سکاٹ لینڈ کی آزادی کی بحث

Irfan Hussainڈیویز سے شمال کی طرف ڈرائیو کرتے ہوئے سکاٹ لینڈ کی سیر کے دوران مجھے یہ دیکھ کر بہت حیرت ہوئی کہ یہاں مختلف آبادیوں کے درمیان بہت وسیع اور خالی علاقہ موجود ہے۔ اس کی کل آبادی 5.3 ملین ہے اور اس کا ارتکاز ہر جگہ یکساں نہیں ہے۔ اس کا ستر فیصد ارتکاز گلاسگو ایڈن برگ کی پٹی کے ساتھ ساتھ ہے جبکہ باقی تیس فیصد آبادی دیہاتی علاقوں ، جہاں ہزاروں فارمز اور مچھلی فارمز ہیں ، کے درمیان بکھری ہوئی ہے۔
ہم نے راستے میں کچھ دوستوں کے ہاں قیام کیا۔ ان میں سے دو کسان ہیں اور ان کے پاس وسیع رقبہ اور بہت زیادہ تعداد میں مویشی اور بھیڑیں ہیں۔ تاہم ان کو یورپی یونین کی طرف سے ملنے والی امدادی قیمت کی وجہ سے ہی منافع ہوتا ہے۔ یہاں موجود پہاڑی علاقوں پر زندگی دشوار ہے کیونکہ یہاں کی زمین پر صرف بھیڑبکریاں ہی پل سکتی ہیں ، یہ دیگر زرعی پیداوار کے لیے موزوں نہیں ہے۔ تاہم کاروباری ذہنیت رکھنے والے سکاٹ باشندوں نے پیسہ کمانے کے دیگر ذرائع تلاش کرلیے ہیں۔ اس کا ایک چھوٹا سا قصبہAyr، جس کی آبادی دوہزار نفوس پر مشتمل ہے ، کے ارد گرد گالف کے سات میدان ہیں۔ مجھے سفر کے دوران بہت سے گالف کے میدان دیکھنے کو ملے، اور اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کیونکہ یہ کھیل سکاٹ لینڈ سے ہی شروع ہواتھا۔
یہاں شکار بکثرت ملتا ہے جو برطانیہ اور دنیا کے دیگر ممالک سے آنے والے سیاحوں کے لیے کشش کا باعث ہے۔ یہاں ہرن بڑی تعداد میں موجود ہیں، اس کے علاوہ فیزنٹ (pheasant)، جو خوشنما پروں والا پرندہ ہے، کے شکار کا سیزن بھی شروع ہونے والا ہے۔ خواہشمند شکاری مقامی کسانوں کو رات بسر کرنے، کھانا فراہم کرنے اور ان کے کھیتوں میں شکار کرنے کا بھاری معاوضہ ادا کرتے ہیں۔ بڑی بڑی جاگیروں میں شکار کا منظم طریقے سے اہتمام کیا جاتا ہے، چناچہ وہاں قیام کرنے اور شکار کرنے کی فیس بھی بہت زیادہ ہے۔ موسمِ گرما میں، جب کہ دریاؤں اورجھیلوں میں ٹراؤٹ اور سامن مچھلیاں آجاتی ہیں، مچھلی کا شکار بھی بہت لطف دیتا ہے۔
ممکن ہے کہ یہ پر کشش تفصیل سن کر آپ کو گمان گزرے کے برطانیہ کے اس پرسکون حصے میں سیاسی مسائل نہیں ہوں گے۔نہیں، ایسا نہیں ہے کیونکہ گزشتہ کئی سالوں سے سکاٹ لینڈ کو برطانیہ سے الگ کرنے کا جو مطالبہ زور پکڑتا جارہاتھا، اب منطقی انجام تک پہنچنے والا ہے۔ کم و بیش ایک سال بعد یہ معاملہ طے کرنے کے لیے ریفرنڈم کا انعقاد کیا جائے گا ۔ اگر نصف سے زیادہ بالغ آبادی نے اس کی علیحدگی کے حق میں ووٹ ڈالا تو اسے انگلینڈ، جس کے ساتھ یہ تین صدیوں سے جڑا ہواتھا، سے الگ کر دیا جائے گا۔
1707 میں سکاٹ لینڈ اور انگلینڈ کی پارلیمنٹس کے ایکٹ آف یونین کے ذریعے ان دونوں قوموں کو ملادیا گیا تھا۔ اس وقت سے لے کر آج تک یہ ایک ملک بن کررہتے چلے آرہے ہیں۔ تاہم مسٹر ٹونی بلیئر کی ’’انتقالِ اقتدار ‘‘ کی پالیسی کے تحت سکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ اپنے نمائندے الگ منتخب کرتی ہے جو انگلینڈ کی پارلیمنٹ میں بیٹھتے ہیں۔ اب اگر اکثریت نے ’’ہاں ‘‘کر دی تو سکاٹ لینڈ ایک الگ ملک بن جائے گا۔ ایس این پی(سکاٹش نیشنل پارٹی) کے لیڈر اور سکاٹ لینڈ کے پہلے وزیر ایلکس سلمنڈ (Alex Salmond) انگلینڈ سے علیحدگی کی تحریک میں پیش پیش ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ الگ ہونے کے بعد سکاٹ لینڈ میں دودھ اور شہد کی نہریں بہیں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ خوشحالی ان کی منتظر ہے، بس الگ ہونے کی دیر ہے۔ ان کے تخیل کی وجہ شمالی سمندر سے ملنے والا تیل ہے۔ فی الحال اس تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی برطانیہ کے خزانے میں جارہی ہے۔ سلمنڈ کا کہنا ہے کہ اگر ان کا ملک لندن سے الحاق نہ کرتا تو ان کی حالت بہت بہتر ہوتی۔ اُنہیں امید ہے کہ بطور آزاد ریاست، وہ یورپی یونین کا حصہ بن جائیں گے اور سکاٹ لینڈ کے کاشتکار یورپی یونین کی طرف سے ملنے والی امدادی قیمت کا فائدہ اٹھائیں گے۔
لندن اور سکاٹ لینڈ کے درمیان ایک بڑا تنازعہ برطانیہ کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے رہا ہے۔ سکاٹ لینڈ کے بہت سے باشندے اس بات پر نالاں ہیں کہ انگلینڈ نے اُنہیں ان جنگوں میں دھکیل دیا جو’’ان کی جنگیں نہیں ہیں‘‘۔ اس کے علاوہ برطانیہ کی جوہری طاقت سے چلنے والی آبدوزیں ، جو Faslane کی بندرگاہ پر کھڑی ہیں، مقامی باشندوں کے لیے بے چینی کا باعث ہیں۔ سلمنڈ کا کہنا ہے کہ اگر وہ ریفرنڈم جیت گئے تو وہ ان آبدوزوں ، جو ٹرائی ڈنٹ میزائلوں سے لیس ہیں، کو ہٹانے کا مطالبہ کریں گے۔ حالیہ دنوں منظرِ عام پر آنے والی ایک خفیہ سرکاری دستاویز کے مطابق سکاٹ لینڈ کی علیحدگی کی صورت میں برطانیہ اس بندگاہ پر زبردستی قبضہ کرلے گا۔ اس پر سکاٹ لینڈ کی طرف سے شدید ردِ عمل سامنے آیا۔ سلمنڈ نے لندن پر الزام لگایا کہ وہ ان کے ساتھ ویسا سلوک کرنا چاہتے ہیں جیسا پہلی خلیجی جنگ سے پہلے عراق نے کویت کے ساتھ کیا تھا۔ برطانوی حکومت اس خدشے کی تردید کرتی ہے۔
تاہم ایس این پی اور سلمنڈ کی طرف سے مچائے جانے والے تمام تر شور اور جذباتی نعروں کے باوجود ایسا لگتاہے کہ اگلے سال ریفرنڈم میں علیحدگی کی تجویز رد کر دی جائے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سکاٹ لینڈ کے زیادہ تر باشندے موجودہ صورتِ حال سے مطمئن ہیں اور ان کا خیال ہے کہ ایس این پی کی طرف سے مچایا ہوا شور بے بنیاد ہے۔ جن افراد سے بھی مجھے بات کرنے کا اتفاق ہوا، ان کا کہنا تھا کہ الگ ہونے میں ان کا کوئی مفاد وابستہ نہیں ہے، بلکہ بہت سے تجزیاتی جائزے ظاہر کرتے ہیں کہ الگ ہوکر ان پر مالی بوجھ بڑھ جائے گا کیونکہ اُنہیں اپنی دفاعی قوت تشکیل دینا پڑ ے گی، حکومتی مشینری کا بوجھ برداشت کرنا ہوگا اور تمام دنیا میں سفارت خانے کھولنے ہوں گے۔
اس کے علاوہ کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ سکاٹ لینڈ یورپی یونین کا رکن بن سکے۔ اس کے لیے تمام رکن ممالک کا اتفاق ضروری ہے، تب ہے کوئی ریاست یورپی یونین کا حصہ بن سکتی ہے۔ سپین نے ابھی سے واضح کردیا ہے کہ وہ سکاٹ لینڈ کے خلاف ووٹ دے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سکاٹ لینڈ کی علیحدگی سپین کے اندر چلنے والی علیحدگی کی تحریکوں، Basque اورCatalan کی حوصلہ افزائی کرے گی۔ نیٹو نے بھی اس بات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ سکاٹ لینڈ Faslane سے برطانوی بحری بیڑے کو نکال دینا چاہتا ہے۔ سلمنڈ جوہری ہتھیاروں کے خلاف ہے، چناچہ اُسے اپنے وطن کے تحفظ کے لیے نیٹو کی عسکری طاقت پر انحصار کرنا پڑے گا کیونکہ سکاٹ لینڈ خود اپنے وسائل سے طاقت ور فوج نہیں رکھ سکتا ہے۔ چناچہ جب ایس این پی اور سلمنڈ علیحدگی کے لیے بہت پرجوش باتیں کرتے ہیں تو ٹھنڈے دل سے سوچنے والے سکاٹ باشندے ان کو خاطر میں نہیں لاتے ہیں۔
گزشتہ ایک سال سے ، جب سے ایس این پی نے علیحدگی کی تحریک شروع کی ہے، کیے جانے والے سروے ظاہر کرتے ہیں کہ ’’ہاں ‘‘ کہنے والوں کی تعداد چالیس فیصد سے بھی کم ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ مخالفت کرنے والے پچاس فیصد سے زائد ہیں، چناچہ ، تاوقتیکہ کوئی بہت بڑا سانحہ نہ ہوجائے، سکاٹ لینڈ کی برطانیہ سے علیحدگی کے امکانات معدوم ہیں۔ دوسری طرف سلمنڈ کو امید ہے کہ اگلے سال ایڈن برگ میں ہونے والی کامن ویلتھ گیمز عوام کے قومی پرستی کے جذبات کو ابھار کر ’’ہاں ‘‘ پر مہر لگانے کا سامان کردیں گی۔ تاہم اگرسلمنڈ کی تحریک ناکام بھی ہوگئی، تو بھی بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ وہ وائٹ ھال، لندن، سے بہت سی رعایتیں لینے میں کامیاب ہوجائے گا ۔ ریفرنڈم کے نتائج کچھ بھی ہوں، اسے سکاٹ لینڈ کی سیاسی تاریخ کے انمٹ کردار کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
جب میں سکاٹ لینڈ کی آزادی کے حوالے سے پرجوش، مگر امن مباحثے سنتاہوں تو مجھے اپنے وطن پاکستان کی یاد آتی ہے جہاں بلوچ علیحدگی پسندوں نے پاک فوج کے خلاف خونی جنگ شروع کررکھی ہے۔ اس وقت بہت سے گروہ بلوچستان میں علیحدگی کے لیے ہی لڑ رہے ہیں۔ کتنا اچھا ہواگر گولیاں چلانے کی بجائے ہم مل بیٹھ کر ایسے معاملات پر بات کر لیا کریں ۔ کیا ہم اپنے وطن میں گولی کی جگہ ووٹ کی طاقت سے فیصلے نہیں کر سکتے ہیں؟

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں reproduction کی اجازت نہیں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *