ملکہ کوہسار زندہ باد!

ملکہ کوہسار زندہ باد!Anjum Niaz
ملکہ فوت ہو چکی ہے.... ملکہ زندہ باد!
ٍ مری، جس کو پہاڑوں کی ملکہ کہا جاتا تھا، اب مرچکی ہے لیکن تصورات کے محل میں ایک نئی ملکہ تخت نشین ہے۔ سلسلہِ روز شب ، جونت نئے حادثات کا نقش گر بنتاہے، جاری رہتا ہے ۔ اگرچہ ماضی کی پرکیف یادیں اور جادوئی مناظر غائب ہو چکے ہیں ، روح کی تاروں کو چھیڑنے والی دھن خاموش ہے اور گہری وادیوں کے سکوت کا آئینہ مچی ہوئی دھما چوکڑی نے چکنا چور کر دیا ہے لیکن ، ’’دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو‘‘... کی پیروی کرتے ہوئے ان گرمیوں میں ہم اپنا ٹھکانا ایک مرتبہ پھر اپنے دل کی ملکہ (مری) کے دل میں بنانے کا عزمِ صمیم کر چکے ہیں کیونکہ دل کے نہاں خانوں میں جلوہ فگن تخیلات کی شیشہ گری گزرتے ہوئے وقت کی ہنگامہ خیزی اور معروضی حقائق کی سنگینی سے بے نیاز رہتی ہے ۔ یہاں ابھی بھی فرازِ کوہ سے آتی ہوئی ندی کی موجوں میں عروسِ فطرت اپنا رخِ زیبا دیکھ کر شرماتی اور مسکراتی رہتی ہے۔ چناچہ یہ بات تعجب خیز نہیں کہ اگرچہ ہم محاورۃً نہیں بلکہ عملاً سات سمند رپار ہیں لیکن مری کی وادیاں ،پھول اور درخت چشمِ تخیل میں ابھی بھی تازہ ہیں۔ جب تازہ کھلے ہوئے پھول، بھیگی ہوئی شاخیں، مسکراتے ہوئے گلاب ، مہکتی ہوئی چنبیلی ، بل کھاتے ہوئے راستے، دھندکا نقاب اُڑھے ہوئے پہاڑی چوٹیاں امریکہ میں نظر آئیں تو ہم بے اختیار کہہ اٹھتے ہیں کہ ...’’یہ منظر بالکل مری جیسا ہے‘‘۔ مری کانام سن کر مجھے اکثر وہ ابر آلود دن یاد آجاتا ہے جب ہم مری میں تھے اور جھاگ اُڑاتی ہوئی ندیاں پہاڑوں سے بل کھاتی ہوئی بہہ رہی تھیں۔ایسا لگتا تھا کہ سبز کمخواب پر کسی نے پگھلی ہوئی چاندی سے نقش و نگار بنا دیے ہوں۔
آج مری کی یاد کا موجب ڈاکٹر شاہدہ جعفری کی ایک ای میل ہے جس میں اُنھوں نے کہا ہے...’’یہ تم لوگ نیوجرسی کے اکتادینے والے ماحول میں کیا کر رہے ہو؟ آؤ تمھیں مری کی وادیاں صدادیتی ہیں۔‘‘شاہدہ ہر سال اپنے بیٹے اور بیٹی سے ملنے امریکہ آتی ہیں۔ وہ یہاں جی بھر کے لطف اندوز ہوتی ہے، نجی جہاز پر سیر کرتی ہے، مین ھاٹن میں براڈوے پر شو دیکھتی ہے ، لیکن ان کے رویے سے لگتا ہے کہ ...’’جانے کس چیز کی کمی ہے ابھی‘‘۔ آخری مرتبہ جب وہ امریکہ آئیں تو اُنھوں نے کہا کہ اس بھری دنیا(امریکہ ) میں دل نہیں لگتا، اس سے تو میرا کشمیر پوائٹ پر چھوٹا سا گھر زیادہ پر لطف ہے۔میں اگلی گرمیاں وہیں گزاروں گی۔‘‘
ڈاکٹر شاہدہ جعفری ‘‘وومین یونیورسٹی کوئٹہ ‘‘ کی بانی اور پہلی وائس چانسلر ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ پاکستان دنیا کا بہترین ملک ہے۔ اور تو اور ، تشدد کے زخموں سے چورچور کوئٹہ ابھی بھی اُنہیں صدا دیتا ہے۔ وہ اسی شہر میں پلی بڑھی تھیں اور یہیں اُنھوں نے درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا، جس کی معراج خواتین یونیورسٹی کا قیام تھا۔ اس یونیورسٹی میں صوبے بھر کی ہزاروں نوجوان خواتین نے سائنس اور آرٹس میں ماسٹر کیا ہے۔ ان میں سے بہت سی آج پیشہ ور فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔ وہ تعلیم یافتہ بیویاں اور مائیں ہیں۔ میں نے ان سے گزشتہ دنوں بولان میڈیکل کالج کی بم دھماکے اور فائرنگ میں ہلاک ہونے والی 14 طالبات اور ٹیچرز کے بارے میں پوچھا ۔ اُنھوں نے کہا...’’ جب یہ واقعہ پیش آیا تو مجھے ایسا لگا جیسا دھشت گردوں نے میرے پھولوں کو مسل دیا ہو۔ میری جنت اجڑ گئی ہو۔ میرا بلوچستان ایسا نہیں تھا۔‘‘جب وہ وی سی تھیں تو اُنھوں نے کیمپس کی سیکورٹی پر خصوصی توجہ دی تھی ۔ کیمپس کے اندر ماحول خاصا نرم اورگھٹن سے پاک تھا۔ اُن کی کوشش تھی کہ یہاں تعلیم کا معیار بہتر بنایا جائے اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والی طالبات کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ان کے جاندار رویے کی بدولت کسی میں کیمپس یا کوئٹہ شہر میں طالبات سے شرارت کرنے کی جرات نہیں تھی۔ اگرچہ وہ نسلی طور پر بلوچ نہیں تھیں لیکن مقامی افراد اُنہیں نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ وہ ان کے مشکور تھے کہ وہ ان کی بیٹیوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کررہی ہیں۔ اُنہیں تعلیمی سرگرمیوں میں اُس وقت کے چانسلر، گورنر بلوچستان، کی مکمل حمایت حاصل تھی۔
کوئٹہ یونیورسٹی کا نام سردار بہادر خان ، جو ایک مشہور سیاست دان اور ایوب خاں کے بھائی تھے، کے نام پر رکھا گیا۔ اب اس میں ایم فل کی کلاسز بھی شروع ہوچکی ہیں۔ ڈاکٹر شاہدہ کا کہنا ہے کہ ان کی بہت سی طالبات وہاں پڑھا رہی ہیں، جبکہ کچھ بیرونِ ملک اعلی تعلیم حاصل کررہی ہیں، کچھ نے پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کرکے اعلیٰ ملازمتیں حاصل کی ہیں۔ وہ صوبے کے مختلف کالجوں میں پڑھا رہی ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ کا کہناہے کہ نوجوان نسل اپنے حالات سے خائف ہوئے بغیر آگے بڑھ رہی ہے۔ وہ غیر متزلزل عزم رکھتی ہیں اور ناامیدی کو اپنے پاس نہیں آنے دیتیں۔ جبکہ دیگر ممالک میں ہونے والا ایک واقعہ وہاں کی زندگی کو مفلوج کردیتا ہے۔ ڈاکٹر شاہدہ کا کہنا ہے کہ پاکستانیوں کی یہی چیز اُنہیں سب سے اچھی لگتی ہے کہ یہاں لوگ انتہائی نامساعدحالات میں بھی آگے بڑھنے کا جذبہ رکھتے ہیں اور ان کی امیدوں کے شیش محل صرف (جیسا کہ کچھ دقیانوسی اور نام نہاددانشور سمجھتے ہیں) کریڈٹ کارڈ کی بنیاد پر ہی تعمیر نہیں ہوتے ہیں۔ ہم ایک زندہ قوم ہیں اور ہم محنت کرنا جانتے ہیں۔ بہرحال وہ مجھ سے مکالمہ کرتے ہوئے ماضی کی یادوں کی روشنی میں مستقل کی جھلک دیکھتی اور دکھاتی رہتی ہیں۔
ڈاکٹر شاہدہ نے مجھے بتایا کہ ان کے آباؤاجداد نے 1924 میں ایک انگریز کرنل سے کشمیر پوائنٹ پر گورنرھاؤس کے نزدیک تیس کنال زمین خریدی۔ ہر سال وہ موسمِ گرما میں تمام اہل خانہ، ملازمین، جرمن ڈاگ او رتمام کے کھانے پینے کی اشیا لے کر ملکہِ کوہسار کے دامن میں آجاتے ہیں۔ تمام خاندان وہاں گورنر ھاؤس کے نزدیک چہل قدمی کرکے یا ’’پنج پانڈو‘‘ کی سیر کرکے بہت خوش ہوتا ہے۔ غروب ہوتے ہوئے ارغوانی سورج کی درختوں کی ٹہنیوں کے درمیان سے چھن چھن کر آنے والی کرنوں سے بننے والے طویل سایوں کے ساتھ مال پر چلنا اور کریم سینڈوچ اور چپس کھانا بہت اچھا لگتا ہے۔ریستورانوں میں بجنے والی موسیقی بہت دلفریب ہوتی ہے ، خاص طور پر ہفتے کی شام کی جلوہ گری کسی اور ہی دنیامیں لے جاتی ہے۔ شاہدہ جعفری کا کہنا ہے کہ پرانے مری کے اب بہت کم گھر باقی رہ گئے ہیں۔ تقسیم سے پہلے مری میں بھارتی فلم انڈسٹری کا ایک بڑا نام پرتھوی راج کپور رہائش پذیر تھا۔ اس کا بنگلہ ڈاکٹر شاہد ہ کے گھر سے صرف دوگز کے فاصلے پر تھا۔ پرتھوی راج اکثر اپنی بیوی کو ڈاکٹر شاہدہ کے دادا، ڈاکٹر محمد حسین ، کے پاس علاج کے لیے لاتا تھا۔ ان کے دادا نے مری کے نزدیک ٹی بی کے مریضوں کے علاج کے لیے Samli Sanitarium قائم کیا تھا۔ سید مراتب علی کا خاندان گھوڑا گلی میں پورایک پہاڑاپنی ملکیت میں رکھتا تھا۔ آج کل یہ سیدہ عابدہ حسین اور فخرامام کا گھر ہے۔ پنجاب کے سابقہ گورنر میاں امین الدین کا بھی کشمیر پوائنٹ پر گھر تھا ۔ ڈاکٹر شاہدہ جعفری کو یاد ہے کہ ’’انٹی امین الدین ‘‘ بہت باوقار اور سلیقہ مند خاتون تھیں۔اُن کے گھر پر انگریزی آداب کے مطابق کھانا اور کشمیری چائے پیش کی جاتی تھی۔ ان کی وفات کے بعد وہ گھر فروخت ہو گیا۔ آج کل مری میں سب سے بڑا گھر وزیرِ اعظم کی ذاتی رہائش گاہ ہے۔ اس کا بہت بڑا گیٹ ہے ااور اس کے باہر پیتل کا شیر ایستادہ ہے۔
مری میں گزشتہ پندرہ برسوں سے مزید تعمیرات پر پابندی کے باوجود بہت سی بلند و بالا عمارتوں نے اس کی خوبصورتی کو گہن لگا دیا ہے۔ شاہدہ نے مجھے بتایا کہ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں سات سو سے زائد پرندوں کی اقسام دریافت ہوچکی ہیں۔ یہ سلسلہ’’بڑا کوہ ‘‘ ، مری سے شروع ہوتا ہے۔ تمام یورپ میں مجموعی طور پر پرندوں کی اتنی اقسام نہیں پائی جاتی ہیں۔ یہاں دیودار، صنوبر، کیکرسمیت بہت سے درختوں اورجھاڑیوں کی اقسام پائی جاتی ہیں۔ ہم یہ کہنے سے کیوں شرماتے ہیں...’’چاند میری زمیں ، پھول میرا وطن ‘‘۔

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں reproduction کی اجازت نہیں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *