رفیق تارڑ اور سرتاج عزیز، دونوں غلط

munir ahmed munir
تحریکِ پاکستان کے ایک کارکن کرنل (ر) سید امجد حسین کا 19 جون 2017ء کو انتقال ہوا۔ چیئرمین نظریۂ پاکستان ٹرسٹ جسٹس (ر) محمد رفیق تارڑ، وائس چیئرمین ڈاکٹر رفیق احمد، سیکرٹری ٹرسٹ شاہد رشید کے علاوہ کرنل (ر) سلیم ملک، جسٹس (ر) آفتاب فرخ اور فاروق الطاف وغیرہ کی طرف سے 20 جون کے نوائے وقت میں ایک تعزیتی بیان شائع ہوا: ''سید امجد حسین نے حمید نظامی کے ساتھ مل کر علامہ اقبالؒ کی ہدایت پر مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن پنجاب کی بنیاد رکھی‘‘۔
2 جولائی 2017ء، نوائے وقت لاہور۔ اسلامیہ کالج ریلوے روڈ کے 125 برس مکمل ہونے کی تقریب۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے کہا: ''1937ء کے الیکشن میں پنجاب میں سے مسلم لیگ کو صرف 2 سیٹیں ملیں جس کی وجہ سے قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے حمید نظامی کی سربراہی میں مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کی بنیاد رکھی، اور اس کا آغاز گورنمنٹ اسلامیہ کالج ریلوے روڈ سے کیا‘‘۔
دونوں بیانات غلط۔ نہ علامہ اقبالؒ کی ہدایت پر پنجاب مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن وجود میں آئی نہ قائد اعظمؒ کی خواہش پر۔ دونوں شخصیات کو تو پتا بھی نہیں تھا کہ یہ کچھ ہونے جا رہا ہے۔ لیکن ہمارے مقررین، لکھاریوں اور بیان جاری کرنے والوں کے کیا کہنے! کہ اس سے کون سا آسمان ٹوٹ پڑے گا۔ وہ اس سے بھی بے نیاز ہوتے ہیں کہ ان کا یہ خلافِ واقعہ ارشاد آنے والے غیرذمہ دار لکھاریوں بلکہ نام نہاد ''محققین‘‘ کے لیے مستند قرار پائے گا۔ ایسی بودی، واہی اور بے سروپا کہانیوںکی گھڑت کے پیچھے ان میں سے کوئی ایک یا سارے ہی عنصر ہوتے ہیں: اولاً، لاعلمی۔ ثانیاً، جوشِ خطابت۔ ثالثاً، مرحوم کے پسماندگان کی شادمانی۔ رابعاً، پبلک ریلیشننگ۔ خیر، نظریۂ پاکستان ٹرسٹ اور مشیر خارجہ کے مذکورہ بیانات تاریخ کی کسوٹی پر قطعاً پورے نہیں اترتے۔
لکھنؤ، 1936ء۔ غیر فرقہ وارانہ تنظیم آل انڈیا سٹوڈنٹس فیڈریشن کانفرنس کی صدارت قائد اعظمؒ نے کی۔ اور طلبہ کو متحد رہنے کی تلقین کی۔ تب قائد اعظمؒ مسلمان طلبہ کے لیے کسی جداگانہ تنظیم کے حامی نہ تھے۔ جب آل انڈیا سٹوڈنٹس فیڈریشن نے سیاسی لحاظ سے فرقہ وارانہ روپ دھارنا شروع کر دیا تو محمد نعمان کی قیادت میں لکھنؤ میں ہی آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کانفرنس منعقد ہوئی، جو ناکام رہی۔
پنجاب مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن وجود میں آتی ہے یکم ستمبر 1937ء کے روز۔ اس کی وجوہ اور تفصیل بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالسلام خورشید مرحوم اپنی آپ بیتی ''رو میں ہے رخشِ عمر‘‘ میں لکھتے ہیں: ''9 اگست1937ء کا ذکر ہے، جناب حمید نظامی میرے ہاں مسلم ٹاؤن میں تشریف فرما تھے..... باتوں باتوں میں طلبہ کی تحریک کا ذکر آیا۔ اور اسی سے یہ تجویز ابھری کہ پنجاب مسلم سٹوڈینٹس فیڈریشن قائم کی جائے..... چنانچہ حمید نظامی صاحب نے ایک بیان کا مسودہ تیار کیا۔ اس پر کچھ دوستوں کے دستخط کرائے گئے اور نقول اخبارات کو بھیج دی گئیں..... نظامی صاحب کے دستخط اس بیان پر نہیں تھے، کیونکہ انہیں بیان کی اشاعت کے بعد اسلامیہ کالج یونین کی طرف سے ''پنجاب مسلم سٹوڈینٹس فیڈریشن‘‘ کی تجویز کا خیرمقدم کرنا تھا..... چند روز بعد حمید نظامی نے اسلامیہ کالج یونین کے سیکرٹری کی حیثیت سے اس تجویز کا خیرمقدم کیا..... آخر یکم ستمبر 1937ء کو تحریک کے داعیوں کا ایک مختصر سا اجتماع اسلامیہ کالج کے سٹاف روم میں منعقد ہوا، جہاں اتفاقِ رائے سے پنجاب مسلم سٹوڈینٹس فیڈریشن کی بنیاد رکھی گئی۔ اس اجلاس کی صدارت میاں محمد شفیع (م ش) نے کی۔ عارضی انتخابات ہوئے۔ حمید نظامی صدر منتخب ہوئے اور محمد شفیع نائب صدر۔ میں سیکرٹری بنا اور عمادالدین احمد جائنٹ سیکرٹری۔ فنانشل سیکرٹری کے عہدے پر شاہد حسین متقی فائز ہوئے..... دوسرے دن ہمارا ایک وفد حضرتِ علامہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت تک یہ تحریک صرف طلبہ تک محدود تھی۔ فیڈریشن کے محرکین میں سے کوئی شخص بھی کسی مسلمان رہنما سے نہیں ملا تھا۔ اور ہندو اخبارات کا یہ الزام بے بنیاد تھا کہ ہم کسی اور کے اشارے پر چل رہے ہیں..... حضرتِ علامہ نے ہماری تحریک پر بے حد مسرت کا اظہار کیا اور ہمارا حوصلہ بڑھایا۔ انہوں نے کہا: ''تم نوجوان ہو۔ تمہیں اپنا راستہ خود ڈھونڈنا ہے۔ میرا مشورہ یہ ہے کہ تم کسی سیاسی جماعت کا آلۂ کار نہ بنو۔ مکمل طور پر آزاد رہو۔ جو فیصلہ کرنا ہے خود سوچ سمجھ کر کرو..... ہم نے پوچھا: ہمارے سامنے کون سا نصب العین ہونا چاہیے؟ بولے: یہ بات مجھ سے مت پوچھو۔ خود سوچو اور نصب العین تجویز کرو..... آخر میں ہم نے کہا کہ آپ کی طرف سے ایک پیغام چاہیے..... (انہوں نے) ایک مختصر پیغام لکھوایا: ''میں پنجاب مسلم سٹوڈینٹس فیڈریشن کے قیام کی تجویز کو بنظرِ استحسان دیکھتا ہوں۔ اور مجھے توقع ہے کہ پنجاب کے مسلم طلبہ اس تحریک کو پوری طرح کامیاب بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں‘‘۔ (صفحات:93 تا98)۔
یہ حقائق اس موقف کی سراسر نفی کرتے ہیں کہ ''سید امجد حسین نے حمید نظامی کے ساتھ مل کر علامہ اقبالؒ کی ہدایت پر مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن پنجاب کی بنیاد رکھی‘‘۔ بلکہ علامہ صاحبؒ کو تو فیڈریشن کے قیام کے بعد اس کا علم ہوا۔ یہی صورت قائد اعظمؒ کے سلسلے میں بھی تھی۔ مثلاً ڈاکٹر عبدالسلام خورشید لکھتے ہیں: ''اسی دوران میں میں نے قائد اعظم محمد علی جناحؒ کو خط لکھا اور ان سے پیغام طلب کیا۔ انہوں نے بہ کمال شفقت حوصلہ افزائی فرمائی۔ اور یہ جواب بھیجا: ''آپ کا مکتوب مورخہ 10 ستمبر مل گیا جس کے لیے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں خوش ہوں کہ آپ کو اپنے صوبے کی بڑی بڑی شخصیتوں، سر محمد اقبال، مولانا ظفر علی خان، ملک برکت علی اور نواب شاہ نواز آف ممدوٹ کا تعاون اور حمایت حاصل ہے۔ میں آپ کی کامیابی چاہتا ہوں۔
''آج مسلمانوں کے لیے سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ وہ منظم ہو کر اپنی واحد جماعت آل انڈیا مسلم لیگ کے پلیٹ فارم اور اس کے جھنڈے تلے جمع ہو جائیں۔ ہماری امید ان نوجوانوں سے وابستہ ہے جنہیں بہت جلد اپنے فوری مستقبل کا بوجھ اور ذمہ داری سنبھالنی ہے۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ آج کل جو صورت موجود ہے اور حالات جس انداز سے کروٹ لے رہے ہیں، اگر مسلمان منظم نہ ہوئے اور ان میں اتحاد پیدا نہ ہوا تو نہ صرف ان کے کچلے جانے کا امکان ہے بلکہ ملک کے قومی امور میں، حکومت میں اور آنے والے نظام حکومت میں انہیں اپنے مناسب مقام سے ملیامیٹ کر دیا جائے گا۔ اس لیے میں نوجوانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ خیالی تصورات سے گمراہ نہ ہوں بلکہ ان حقائق کی روشنی میں جو آج ہمیں درپیش ہیں، عمل پسند مردوں کی طرح کام کریں۔ میں آپ کی مساعی کی کامیابی کا متمنی ہوں‘‘۔
قائد اعظمؒ کا پیغام خاص اہمیت کا حامل تھا کیونکہ وہ آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے بانیوں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی رائے کافی عرصہ یہ رہی تھی کہ طلبہ تنازعی سیاست سے بالاتر رہتے ہوئے اور بلا لحاظ مذہب و ملت ایک ہی جماعت میں رہیں۔ لیکن جب انہوں نے سٹوڈنٹس فیڈریشن کو کانگرس اور مہا سبھائی عناصر کا آلۂ کار بنتے دیکھا اور مسلم طلبہ کے جوش و خروش کا مشاہدہ کیا تو اس موقف سے ہٹ گئے۔ ان کے پیغام نے ہمارے عزائم کو دو آتشہ کر دیا۔ (ص:100و 101)۔
یہ تفصیل مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز کے اس دعوے کو غلط ثابت کرتی ہے کہ ''قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے حمید نظامی کی سربراہی میں مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کی بنیاد رکھی‘‘۔
تو یہ کہنا کہ حمید نظامی نے پنجاب مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کی بنیاد علامہ اقبالؒ یا قائد اعظمؒ کی ہدایت پر رکھی، سراسر غلط ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *