بعد میں آئیے گا

Afshan Huma

دنیا کے دیگر ممالک کی طرح، پاکستان میں ہماری سہولت کے لئے بہت سے ادارے قائم ہیں؛ ادارے بنائے ہی سہولت کے لیے جاتے ہیں۔ ہے نا؟ چند روز قبل مجھے ایک پولیس ستیشن میں جانے کا اتفاق ہوا ، مجھے اپنا شانختی کارڈ کھو جانے کی رپورٹ کروانا تھی۔ گیٹ پر ہی ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ مجھے ایفیڈیوٹ بنوانا پڑے گا، تقریبا" چار بجے کے لگ بھگ ایک شٹامپ فروش کے پاس پہنچی تو وہ کھانا کھا نے والا تھا لہذا اس نے کہا بعد میں آئیے گا۔ اسی شام ایفیڈیوٹ بنوا کر تھانے گئی تو رپورٹ لکھنے والے صاحب کہنے لگے بعد میں آئیے گا کم از کم ایک دن کا پراسیس ہوتا ہے۔ میرے استفسار پر انہوں نے وہ پراسیس میرے سامنے پانچ منٹ میں کر ڈالا۔۔۔کافی لمبا پراسیس تھا انہوں نے تھوک لگا کر شناختی کارڈ کی کاپی کو چاروں جانب سے کاٹا ایک لائین لکھی اور دستخط  کیے اور میرے انگوٹھے کا نشان لگوا کر مجھے ایک کاپی تھما دی۔۔۔میں سوچتی ہی رہی کہ اتنا لمبا پراسیس انہوں نے پانچ منٹ میں کیسے کر لیا۔

گزشتہ ماہ میں ایک گاڑی کی رجسٹریشن کروانے گئی تو پتہ چلا آن لائن ڈیٹا بیس میں غلطی ہے میں کار ڈیلر کے کہنے پر کڑی دوپہر میں دوبارہ گئی تو کمپیوٹر کے سامنے بیٹھے شخص نے فرمایا کل آئیے گا۔ میرے اسرار پر بھی وہ نہ مانے اور اسی روز شام پانچ بجے انہوں نے مجھے بتلایا کہ ڈیٹا ابھی بھی غلط ہے لہذا مجھے دوبارہ آنا ہو گا۔ میں نے اپنے آس پاس یہ رویہ بارہا دیکھا ہے۔ میں اپنی ہی یونیورسٹی میں کوئی کاغزات بنواتی ہوں تو ان کے لیے مجھے کم از کم تین چکر لگانے پڑتے ہیں یا اللہ بھلا کرے میرے سٹاف کا وہ ایک دو چکر میری جگہ لگا آتے ہیں۔

آج میں واپڈا آفس گئی تھی، مجھے خوشی تھی کہ پنجاب حکومت کے دفاتر بروز ہفتہ بھی کھلے رہتے ہیں لیکن پتہ یہ چلا کہ آج تو وہ میری شکایت بھی درج نہیں کریں گے۔ اور مجھے سوموار ہی کو جانا ہو گا دوبارہ۔ میں نے بھرپور کوشش کی کہ انہیں منا لوں لیکن انہوں نے انتہائی سادگی سے مجھے بتلا دیا اور سمجھا بھی دیا کہ ضد کرنا بے سود ہو گا۔

ہمارے ہاں ادارے تو ہیں اور ان میں اہلکار بھی ہیں لیکن کیا وجہ ہے کہ ان کا دل کرتا ہے کہ کسی کا بھی مسئلہ ایک بار میں حل نہ ہو پائے۔ اس طرح کے پراسیس سے کوئی زہنی سکون حاصل ہوتا ہے نہ دور رس فائدہ' لیکن شاید کوئی ایسی تسلی ہوتی ہے جس سے میں نا واقف ہوں۔ میں نے اپنے ایک سینئر پروفیسر سے ایک بات سیکھے تھی اور وہ یہ کہ فائلیں اپنی میز پر ۲۴ گھنٹے سے زیادہ مت رہنے دینا وہ بھی اس صورت میں اگر تم ایک دن میں وہ کام نہ کر پائو۔ لیکن مجھے لگتا ہے اکثر سرکاری اداروں میں اس سے برعکس تربیت دی گئِ ہے۔

Image result for customer care

ہم نے ون ونڈو پراسیسنگ تو اپنائَی ہے لیکن اس ون ونڈو پر ایک سائل کو کتنی بار آنا پڑتا ہے یہ کوئی نہیں جانتا، ہم نے آن لائن کملینٹ باکسز بنائے ہیں لیکن اس کمپلینٹ کے بعد اس کا حل کب اور کیسے ہو گا یہ کوئی نہیں جانتا، ٹریکنگ سسٹم یہ بتلاتے ہیں کہ آپ کی درخواست پر کام جاری ہے لیکن کام کب ختم ہو گا یہ خالصتا" آپ کی قسمت ہے۔ سب سے آسان حل کالنگ سینٹر میں فون نہ اٹھانا ہے۔ ای میل موصول ہونے کے بعد اس کا جواب دینا یا نہ دینا موڈ پر منحصر ہے اور میں نے یہ بھی سنا کہ آپ کی ایل میل تو موصول ہی نہیں ہوئی۔۔۔اب اس کے بعد تو مزید گفتگو کی گنجائش ہی نہیں رہتی

ہمارے ہاں مسئلہ اداروں اور سسٹم کا نہیں، مسئلہ ہمارے لوگوں کی سستی، کاہلی اور لا پرواہی ہے، سائل یا کسٹمر کے لیے کوئی احساس یا ہمدردی نہ تو دکھائی دیتی ہے نہ لوگوں کے خیال میں یہ کوئی لازمی عنصر ہے۔ کسٹمر سروس کا جس قدر مذاق ہم نے بنا رکھا ہے اس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی، ہم لوگوں کی مجبوری نہ سمجھتے ہیں نہ سننا پسند کرتے ہیں بس ایک ہی جملہ کافی ہے۔۔۔ آپ کی درخواست موصول ہو گئی ہے ہم اس پر کام کر رہے ہیں یا یہ کہ "بعد میں آئیے گا"۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *