لڑکیوں کو قرآن پڑھانے والے بزرگ ٹیچر نے شرمناک حرکت کردی

— فوٹو: بشکریہ بی بی سی

برطانیہ کے شہر کارڈِف میں چار جوان سالہ لڑکیوں کو مسجد میں قرآن کی کلاس کے دوران جنسی طور پر چھونے والے قرآن ٹیچر کو 13 سال کی سزا سنا کر جیل بھیج دیا گیا۔برطانوی اخبار ’دی گارجین‘ کی رپورٹ کے مطابق 81 سالہ محمد حاجی صدیقی مسجد میں طلبہ کو اپنے سامنے بٹھا کر قرآن کی تعلیم دیتے تھے، ایک دن انہوں نے بھری کلاس میں ان طالبات کو جنسی طور پر چھوا اور قرآن پڑھنے کے دوران غلطیاں کرنے پر انہیں کئی بار تھپڑ رسید کیے۔کارڈِف کراؤن کورٹ میں معاملے کی سماعت کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ محمد حاجی صدیقی کے پاس میٹل اور لکڑی کی بنی ہوئی اسٹِکس، جو وہ بچوں کو غلطی کرنے پر سزا کے طور پر انہیں پیٹنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔کارڈف کی مدینہ مسجد میں 30 سال سے زائد عرصے سے قرآن کی تعلیم دینے والے محمد حاجی صدیقی پر ٹرائل کے بعد جرم ثابت ہونے پر فرد جرم عائد کی گئی، عدالتی جیوری نے انہیں طلبہ کو مارنے پیٹنے کے 6 اور جنسی حملوں کے 8 الزامات میں مجرم پایا، جبکہ یہ واقعات 1996 سے 2006 کے درمیان پیش آئے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ جج اسٹیفن ہوپکِنز کیو سی نے محمد حاجی صدیقی کو 13 سال کی سزا سنائی اور ان کا نام ہمیشہ کے لیے بطور ’جنسی حملہ آور‘ کے طور پررجسٹر کرنے کا حکم دیا۔اسٹیفن ہوپکِنز کا حکم سناتے ہوئے محمد حاجی صدیقی کو مخاطب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’چاروں شکایت کنندہ واقعی بہت بہادر ہیں جنہوں نے باضابطہ شکایت درج کراتے اور آپ کے خلاف شواہد پیش کرتے ہوئے نہ صرف ذاتی بلکہ ثقافتی رکاوٹوں کو بھی پار کیا۔‘انہوں نے کہا کہ محمد حاجی صدیقی کو، جنہوں نے اپنے خلاف تمام الزامات کو مسجد کے دیگر اراکین کی جانب سے سازش قرار دیا، اس بات کا بلکل اندازہ نہیں کہ ان کے ایکشنز سے دوسروں کو کیا تکلیف پہنچی۔معاملے کی سماعت کے دوران عدالت میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ محمد حاجی صدیقی ہانگ کانگ میں پیدا ہوئے اور 1967 میں برطانیہ آنے سے قبل پاکستان میں بھی مقیم رہے۔وہ کارڈف کی مدینہ مسجد کے رکن تھے اور اس کے معاملات سنبھالنے میں پیش پیش تھے، جبکہ وہ پرائمری اسکول کے طلبہ کو قرآن کی تعلیم بھی دیتے تھے۔محمد حاجی صدیقی کے خلاف پولیس نے 2006 میں دو لڑکیوں کی شکایت پر پہلی بار تحقیقات کا آغاز کیا تھا، تاہم حاجی صدیقی نے الزامات کو مسترد کردیا۔مزید دو لڑکیوں کی شکایت پر ان کے خلاف 2016 میں دوبارہ تحقیقات کا آغاز ہوا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *