چاند پر دس ایکڑ اراضی حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی

moonمسٹر توقیر جیلانی پہلے پاکستانی اور ایشیائی باشندے ہیں جنہوں نے لونا راسٹیٹس ڈویژن پر کوئی جائیداد حاصل کی ہے۔ اس سلسلے میں باقاعدہ طور پر ایک دستاویز مون ڈیڈ پر بھی دستخط ہوئے۔ جائیداد کی یہ دستاویز توقیر جیلانی اور ایک امریکی فرم بی ایف ایم کے درمیان طے پائی۔ فروخت کی دستاویز موجودہ امریکی قوانین کے تحت امریکی انشورنس اینڈ ریکارڈنگ آفس میں محفوظ رکھی گئی ہے۔ توقیر جیلانی امریکن انسٹی ٹیوٹ آف ایروناٹکس اینڈ آسٹروناٹکس کے رکن بھی ہیں جنہوں نے پاکستان میں سیٹلائٹ کمیونی کیشن سسٹم اور مائیکرو ویو سسٹم انجینئرنگ کی صنعت میں سبقت حاصل کی۔ دونوں فریقوں کے درمیان طے پانے والی جائیداد کی اس دستاویز میں اراضی کا حدود اربعہ بھی بیان کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے لوناراسٹیٹس نمبر 1میں جہاں یہ زمین الاٹ کی گئی ہے کہ آتش فشاں پہاڑوں کے دہانے عام دور بین یا ٹیلی سکوپ سے آسانی سے دیکھے جا سکتے ہیں۔ راولپنڈی کے رہنے والے توقیر جیلانی نے چاند پر دس ایکڑ زمین الاٹ کرا کر پاکستان کو ان چار ممالک کی صف میں لاکھڑا کیا ہے جن کے شہری چاند پر ملکیت رکھتے ہیں۔ توقیر جیلانی نے توقع ظاہر کی کہ اگلی دہائی میں چاند پر آبادی شروع ہو جائے گی کیوں کہ جاپان اور چین کے مغربی ممالک کے ساتھ مقابلہ میں آ جانے سے ایرو سپیس انڈسٹری تجارتی طور پر فروغ پا رہی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *