استعفیٰ دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا، وزیر اعظم

NawazSharif

 وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ قوم دیکھ رہی ہے کہ میرا ضمیر صاف ہے ، استعفیٰ نہیں دوں گا، کیا ان لوگوں کے کہنے پر استعفیٰ دے دوں جنہیں عوام نے ایک بار نہیں بار بار ٹھکرایا؟ 2013 کے انتخابات کے بعد سے ہی ایک بلا جواز مہم کا آغاز کر دیا گیا، چار برس کے دوران کیا کچھ ہوتا رہا، اس وقت بیان نہیں کر سکتا، اب یہ تیسرا حملہ ہو رہا ہے ، خدا اور عوام ساتھ ہیں ،ملک کو ایک بار پھر پیچھے کی طرف دھکیلنے کی کوشش ہو رہی ہے ، متنازع جے آئی ٹی کی متنازع رپورٹ مخالفین کے بے بنیاد الزامات کا مجموعہ ہے ، چار ہزار صفحات میں کرپشن و بدعنوانی کا کوئی الزام تک نہیں لگایا جا سکا، ہمارے خاندان کے 62 سالہ کاروباری معاملات کو مفروضوں، سورس رپورٹوں، بہتانوں اور الزام تراشیوں کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔ ہمارے سیکڑوں ترقیاتی منصوبوں میں ایک پیسے کی بد عنوانی، کمیشن یا کک بیکس کا کوئی داغ نہیں، توانائی کے درجنوں منصوبے ہمارے دور میں لگے اور مسلسل لگ رہے ہیں ، فوج کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ، کراچی میں امن قائم کیا، بلوچستان میں پاکستان کے ترانے گونج رہے ہیں، معیشت شاندار ترقی کر رہی ہے ، تخریبی سیاسی عناصر کی سازشوں کا سلسلہ نہ ہو تو ہم 7 سے بھی زیادہ شرح نمو حاصل کر سکتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ رپورٹ میں ہمارے موقف اور ثبوتوں کو جھٹلانے کے لئے کوئی ٹھوس دستاویز پیش نہیں کی گئی، کوئی ای او بی آئی، نندی پور، رینٹل پاور، نیشنل انشورنس کا کیس ہے تو سامنے لائیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ صورتحال پاکستان کی 70 سالہ تاریخ کا ہی ایک عکس ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ میں کوئی ایک جملہ ایسا نہیں جس سے اشارہ بھی ملے کہ نواز شریف کرپشن کا مرتکب ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میرے اقتدار کے پانچوں ادوار اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے ادوار میں اگر ہمارے خلاف رتی بھر کرپشن کا بھی کوئی کیس ہے تو سامنے لایا جائے ۔ اسکینڈل تو دور کی بات، رپورٹ کے چار ہزار صفحات میں کرپشن، بدعنوانی کا کوئی الزام تک نہیں لگایا جا سکا ۔ انہوں نے چیلنج کیا کہ اگر ان کے سیکڑوں ترقیاتی منصوبوں میں کوئی ایک پیسے کی کک بیکس، کمیشن یا بدعنوانی کا داغ ہے تو سامنے لایا جائے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کچھ تو بتاؤ کہ کسی کنٹریکٹ، کسی ٹھیکے ، کسی منصوبے میں نواز شریف نے رتی بھر بدعنوانی کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میرے راستے میں مشکلات کھڑی کی گئیں لیکن میں اپنے نظریے اور موقف پر جما رہا۔ مجھے نااہل قرار دے کر انتخابات سے باہر کیا گیا، لیکن ہمت نہیں ہاری۔ مشرف کی آمریت کے سامنے سر نہیں جھکایا ۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں نے جان ہتھیلی پر رکھ کر عدلیہ بحالی کے لئے لانگ مارچ کیا ۔ آج جو بڑے بڑے لیڈر بنے بیٹھے ہیں اْس وقت چھپ گئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے امریکی اور برطانوی رہنماؤں کے فون آئے کہ آپ کی جان کو خطرہ ہے ، لانگ مارچ کے لئے نہ نکلیں ، میں جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی پر یقین رکھتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ آزادی کے لئے لانگ مارچ ایک مشکل مشن تھا ، لیکن ہم مخلص تھے ، اس لئے اللہ نے کامیابی عطا کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ 2013 کے انتخابات کے بعد ہی ایک بلا جواز مہم کا آغاز کردیا گیا ۔ پچھلے چار برس اور دھرنوں کے دوران کیا کچھ ہوتا رہا، میں اس وقت بیان نہیں کر سکتا۔ انہوں نے ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب آپ پر یہ تیسرا حملہ ہو رہا ہے لیکن اللہ ہمارے ساتھ ہے اور عوام ہمارے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دکھ ہوتا ہے کہ سیاسی عدم استحکام اور بے یقینی پیدا کرنے والے عناصر ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو اندھیروں میں غرق کرنے والوں کا احتساب کون کرے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے فوج کے ساتھ بیٹھ کر دہشت گردی کے خاتمے کا فیصلہ کیا ۔ کراچی کو ہم نے امن و امان دیا، بلوچستان کی صورتحال کو ہم نے سنبھالا جہاں آج پاکستان کا پرچم لہرا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دکھ ہوتا ہے کہ ہماری اتنی محنت کے بعد ملک کو ایک بار پھر پیچھے کی طرف دھکیلنے کی کوشش ہو رہی ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے صرف تین پاور پلانٹس میں 168 ارب روپے کی بچت کی ۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ایسے ہوتے ہیں کرپٹ لوگ؟ وزیر اعظم نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ عدالت ہمارے تحفظات کو سنے گی۔ پارلیمانی پارٹی کے ارکان نے کھڑے ہو کر اور ڈیسک بجا کر وزیر اعظم کے استعفیٰ نہ دینے کے اعلان کا خیرمقدم کیا ۔ پارلیمانی پارٹی نے وزیر اعظم پر بھرپور اعتماد کا اظہار بھی کیا ۔ دنیا نیوز کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ کسی معاملے میں خورد برد کی نہ کبھی کسی این آر او پر دستخط کئے ، ماضی میں بڑی کوشش ہوئی کہ پرویز مشرف سے مل لوں لیکن این آر او سے صاف انکار کیا، تاہم بینظیر بھٹو نے چند ہفتوں بعد جب این آراو پر دستخط کیے تو بہت دکھ ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ بعض دفعہ دل کرتا ہے کہ سب کچھ کہہ دوں لیکن وقت ضرور آئے گا ۔ استعفیٰ دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا ۔ وزیر اعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوام کیلئے آخری دم تک لڑوں گا ۔ ہر سازش اور الزام کا ڈٹ کر آئینی و قانونی دفاع کریں گے ۔ ہمیں ملک کو روشن کرنے کی سزا دی جا رہی ہے ، پاکستان کو دوبارہ سے پیچھے کی جانب دھکیلا جارہا ہے لیکن میں ملک کو پیچھے نہیں جانے دوں گا ۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *