روانہ ہو جاتا ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *