Site icon DUNYA PAKISTAN

الجھے ہوئے بابر اعظم کی فیصلہ کن موقعوں پر ’غیر یقینی‘ جو ان کے دور کپتانی کے اختتام کا باعث بن سکتی ہے

Share

بابر اعظم اور محمد رضوان 82 رنز کی شراکت جوڑ چکے تھے اور 30ویں اوور میں اپنی نصف سنچری مکمل کرنے والے بابر اب خاصے مطمئن دکھائی دے رہے تھے۔

لیکن احمدآباد کے نریندر مودی کرکٹ سٹیڈیم کی گھٹی ہوئی فضا میں اب بھی پاکستان کی پوزیشن پُراعتماد نہیں تھی۔ ماضی میں بابر نصف سنچری سکور کرتے ہی گیئر بدلتے تھے اور ان کا سٹرائیک ریٹ قدرے بہتر ہو جاتا تھا۔

تاہم 14 اکتوبر کی دوپہر انھوں نے اپنی روایتی شاٹ کا ایک بار پھر سہارا لیا، اور محمد سراج کی وکٹوں میں آنے والی گیند کو تھرڈ مین کی جانب کھیلتے ہوئے بولڈ ہو گئے۔ یہ ایک ’سافٹ ڈسمسل‘ تھا اور اس موقع پر بابر کی وکٹ نے ورلڈ کپ میں پاکستان کی تنزلی کے ایسے سفر کا آغاز کیا جو گذشتہ روز انگلینڈ کے خلاف شکست پر مکمل ہوا۔

اس میچ میں بابر کی وکٹ گرنے کے بعد باقی بیٹنگ لائن اپ صرف 36 رنز کا اضافہ کر سکی۔

اگلا میچ آسٹریلیا کے خلاف بنگلورو میں تھا۔ پاکستان 368 رنز کے ہدف کے تعاقب میں 27ویں اوور میں دو وکٹوں کے نقصان پر 176 رنز بنا چکا تھا۔ بابر خود تین چوکے لگا چکے تھے۔ گذشتہ برسوں میں پاکستان نے 350 رنز کے قریب کے اہداف کا جب بھی تعاقب کیا بابر کی اننگز کی اس میں کلیدی حیثیت رہی تھی۔

یہاں وہ ایڈم زیمپا کی قدرے شارٹ گیند پر شارٹ مڈ وکٹ پر کھڑے پیٹ کمنز کو کیچ دے بیٹھے۔ بابر یہی شاٹ ان کے سر کے اوپر سے بھی کھیل سکتے تھے، لیکن اس فیصلہ کن مرحلے پر وہ چوک گئے اور پاکستان کو اس میچ میں 62 رنز سے شکست ہوئی۔

افغانستان کے خلاف میچ میں بھی جب بابر 92 گیندوں پر 74 رنز تک پہنچ چکے تھے تو یہاں اننگز کو فنش کر سکتے تھے، لیکن یہ ساری محنت کرنے کے بعد نور احمد کی ایک باہر جاتی گیند پر ایکسٹرا کور کو کیچ تھما بیٹھے۔

جنوبی افریقہ کے خلاف بھی نصف سنچری اور آؤٹ ہونے کا تسلسل قائم رہا۔ گذشتہ چند برسوں سے بابر اعظم کے عروج کو قریب سے دیکھنے کے بعد ان کے ایسے موقعوں پر آؤٹ ہونے کا تسلسل خاصا حیران کن نہیں تھا۔

بابر عموماً دباؤ میں ہی اپنا بہترین کھیل سامنے لاتے ہیں لیکن گذشتہ چند ماہ سے ان میں وہ الجھن نظر آ رہی ہے جو اس سے پہلے ایشیا کپ یا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ میچوں میں دیکھنے کو ملتی تھی۔

تاہم یہ الجھن اور غیریقینی ہمیں ان کی قائدانہ صلاحیتوں میں ایک عرصے سے دکھائی دے رہی تھی۔

بابر اعظم نے سنہ 2016 میں پاکستان کے لیے ڈیبیو کیا تھا تاہم انھیں چار سال بعد بیٹنگ میں تسلسل کے ساتھ بہترین کارکردگی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کپتانی سونپی گئی تھی۔

اس وقت پاکستان کے چیف سیلیکٹر اور کوچ مصباح الحق تھے۔ آغاز سے ہی یہ تاثر ملا تھا کہ مصباح الحق کو اکثر اوقات ڈریسنگ روم سے بابر کی بہت سے معاملات میں رہنمائی کرنا پڑتی ہے۔

ماضی میں بابر اس حوالے سے پوچھے گئے سوالات پر مؤقف دے چکے ہیں۔ انھوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ ’مصباح بھائی انھیں مشورے ضرور دیتے ہیں لیکن میدان میں وہ اپنے فیصلے خود کرتے ہیں۔‘

تاہم پھر سنہ 2021 میں جب مصباح الحق عہدے سے ہٹے اور ان کی جگہ ثقلین مشتاق کی سربراہی میں کوچنگ سٹاف نے لی تو اس وقت بابر اعظم کا پہلا بڑا امتحان سنہ 2021 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی صورت میں سامنے آیا۔

اس ورلڈ کپ میں پاکستان نے انڈیا کو ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ شکست دی اور ٹیم سیمی فائنل تک ناقابلِ تسخیر رہی لیکن پھر آسٹریلیا کے خلاف میچ میں اس غیر یقینی اور الجھن کی پہلی جھلک نظر آئی۔

اس وقت دبئی میں کھیلے جانے والے میچوں میں دوسری بیٹنگ کرنے والی ٹیموں کو اوس پڑنے کے باعث برتری حاصل ہوتی تھی، اس لیے جب آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تو یہاں ایک جارحانہ آغاز اور بڑے ہدف کی ضرورت تھی۔

تاہم بابر اعظم کے 34 گیندوں پر 39 رنز پاکستان کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئے اور جہاں 190 یا اس سے زیادہ کا سکور بہتر ثابت ہوتا، پاکستان صرف 176 رنز ہی بنا سکا۔

اس میچ کی ہار کا ذمہ دار حسن علی کے ڈراپ کیچ کو سمجھا جاتا ہے لیکن پاکستان کی آغاز کے سات اوورز میں دفاعی بلے بازی بھی اس شکست کی وجہ بنی تھی۔

اس انداز میں تبدیلی لانا ممکن ہے اور اس کا مظاہرہ ورلڈ کپ میں روہت شرما نے کیا جن کے جارحانہ آغاز کی بدولت انڈیا کی بیٹنگ 300 سے زیادہ کے ٹوٹل بنانے اور اہداف کا تعاقب کرنے میں کامیاب ہو رہی ہے۔

بابر اعظم سنہ 2021 اور 2022 دونوں ہی ورلڈ کپ میں بلے کے ساتھ یہ جارحانہ اور پراعتماد آغاز فراہم کرنے میں ناکام رہے تھے اور یوں ایک مرتبہ سیمی فائنل اور ایک مرتبہ فائنل میں پاکستان کی ٹیم مضبوط پوزیشن پر ہونے کے باوجود ہار گئی۔

یہ فیصلہ کن چوٹ یا کاری ضرب نہ لگا پانا بابر اعظم کے اس کپتانی کے دور کی بدقسمتی رہی ہے جب ان کے پاس پی ایس ایل کے باعث ایک عرصے کے بعد میچ ونر کھلاڑی موجود تھے۔

یہ ہچکچاہٹ ہی ہے جو ان کی جانب سے میچ کی سمت تبدیل کرنے کی کوشش کرنے کی بجائے ’جو چل رہا ہے چلتا رہے‘ کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا کرنے پر مجبور کرتی ہے اور یوں بابر بطور کپتان بھی میچ پر گرفت حاصل نہیں کر پاتے۔

ان کے پاس ’پلان بی‘ اور ’سی‘ کا فقدان دکھائی دیتا ہے اور وہ اس دوران کچھ تبدیل کرنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں۔ بلے باز کے مطابق فیلڈ پلیسمنٹ کرنی ہو یا کسی پارٹ ٹائم بولر کو اوورز دینے ہوں بابر اس معاملے میں ہمیشہ دیر کر دیتے ہیں اور یوں میچ پاکستان کی گرفت سے نکل جاتا ہے۔

یہ ٹرینڈ ہمیں ان کی بیٹنگ اور کپتانی دونوں میں ہی دکھائی دیتا ہے کہ جب ٹورنامنٹ میں پریشر کے دوران ایک قدم آگے بڑھا کر کاری ضرب لگانے کی باری آئے تو بابر چوک جاتے ہیں اور روایتی، قدرے محفوظ انداز اپنانے پر اکتفا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

اس کی مثال ہمیں ٹیم سیلیکشن میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان کے بیچ کے اوورز کی وکٹیں گذشتہ ایک سال سے مسئلہ بنی ہوئی تھیں لیکن ٹیم نے شاداب کی بری پرفارمنس اور بعد میں نواز کی وکٹوں کے قحط کا توڑ نہیں ڈھونڈا۔

نتیجہ یہ ہوا کہ مسٹری سپنر ابرار احمد بینچ پر ہی بیٹھے رہ گئے۔ اس پورے ٹورنامنٹ میں جہاں پاکستان کی فاسٹ بولنگ انتہائی خراب رہی ہے وہیں سپنرز نے بھی بہت مایوس کیا ہے۔ جہاں باقی ٹیموں کے سپنرز مڈل اوورز میں سپن کے ذریعے بلے بازوں کے گرد جال بنتے رہے وہاں پاکستانی سپنرز الٹا مہنگے ثابت ہوئے۔

نسیم شاہ کی انجری، ان کا بیک اپ تیار نہ ہونا اور ورلڈ کپ سے پہلے سخت شیڈول کی ذمہ داری کرکٹ بورڈ اور ٹیم مینیجمنٹ پر عائد ہوتی ہے لیکن ورلڈ کپ کے لیے اسی سکواڈ پر اڑ جانے پر بابر اعظم پر بھی تنقید بنتی ہے۔

شاید بابر کی الجھن اور اضطراب کی وجہ گراؤنڈ سے باہر ہونے والے واقعات، بورڈ میں مسلسل تبدیلی اور تنخواہوں سے متعلق تنازعات ہوں، لیکن ایک غیر یقینی پاکستان ٹیم کی کپتانی کی ذمہ داری لے کر کوئی کسی اور چیز کی توقع کیسے کر سکتا ہے۔

اب جبکہ ایک اور ورلڈ کپ پاکستان کے پہلے ہی راؤنڈ میں باہر ہونے پر اختتام پذیر ہوا تو کپتان کو ہٹانے اور نئے سرے سے منصوبہ بندی کرنے کے حوالے سے ایک بار پھر ہنگامہ برپا ہے۔

اس سب کے دوران یہ اہم ہے کہ پاکستان میں الیکشن تین ماہ دور ہیں اور نئی حکومت آنے کے بعد عین ممکن ہے کہ نیا چیئرمین پی سی بی چارج سنبھالے۔

دسمبر میں آسٹریلیا سیریز میں پاکستان مشکل پچوں پر ٹیسٹ کھیلنے جا رہا ہے اور ایسے میں کپتانی کے حوالے سے شان مسعود، شاہین آفریدی، محمد رضوان اور سابق کپتان سرفراز احمد کے نام گردش کر رہے ہیں۔

آسٹریلیا سیریز کے لیے قرعہ کس کے نام نکلتا ہے، اس بارے میں تو آئندہ چند ہفتوں میں معلوم ہو جائے گا لیکن کیا پاکستان سنہ 2027 کے ورلڈ کپ تک اس مرتبہ کی گئی غلطیوں پر قابو پانے میں کامیاب ہو سکے گا یا نہیں، یہ وہ سوال ہے جس کا جواب اس غیر یقینی صورتحال میں کسی کے پاس نہیں ہے۔

Exit mobile version