یہ ایک اوپن اینڈ شٹ کیس ہے

ایم ضیا الدین

M zia ul din

یہ ایک اوپن اینڈ شَٹ کیس ہے۔ لیکن اس ملک کی عجیب و غریب نظام نے فراڈ اور کرپشن کے اس کیس کو ایک سیاسی ڈرامہ بنا دیا ہے۔ ہر نئے سین کے ساتھ یہ ڈرامہ نئے رنگ اختیار کرتا نظر آتا ہے۔ جے آئی ٹی کی طلبی پر پرائم منسٹر اور ان کی فیملی کے افراد کی آمد کا سلسلہ بھی کوئی خاص مثالی واقعہ نہیں تھا۔ بھٹو خاندان کی تکالیف کے مقابلہ میں جو شکایات شریف خاندان کر رہا ہے اس کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہیں۔ ان کی طرف سے اپنے آپ کو مظلوم بنا کر پیش کرنے کی کوشش کو عوام ایک حیلہ سے بڑھ کر کچھ نہیں سمجھ رہی۔ اگرچہ ان تفریحی پرفارمنسز کی اہمیت پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا لیکن جو تکلیف اور دکھ کا اظہار حکومت کی طرف سے کیا جا رہا ہے وہ سب سے زیادہ قابل توجہ ہے۔

عمران خان جنہوں نے شریف خاندان کی ناک میں دم کر رکھا ہے ان کی ہر پرفارمنس حقیقی نظر آتی ہے۔ ان کی ڈلیوریاں بہت خوفناک دکھائی دیتی ہیں۔ وہ جارحانہ اور انتھک دکھائی دیتے ہیں۔ کاونٹر اٹیک میں ان کی جارحیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ عمران اور شریف خاندان کے بیچ ہونے والی جنگ میں چھ ممبران پر مشتمل جے آئی ٹی کو متنازعہ بنا دیا گیا ہے۔ حکومتی خاندان نے جے آئی ٹی ممبران کی دیانت داری پر سوال اٹھاتے ہوئے انہیں جمہوریت کی تباہی کا آلہ کار قرار دیا ہے جس کی وجہ سے جے آئی ٹی عوام کی رائے میں متنازعہ بن گئی ہے۔ دوسری طرف عمران خان نے حکومت کی طرف سے جے آئی ٹی پر حملوں کو ایک ہارے ہوئے کرپٹ لیڈر کا رد عمل قرار دیا ہے اور اس طرح جے آئی ٹی کو حد سے زیادہ اہم قرار دے کر اس کی غیر جانبداری پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

 جے آئی ٹی نے منی ٹریل اور تحقیق کے دوران اپنے تمام حاصل شدہ نتائج کو مخفی رکھ ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جو لوگ میڈیا میں پیشی کے بعد پریس کانفرنس کرتے تھے انہوں نے بھی میڈیا کو اپنے سوالات اور جوابات کی کوئی بھنک نہ لگنے دی۔ ہر بار جے آئی ٹی کے سامنے پیشی کے بعد حکومتی خاندان کے افراد نے پریس کانفرنس کے ذریعے جے آئی ٹی ممبران کی دیانت داری پر سوال اٹھائے ، اپنے مظلوم ہونے کا رونا رویا اور جمہوریت کے خطرے میں ہونے کا رونا رویا۔ یہ ڈرامہ اس قدر دلچسپ تھ اکہ بہت سے لوگوں کو یہ مطالبہ یاد ہی نہ رہا کہ وزیر اعظم سے احتساب سے قبل استعفی دینے پر مجبور کیا جائے کیونکہ ایک وزیر اعظم اپنی کرسی پر موجود رہتے ہوئے ہر طرح کے حربے استعمال کر سکتا ہے اورتفتیشی افسران کو ڈرا دھمکا کر یا خفیہ ڈیل کے زریعے انہیں خرید بھی سکتا ہے۔ سچ یہ ہے کہ جے آئی ٹی کی دیانت کا پارہ اس قدر اونچا ہو گیا ہے جس کی وجہ شریف خاندان اور عمران خان کے بیچ جاری جنگ ہے اور کوئی بھی یہ نہیں دیکھ پا رہا کہ ایک منتخب وزیر اعظم کو ا سکے ماتحت افسران کے سامنے پیش ہونے پر مجبور کیا گیا ہے۔جے آئی ٹی کی دیانت پر سوال اٹھائے بغیر یہ بات ذکر کرنا ضروری ہے کہ چھ میں سے چار جے آئی ٹی ممبران اپنی تعیناتی اور ترقی کے لیے وزیر اعظم کی انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔ ایک نئے سول ملٹری پیرا ڈائم میں آئی ایس آئی اور ایم آئی بریگیڈئیرز کا بھی کام بہت مختصر ہو چکا ہے۔ یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ وزیر اعظم کا نام پانامہ پیپرز میں شامل نہیں تھا۔ اور ان کے تینوں بچوں میں سے کوئی بھی کسی عوامی عہدے پر فائز نہیں ہے اور ان میں سے دو تو پاکستان کے رہائشی بھی نہیں ہیں۔ ان کے مالی معاملات برطانوی قوانین کے تحت ہیں۔ اس کے ساتھ جے آئی ٹی کا کام صرف اتنا تھا کہ وہ پتہ لگا سکے کہ آیا لندن فلیٹس لانڈرنگ کی رقم سے خریدے گئے تھے یا نہیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *